امریکی فوجی انخلا ء کے بعد افغان خواتین کے حالات پر تشویش ہے 

امریکی فوجی انخلا ء کے بعد افغان خواتین کے حالات پر تشویش ہے 

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف)سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اس سے جو خلاء پیدا ہوگا اس سے دہشت گرد گروہ پُر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ تبصرہ امریکی تارکین وطن کی اپنے ہاتھوں بنائی گئی پینٹنگز پر مشتمل اپنی کتاب کے افتتاح کے موقع پر ”فوکس نیوز“ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔سانحہ نائن الیون کے کے بعد صدر بش کے دور میں امریکی فوج نے القاعدہ کے تعاقب میں افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کرکے اس پر قبضہ کر لیا تھا اور اب صدر بائیڈن نے وہاں سے بتدریج انخلاء کے بعد باقی ماندہ اڑھائی ہزار فوجیوں کو بھی رواں برس گیارہ ستمبر تک واپس بلانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلاء طالبان کیساتھ طے پانیوالے ایک معاہدے کے تحت ہو رہا ہے جس کے بعد وہاں پیدا ہونیوالے حالات کے بارے میں مسلسل تحفظات کا اظہار جاری ہے۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا افغانستا ن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لیڈر ”رویا محبوب“ بھی امریکہ کے تارکین وطن کی اس فہرست میں شامل ہے جن کی پینٹنگز انہو ں نے اپنی کتاب میں شامل کی ہیں۔ انہوں نے اس خاتون سے بھی انخلاء کے بعد افغانستان میں پیدا ہونیوالے حالات پر بات چیت کی جس کا انٹرویو میں ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا دوسروں کی طرح وہ بھی اس بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ سابق صدر نے کہا  افغانستان میں عمومی طور پر خواتین کو دوسرے درجے کی شہری شمار کیا جاتاہے۔ امریکی انخلاء کے بعد اس بات کا واضح امکان ہے کہ اس  خلاء کو وہ انتہا پسند گروہ پُر کریں گے جو خواتین کو برابر کے حقوق اور تعلیم دینے کے حق میں نہیں۔ امریکی فوج کیساتھ نیٹو ممالک کے تقر یباً سات ہزار فوجی اور امریکی کنٹریکٹرز بھی افغانستان سے رخصت ہو رہے ہیں۔ امریکی میڈیا نے نیٹو حکام کا ایک بیان بھی نشر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے ان کا ادارہ افغان فوجیوں کی تربیت کا سلسلہ انخلاء کے بعد بھی جاری رکھے گا، تاہم انہوں نے فی الحال وا ضح نہیں کیا کہ یہ کس طرح ہوگا۔

بش

مزید :

صفحہ اول -