بلی تھیلے سے باہر

بلی تھیلے سے باہر
 بلی تھیلے سے باہر

  

لو جی بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ انصاف کی دھائی دیتے دیتے جہانگیر ترین نے قومی و صوبائی اسمبلی پنجاب میں اپنے فارورڈ بلاک کا باضابطہ اعلان کردیاہے۔ قومی اسمبلی میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکنے والے راجہ ریاض اور صوبائی اسمبلی میں سعید اکبر نوانی پارلیمانی لیڈر ٹھہرے۔ سیاسی فیصلوں کا اختیار جہانگیر ترین کو تفویض اور ان سے وفاداری کو بنیادی شرط قرار دے دیا گیا۔ ہم توپہلے دن ہی سے کہہ رہے ہیں کہ جہانگیر ترین کو ہلکا نہ لیں، یہ پی ٹی آئی میں وہ متبادل قیادت ہے، جسے مقتدر قوتوں کی مکمل آشیر باد سے عمران خان سے مقابل تیار کیا جارہا ہے۔ عمران خان چاہے دنیا بھر میں ایک مقبول شخصیت ہی سہی، پاکستانی سیاست میں پیسہ کی قوت سے کیسے انکار کیا جاسکتا ہے۔ جہانگیر ترین اسی قوت سے نہ صرف خود مالا مال ہیں، بلکہ اپنے ساتھ چلنے والوں کو بھی اس گنگا کا خوب اشنان کروا رہے ہیں۔ ماضی میں عمران خان نے بھی تو اسلی لئے انہیں اپنے ساتھ رکھا تھا۔ جہانگیر ترین کے جہاز، گاڑیاں اور پیسے کی ریل پیل نہ ہوتی تو بھلا عمران خان کیسے اپنی احتجاجی تحریک کو چلا کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوسکتے تھے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان بھی انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اب جہانگیر ترین بھی انصاف کے لیے گریہ و زاری کرتے ہوئے اسی سفر پر گامزن نظر آتے ہیں۔

دیکھتے ہیں کہ انہیں منزل ملتی ہے یا نہیں۔کچھ روز قبل صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا ہمارا نظام ِ انصافطاقتور کو نہیں پکڑ سکتا،یہاں پر ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ یہ صرف ایک چھوٹے سے طبقہ کا پاکستان ہے،ایلیٹ طبقے نے ملک کو ہر طرح اپنے قابو میں لیا ہوا ہے،حکومتوں میں آنے کے بعد اربوں، کھربوں پتی ہونے والے احتساب کے لئے تیا رنہیں کہ ہم قانون سے اوپر ہیں،پاکستان میں طاقتور کے لئے قانون نہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا یقینا درست ہے کیونکہ یہ کوئی امرِ پوشیدہ نہیں کہ انصاف کا خاتمہ معاشروں کی تباہی کا موجب بنتا ہے،ایسے میں اگر عدالتوں میں انصاف بکنے لگے اور کوتوال شہر اور اسکے ہم رکابوں کی فوج ظفر موج بھی ظالموں اور مجرموں کے ساتھ ہم نوالہ اور ہم پیالہ بن کر انکے لئے ایک مضبوط سائبان بن جائے تو بے کسوں، بے بسوں اورمظلوموں کے لئے ایک ایسی شب ِ اسود طاری ہوتی ہے جہاں چار کھونٹ محض سوختہ حال عوام کی سسکیاں اور چیخیں ہی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں۔ اوراگر یہ سلسلہ طوالت اختیار کرلے تو پھر ایک ایسا منحوس چکر چلنا شروع ہوتا ہے جو اس امر کا پیامبر ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر اس میں محض بے بس و بے اختیار ہی نہیں،بلکہ سب پسنے والے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کرتا ہے اور کتنی طاقت و اختیار کا مالک ہے۔

کسی نہ کسی شکل میں تباہی سب کا مقدرہوتی ہے۔ دوسروں کونا انصافی و ظلم کانشانہ بنانے والے بالآخر خود بھی اسکا نشانہ بنتے ہیں۔ اب اسے قسمت کی ستم ظریفی کہیں یا پھر معاشرے میں بسنے والوں کے اعمالِ مجموعہ،ملک خدادِ پاکستان میں تیزی سے دگرگوں ہوتے ہوئے حالات اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ وہ منحوس چکر یہاں بھی چل چکا ہے جس کو روکنے کے لئے اگر اسکے سامنے بلا تاخیر انصاف اور مظلوم کی داد رسی کا بند نہ باندھا گیا تو پھر چوکوں اور چوراہوں پر کیا ہوگا، کسی کو مزید بتانے کی ضرورت نہیں۔ نشاندھی کرنے والی تمام علامتیں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ افسوس تو اس امر پر ہے کہ اربابِ اختیار مستیِ طاقت و حکومت میں اسقدر مستغرق ہیں کہ انہیں کوئی ہوش ہی نہیں وہ شایدہنوز اس سے بے بہرہ ہیں کہ سمندر میں ایک بڑے طوفان کے آنے سے پہلے خطرے کے تمام الارم بج اوربتیاں جل چکی ہیں اب تو ایک بڑی لہر کے آنے سے قبل پیداہونے والا گہرا سکوت ہے۔ اگرچہ کہ فراہمیِ انصاف کے معانی تو ہر شعبہ ھائے زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔

لوگوں سے ظلم و زیادتی تو کسی بھی انداز میں نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی یہ کسی مہذب معاشرے کے لئے قابل قبول ہے تاہم جب ہم نظام انصاف کی بات کرتے ہیں تو اس سے خاص مراد ریاست کے تین اہم ادارے پولیس، عدالتیں اور جیل خانہ جات ہیں۔ یہ کہنا بجا طور پر غلط نہیں کہ ماتحت عدالتوں میں خاص طور پر انصاف نہیں ملتا بلکہ بکتا ہے۔ جیسے ہی سائل انصاف کے حصول کی تلاش میں ان ماتحت عدالتوں میں پہنچتا ہے تو عدالتی نظام کی خامیاں اسے چکرا کر رکھ دیتی ہیں۔ اگر سائل کی جیب میں پیسہ ہے تو گویا اس کے مقدمہ کی فائل کو گویا پہیے لگ جاتے ہیں۔ تاہم جہاں پیسہ ختم ہوا نہیں، فائل بھی وہیں رک جاتی ہے۔ مظلوم سائل نہ جانے کتنی ہی چیرہ دستیوں کو سہتا ہے۔ انصاف کی تلاش میں اسکی زندگی کے نہ جانے کتنے ہی ماہ و سال عدالتوں کے چکر لگانے میں صرف ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اسے بتایا جاتا ہے کہ آج کیس کی سماعت نہیں ہوسکے گی کیونکہ وکلا ہڑتال پر ہیں۔ سائل کا دل یہ سن کر بیٹھ جاتا ہے کہ جب فیصلہ کے وقت اسے بتایا جاتا ہے کہ اب مخالف وکیل صاحب نے ایک اور درخواست دے دی ہے اسلئے اب پہلے درخواست پر سماعت ہوگی اور پھر کیس سنا جائیگا۔ کبھی محرم کی چھٹیاں تو کبھی رمضان کی چھٹیاں،کبھی گرمیوں کی چھٹیاں تو کبھی عدالتی عملہ ہی چھٹی پر۔

مزید برآں مقدمات کی کئی تاریخیں پڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں اپنے یا مخالف وکیل صاحب نے منشی بھیج دیا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں اگلی تاریخ دے دیں۔ یعنی تاریخ پر تاریخ، قصہ مختصر۔ ویسے بات یہاں تک بھی رہ جاتی تو عوام اور سائلین صبر کرلیتے تاہم حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ایسے واقعات بھی تواتر سے رونما ہورہے ہیں جن میں وکلا سائلین کے ساتھ ساتھ ججوں کو بھی اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب ماڈل ٹان لاہور کی ایک ماتحت عدالت میں بھرے مجمع اور جج کے سامنے ایک کالے کوٹ والے اور اسکے ساتھیوں نے ایک سائل کو جس بری طرح ڈنڈوں اور مکوں سے تششد کا نشانہ بنایا اور ننگی گالیاں دیں،یقینا انتہائی شرمناک ہے۔ افسوس امر یہ ہے کہ عدالت میں اپنی غنڈہ گردی کا سکہ جمانے میں کامیاب رہنے والے اس وکیل کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوئی ویے ہو بھی کیسے اسکے بیشتر کوٹ بند بھائی اسی قماش کے جو ٹھہرے جو اب عدالتوں سے انصاف جرح اور دلیل سے نہیں بلکہ ڈنڈے اورسوٹے کے زور پر لے رہے ہیں۔ ماتحت عدالتوں کے ججوں اور سائلین پر تشدد کرکے درحقیقت کالے کوٹ والے اپنے ہی پیشے پر ایک کالی سیاہی پھیر رہے ہیں۔ وزیر اعظم سے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ جناب عالی! نظام انصاف کی جن خرابیوں کی آپ نے نشاندھی کی ہے اسے درست کرنا بھی آپ ہی کہ ذمہ داری ہے اس کے لئے آسمان سے کوئی علیحدہ سے فرشتوں کا نزول نہیں ہونا۔

مزید :

رائے -کالم -