مقدمہ قتل میں طالبہ کو حبس بے جا میں رکھنے کا نوٹس، سی سی پی او کو انکوائری کا حکم 

  مقدمہ قتل میں طالبہ کو حبس بے جا میں رکھنے کا نوٹس، سی سی پی او کو انکوائری ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس امجد رفیق نے پی ایچ ڈی کی طالبہ کو نامعلوم افراد کے خلاف درج قتل کے مقدمہ میں حبس بے جا میں رکھنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو انکوائری کے احکامات جاری کردئیے ہیں، فاضل جج نے پی ایچ ڈی کی طالبہ ملیحہ طارق کوبیلف کے ذریعے برآمد کروا کر رہا کرتے ہوئے سی سی پی او لاہورکو ہدایت کی کہ وہ ڈی ایس پی سبزہ زار آصف معراج، ایس ایچ او سبزہ زار تصور سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی رپورٹ 14روز میں عدالت میں پیش کریں عدالت نے یہ حکم لڑکی ملیحہ طارق کی والدہ بشری بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا درخواست گزار کے وکیل شیخ آفتاب عمر کا مؤقف ہے کہ پولیس نے درخواست گزا رکی بیٹی پی ایچ ڈی کی طالبہ ملیحہ طارق کو رات گئے گھر میں چھاپہ مار کر اغواء کیا اور نامعلوم مقام پر حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے،مغوی لڑکی ملیحہ طارق پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہے ڈی ایس پی سبزہ زار اور ایس ایچ او سبزہ زار نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ان کے گھر پر بغیر کسی وجہ کے ریڈ کیا اور لڑکی اور اس کے بھائی مہروز کو اٹھا کرلے گئے جبکہ گھر میں موجود موبائل،لیپ ٹاپ سمیت دیگر قیمتی سامان بھی چوری کرلیا۔درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ لڑکی کو برآمد کروا کر رہا کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں، عدالت نے درخواست پر بیلف مقرر کیا اور لڑکی کو عدالت میں پیش کیا گیا تو بیلف نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کو پولیس حکام نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا تھا لڑکی کی گرفتاری بیلف کے جانے کے بعد ڈالی گئی جبکہ پولیس حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ لڑکی کو قتل کے مقدمہ میں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا   اور اس کا جسمانی ریمانڈ بھی لیا گیا   اس پر عدالت نے ریمانڈ معطل کرتے ہوئے لڑکی ملیحہ طارق کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو حکم دیا ہے کہ پولیس افسران کے خلاف انکوائری کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے عدالت نے مذکورہ بالا حکم کے ساتھ کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔؎

انکوائری حکم 

مزید :

صفحہ آخر -