رحیم یار خان: چینی سکینڈل، 29دنوں میں قومی خزانے کو 4کروڑ کا نقصان 

رحیم یار خان: چینی سکینڈل، 29دنوں میں قومی خزانے کو 4کروڑ کا نقصان 

  

 رحیم یارخان (بیورو رپورٹ) رمضان المبارک   میں اشرفیہ اور اے ڈی سی جی کا رمضان کوٹہ میں چینی کا میگا اسکینڈل' 29 دن کے اندر اندر قومی خزانے کو 4 کروڑ کا  نقصان ہوا چینی اسکینڈل میں ملوث اشرفیہ اور کلیدی عہدوں پر براجمان  افسروں کے خلاف انکوائری شروع ہوئی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں گھیری پریشان حال غریب عوام کو (بقیہ نمبر17صفحہ6پر)

ریلیف دینے کے لیے سستے رمضان بازاروں کا انعقاد کیا گیا جہاں عوام کے لیے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی گی تھی اور عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کے لیے ضلع بھر کو 6151 میٹرک ٹن چینی کا کوٹہ دیا گیا جس میں تحصیل رحیم یارخان کے لیے 1870 میٹرک ٹن' صادق آباد کے لیے بھی 1870 میٹرک ٹن' خانپور کے لیے 1205 میٹرک ٹن اور لیاقت پور کے لیے بھی 1205 میٹرک ٹن چینی مختص کی گئی تھی یہ کوٹہ حکومت کی جانب سے چینی کے ان بڑے ڈیلروں کو دیا جانا تھا جو کہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ سیل ٹیکس دہندگان تھے جن میں دو بڑے ڈیلر  نے مبینہ طور پرانتظامیہ کے ایک آفیسر سے معاملات طے پانے پر جمالدین والی شوگر مل یونٹ(1) سے 1205 میٹرک ٹن چینی کی بجائے 2700 میٹرک ٹن چینی اٹھا لی یعنی 1495 میٹرک ٹن چینی اضافی اٹھا، لی ذرئع کے مطابق  اس چینی کا کاغذات میں کہیں ذکر ہی نہ تھا اس لیے ٹیکس صرف 1205 میٹرک ٹن چینی کا ہی ادا کیا گیا اور 1495 میٹرک ٹن چینی کو خفیہ رکھا گیا۔ 65 روپے کے حساب سے خرید کی گی غیر قانونی 1495 میٹرک ٹن چینی کو 29 روز رمضان المبارک میں سٹور کرنے کے بعد 97 روپے کے حساب سے چوہدری ظہیر نامی شخص کے ذریعے سے خفیہ طور پر فروخت کر دیا گیا 1495 میٹرک ٹن چینی کے 125 ٹرک بنتے ہیں اور فی ٹرک میں 240 تھیلے لوڈ ہوتے ہیں جبکہ فی تھیلا 50 کلوگرام کا ہوتا ہے یعنی کل 15 لاکھ کلو گرام چینی کو غیر قانونی طور پر فروخت کر کے 4 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا اور پھر اتنی بھاری مقدار میں چینی کے ٹیکس چوری کی رقم بھی علیحدہ ہے اتنے بڑے چینی کے میگا اسکینڈل میں، کچھ چھوٹے ڈیلر بھی شامل ہیں اور ذرائع کے مطابق اس میں  افسران بھی شامل ہیں جن کی معاونت کے بناء کروڑوں کا ناجائز منافع اور لاکھوں کے ٹیکس کی چوری ناممکن تھی دوسری جانب رمضان المبارک کے اختتام پر چینی کوٹہ کی جانچ پڑتال پر میگا اسکینڈل کا انکشاف ہوتے ہی ڈپٹی کمیشنر ڈاکٹر خرم شہزاد نے مزید تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن اور ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو کاروائی کے لیے ریفر کر دیا ہے شہر کی سماجی شخصیات میں اس بات پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے کہ ضلع کی سب سے اہم کلیدی پوسٹ پر فرائض انجام دیتے ہوئے میگا چینی اسکینڈل میں ملوث کرداروں کے خلاف مکمل انکوائری رپورٹ تیار کر کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب' گورنر پنجاب اور وزیراعظم پاکستان کے پاس کیوں نہ بھیجوائی جبکہ تمام حقائق کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔  دوسری جانب باوثوق ذرائع کے مطابق چینی کے اس میگا اسکینڈل  کی پردہ پوشی کیلئے کاروباری شخصیات نے ملکی سطح پر اعلیٰ کاروباری شخصیات کے ذریعے سے حکومتی سطح پر سفارشات کا سلسلہ خفیہ طور پر شروع کر دیا ہے۔

نوٹس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -