مختلف ٹیکس ختم: بجٹ تیاری میں کسان تنظیموں کو شامل کیا جائے: پاکستان فورم 

مختلف ٹیکس ختم: بجٹ تیاری میں کسان تنظیموں کو شامل کیا جائے: پاکستان فورم 

  

ملتان (سپیشل رپورٹر)پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا درومدآر زراعت پر ہے مگر بدقسمتی سے زراعت ہی کو ہرسال وفاقی و صوبائی بجٹ میں نظر انداز کئے جانا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے،مالی سال 2021-22ء کے بجٹ میں اگر شعبہ زراعت کو نظر انداز کیا گیا تو فوڈ سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت بھی متاثر ہوگی،حکومت بجٹ میں زراعت کو صنعت کادرجہ دیتے ہوئے زرعی مشینری پر جنرل سیلز ٹیکس سمیت(بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

 تمام ٹیکس ختم کرے،کراپ زونگ،سمیت زراعت،آبپاشی اور لائیو سٹاک کے بجٹ میں 100فیصد اضافہ کیا جائے،بجٹ تیاری میں کسانوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے،ان خیالات کا اظہار مختلف کسان تنظمیوں کے عہدیداروں نے "پاکستان پری بجٹ موبائل فورم "میں اظہا ر خیا ل کرتے ہوئے کیا۔پاکستان پری بجٹ فورم سے اظہار خیال کرتے ہوئے پنجاب سمال فارمر ایسوسی ایشن کے صدر راؤ افسر علی نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لہذا حکومت کا فوکس بھی زراعت کی ترقی پر ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ہمار ا مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مالی سال 2021-22ء میں شعبہ زراعت کو صنعت کا درجہ دیتے ہوئے زرعی ایمرجنسی نافذ کرکے زرعی قرضوں اور مشینری پر جنرل سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے اور بنکوں کا مارک اپ 18فیصد سے کم کرکے 6فیصد پر لایا جائے۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر چوہدری انور نے کہا کہ زراعت حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ فوڈ سیکورٹی آنے والے وقتوں میں سنگین مسئلہ اختیار کر رہی ہے انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ بجٹ تیاری میں کسان نمائندوں کو شامل کرکے ان کی رائے لی جائے اور فوری طور پر ہرفصل کی کاشت سے پہلے اس کی پیداواری قیمتوں کا اعلان کیا جائے،کسان کو بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کے ساتھ ساتھ تمام ٹیکس معاف کئے جائیں۔انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم سیزن کے دوران دیدہ دلیری سے گندم کے کاشتکار پر فی من دوسو روپے کاڈاکہ ڈالا،بجٹ میں اس کا ازالہ کیا جائے،پاکستان کسان کمیٹی پنجاب کے صدر سید اسد عباش شاہ نے کہا کہ حکومت مالی سال 2021-22ء کے بجٹ میں زراعت اور آبپاشی کے بجٹ میں 100فیصد اضافہ کرے،تھل اور چولستان کے رقبہ کوقابل کاشت بنانے کیلئے نئی نہریں بنائی جائیں جن کیلئے بجٹ میں فنڈز مختص کئے جائیں جبکہ ملکی وائٹ گولڈ کپاس کی بحالی کیلئے خصوصی فنڈ قائم کیا جائے۔پاکستان کسان بورڈ کے رہنما بابر خان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں کسان کو سیڈ سیکورٹی کیلئے خصوصی شعبہ قائم کیا جائے اور ہائبرڈ بیجوں کی تیاری کیلئے ادارے کی تشکیل نو کی جائے تاکہ بیرون ممالک سے مہنگے ہائبرڈ سیڈ نہ منگوانے پڑیں انھوں نے کہ کہ مشینی کاشت کے فروغ کیلئے زرعی مشینری پر ٹیکسوں میں مکمل طور پر چھوٹ دی جائے۔انجمن کاشتکاراں پنجاب کے صدر راؤ افتخار نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں کسان تنظیموں کے صدور کو شامل کیا جائے اور زراعت کی بہتری کیلئے محکمہ زراعت،لائیو سٹاک اور آبپاشی کے بجٹ میں 100فیصد اضافہ کیا جائے۔پاکستان پری بجٹ موبائل فورم سے اپنے ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کسان رہنماؤں خواجہ صغیر،رانا بابر،ملک ذوالفقار،امجد علی،محمد اجمل،محمد عنصر ودیگرنے کہا کہ حکومت بجٹ میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے شعبہ زراعت کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرے تاکہ پاکستان میں فوڈ سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جاسکے۔

اظہار خیال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -