ملتان، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ افسر،ٹھیکیدار آمنے سامنے،کشیدگی

ملتان، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ افسر،ٹھیکیدار آمنے سامنے،کشیدگی

  

ملتان (سپیشل رپورٹر) پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ملتان میں افسروں اور ٹھیکداروں میں کمشن اور پول پرلڑائی شروع ہوئی کروڑں روپے مالیت کی ترقیاتی سکیموں کے ٹینڈر ز نہ ہوسکے  ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور کلیریکل سٹاف کی سخت شرائط کے باعث ٹھیکیداروں نے کروڑوں روپے کے ٹینڈرز کا بائیکاٹ کر دیا، جس سے ٹینڈرز کو ملتوی کر دیا گیا، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ انتظامیہ نے تاحال نئے شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ملتان(بقیہ نمبر39صفحہ7پر)

 کے ایکسین جواد کلیم اللہ اور کلرک محمد وسیم نے مختلف سکیموں کے ٹھیکوں میں کمشن بڑھانے کیلئے ٹھیکیداروں کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے ٹھیکیداروں نے گزشتہ روز ہونے والے کروڑوں روپے مالیت کے ٹینڈرز کا بائیکاٹ کر دیا، جس پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ انتظامیہ کو مجبوراً ٹینڈرز کینسل کرنے پڑے۔گزشتہ روز ہونے والے ٹینڈرز میں صوبائی  اسمبلی کے حلقہ پی پی 212 اور پی پی 218 کی ٹف ٹائل، سیوریج، سمیت دیگر ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، ٹینڈرز کی نئی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا - ٹھیکیداروں کے مطابق ایکسین جواد کلیم اللہ اور کلرک وسیم نے پیپرا رولز کی بجائے لوٹ مار کے لئے الگ سے قوانین بنا رکھے ہیں، دونوں کی من مانیوں کی وجہ سے ٹھیکیدار پریشانی سے دوچار ہیں، ڈپٹی کمشنر و کمشنر نوٹس لیں۔تاہم دوسری جانب  پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ملتان کے ایکسین جواد کلیم اللہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹھیکداروں کو پول کی اجازت نہ ملنے کے باعث انھوں نے ایکا کرکے بائیکاٹ کیا ہے یہ جو مرضی کرلیں پول کی اجازت نہیں دیں گے۔

کشیدگی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -