شاہ محمود قریشی کی سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات ، فلسطین بارے پاکستانی موقف دبنگ انداز میں پیش کردیا 

شاہ محمود قریشی کی سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات ، فلسطین بارے پاکستانی موقف ...
شاہ محمود قریشی کی سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات ، فلسطین بارے پاکستانی موقف دبنگ انداز میں پیش کردیا 

  

نیویار ک (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، مظلوم فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیویارک میں اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے صدر ایمبیسڈر ژانگ جن سے غیر رسمی ملاقات کی ۔ملاقات میں فلسطین امن سفارتی مشن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر ہماری اور چین کی سوچ میں مماثلت ہے،چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بھی فلسطین کےمعاملےپرہمارے موقف سے اتفاق کیا،او آئی سی وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی کھل کر آواز اٹھائی اور عالمی برادری کی توجہ اس المناک صورت حال کی جانب مبذول کروائی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ’سیز فائر‘کا اعلان، ہماری سفارتی کاوشوں کی کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے ،پاکستان، مظلوم فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی اس جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ۔

دوسری طرف وزیر خارجہ نے امریکن پاکستانی کاروباری حضرات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی موثر خارجہ پالیسی کیلئےمضبوط معیشت کی ضرورت ہے،ہم اسی مقصد کےتحت اقتصادی سفارت کاری پرتوجہ مرکوزکیےہوئےہیں،ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری مالی اور جانی قیمت چکائی، ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں،ہم سیاحت کے فروغ کیلئے ای ویزہ رجیم کو بروئے کار لا رہے ہیں، اقتصادی ترقی کا عمل آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج سیمنٹ کی فروخت، کورونا وبا کے باوجود خاطر خواہ حد تک بڑھ چکی ہے،اس سال ترسیلات زر کی شرح میں تاریخی اضافہ ہواہےجسکا کریڈٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کوجاتاہے،ہم پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں چین کے ساتھ مل کر زرعی شعبے کی ترقی کیلئے شاندار منصوبوں پر عمل پیرا ہیں،ہمارے خطے کو فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے،ہمارے پاس وسائل ہیں، زرخیز زمین ہے ہم دوسرے ممالک کی خوراک سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہم اپنی ایگریکلچر ریسرچ کو عالمی معیار کے مطابق بنا رہے ہیں،صرف ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کے ساتھ 32 شعبوں کی ترقی منسلک ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گذشتہ کچھ برسوں میں لومز  کو لوہے کے بھاؤ بیچا جا رہا تھا،آج ہماری ٹیکسٹائیل انڈسٹری پوری طرح فعال ہے، ہمیں میسر موقعوں کو دیکھنا ہو گا، تین سے چار بلین ڈالر کی مشینری کو امپورٹ کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہمارے ملک کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں ان کیلئے آگے بڑھنے کے وسیع مواقع موجود ہیں،ہم پانچ چھ بنیادی شعبوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں ہم لوگوں کو سرمایہ لگانے اور منافع کمانے کی ترغیب دے رہے ہیں، پیسہ کمانا گناہ نہیں، پیسہ چرانا گناہ ہے، ہمارے ہاں بدقسمتی سے پیسہ چرایا جاتا رہا، ہماری اپروچ مختلف ہے،ہم نے روشن ڈیجیٹل پاکستان کا آغاز کیا اور چھ ماہ کے دوران ایک بلین ڈالر کی ترسیلات زر ملک میں آئیں، احساس پروگرام کے تحت ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے تخفیف غربت کے عمل میں مصروف ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا چاہتے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے جب شوکت خانم منصوبے اور نمل یونیورسٹی پر کام شروع کیا تو سب سے زیادہ پیسہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دیا، ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں پاکستان کے سیاسی نظام میں فیصلہ سازی کا اختیار مل سکےہمارے لیے وہ بیرون ملک پاکستانی جو باہر مزدوری کر کے پیسہ گھر بھجوا رہے ہیں، انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی سفارت کاری، خرید و فروخت سے متعلقہ امور کو دیکھنا نہیں ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم نے اپنے بیانیے کی موثر تشہیر کیلئے پبلک ڈپلومیسی کے تحت "سٹریٹیجک کمیونیکیشن" ڈویژن قائم کیا ہے،نیویارک میں قونصل جنرل اور سفیر کی اچھی کارکردگی کو میں نے سراہا ہے،جہاں غلطی پر سرزنش ہوتی ہے وہاں اچھی کارکردگی پر تعریف بھی ہو گی،ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی اقتصادی ترجیحات میں بدل رہے ہیں، افغانستان میں قیام امن کیلئے کوشاں ہیں کیونکہ یہ خطے کی ترقی اور استحکام کا ضامن ہو گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں کاسا 1000 جیسے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہونیوالی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت ہمیں کثیر ورک فورس درکار ہے جس کا بڑا حصہ وہ پاکستان سے لینے کے خواہشمند ہیں، نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقعوں کی فراہمی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ شراکت داری پر کام کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے امریکن پاکستانی کاروباری شخصیات کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے انہیں ہر ممکن کاروباری سہولت کی فراہمی کا یقین دلایا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -