جب 30 امراءنے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور8 مہینوں تک ایتھنز میں جبر و تشدد کی انتہا کر دی

جب 30 امراءنے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور8 مہینوں تک ایتھنز میں جبر و تشدد کی ...
جب 30 امراءنے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور8 مہینوں تک ایتھنز میں جبر و تشدد کی انتہا کر دی

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط : 6

 سقراط کے عہد کے یونان کا پس منظر

پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ یونان کی 3 ریاستیں دوسری ریاستوں سے خاص منفرد مقام رکھتی تھیں۔ یہ تھیں کارنیتھ (Carnith)، اسپارٹا (Isparta) اور ایتھنز (Ethens)۔

کارنیتھ تجارت میں خاص مقام رکھتی تھی۔ اسپارٹاکا فوجی نظام، فوجی تعلیم، نظم و ضبط اور جفاکشی بے مثال تھی جبکہ ایتھنز کی ریاست کا رقبہ 700 میل اور آبادی ساڑھے تین لاکھ تھی اور یہ ریاست دنیا کی تاریخ میں پہلی جمہوری ریاست تھی۔ اس کے علاوہ ایتھنز کی ریاست کی تجارت تمام بحرِ روم میں پھیلی ہوئی تھی۔ ایتھنز نے علم و حکمت، شعر و ادب اور فنوں میں حیرت انگیز ترقی حاصل کر لی تھی۔ 431 قبل مسیح میں سقراط کی عمر 40 سال تھی اور افلاطون ابھی پیدا ہی ہوا تھا۔

دوسری ریاستیں ایتھنز سے حسد کرتی تھیں اس لیے ان تمام ریاستوں نے مل کر ایتھنز پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ 404 قبل مسیح میں ختم ہوئی جنگ میں ایتھنز کو شکست ہوئی اور ایتھنز کے بیرونی مقبوضات ایتھنز کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اس طرح ایتھنز ایک چھوٹی سی ریاست میں سکڑ گئی۔431 قبل مسیح سے 404 قبل مسیح تک ایتھنز میں کئی تبدیلیاں ہوئیں اور ریاست کا آئین کئی بار تبدیل ہوا۔

پہلے ایتھنز میں چندسری (Oligarchy) حکومت تھی پھر محدود جمہوریت قائم ہوئی پھر یہ محدود جمہوریت غیرمحدود جمہوریت میں تبدیل ہو گئی۔

جنگ کے خاتمے پر 30 امراءنے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی اور8 مہینوں تک ایتھنز میں جبر و تشدد کی انتہا کر دی لیکن اس کے بعد پھر جمہوریت قائم ہوئی۔اس وقت ریاستی سیاست اور لوگوں میں بہت زیادہ ذہنی انتشار تھا۔ جمہوریت نے عوام میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق پید اکر دیا تھا تاکہ وہ حکومت اور سیاست کے مسائل کو سمجھ کر کامیاب زندگی گزار سکیں۔

اس وقت ایتھنز میں اعلیٰ تعلیم کیلئے کوئی ادارہ یا یونیورسٹی نہ تھی۔ اس لیے تعلیم دینے کے لیے ایک نئی جماعت پیدا ہوئی۔ اس جماعت کے لوگ سوفسطائی کہلاتے تھے۔ یہ سوفسطائی لوگوں سے فیس وصول کر کے انہیں تعلیم دیا کرتے تھے ان سوفسطائیوں میں کچھ لوگ مخلص بھی تھے اور کچھ خودغرض تھے جو کہ سطحی قسم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔دراصل یہ سوفسطائی نوجوانوں کو خطابت اور پرجوش تقریر کرنے کا فن سکھاتے تھے۔ ان کی تعلیم میں کوئی معقولیت نہیں ہوتی تھی بلکہ مناظرہ کے ذریعے مخالف کو قائل کرنا تھا۔ 

ایتھنز میں ان دنوں دوسری تحریک مذہب کی اصلاح کی تھی۔ اس تحریک کو آگے بڑھانے میں فیثاغورث اور زینوفینز نے بہت کام کیا اگرچہ فیثاغورث بھی سوفسطائی خیال کیا جاتا تھا لیکن وہ اپنے فلسفے اور قوم کے ساتھ بہت زیادہ مخلص تھا۔یہ دونوں اگرچہ مذہب پر بہت زیادہ یقین رکھتے تھے لیکن انہوں نے مذہب کو سائنسی بنیادوں پر قائم کرنے کی کوشش کی۔فیثاغورث اور زینوفینز نے مذہب میں عظیم تر دیوتاکا تصور دیا اور کہا کہ دیوتا عظیم انسانوں سے بلندتر اور خالق کائنات ہے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -