دریائے ہنزہ اور واد ی ہنزہ کے گردو نواح میں بہتے کسی دریا میں کشتی نہیں چلتی

دریائے ہنزہ اور واد ی ہنزہ کے گردو نواح میں بہتے کسی دریا میں کشتی نہیں چلتی
دریائے ہنزہ اور واد ی ہنزہ کے گردو نواح میں بہتے کسی دریا میں کشتی نہیں چلتی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :82

ہم جھیل کے قریب پہنچے تو وہاں دریائے سندھ میں چلنے والی بڑی بڑی شوخ رنگ کشتیا ں اور مکرانیوں سے ملتے جلتے ملاح تھے۔ دریائے ہنزہ اور واد ی ہنزہ کے گردو نواح میں بہتے کسی دریا میں کشتی نہیں چلتی۔ ان شوریدہ سر اور تند خُو دریاؤں میں عام کشتی چل ہی نہیں سکتی۔ اس لیے جھیل کے بنتے ہی پہلا سوال گوجال کو کنجوت یعنی بالائی ہنزہ کو زیریں ہنزہ سے ملانے کاتھا۔ ہنزہ کے بہت سے لوگ کرا چی میں آباد ہیں اور اس کے نواح میں سمندر اور دریائے سندھ میں چلتی کشتیوں سے واقف بھی چناں چہ تھو ڑے ہی عرصے میں اس آ بی خلا کو بھرنے کے لیے زمردیں پا نی پر مسافروں اور سامان سے لدی بڑی بڑی اور رنگ برنگی کشتیوں کے کنول تیرنے لگے۔

سرخ، سبز، فیروزی اور گلابی شوخ رنگوں سے پینٹ جس کشتی میں ہم تھے اس میں مسافروں کے علاوہ ایک مو ٹر سائیکل اور کار بھی لدے ہوئے تھے۔ کشتی انجن کی ہلکی سے گھڑ گھڑاہٹ اور پھٹ پھٹ پھٹ کی آوازکے ساتھ بظا ہر ساکن پانی پر سکون سے چلی جاتی تھی۔ انجن سے نکلنے والا سیاہ دھواں ہوا میں تحلیل ہو کر غا ئب ہورہاتھا۔ دائیں جانب پہا ڑوں میںکچھ بلندی پر سرنگیں اور سڑکیں بن رہی تھیں۔ نئے ،مستقل اور پائے دار راستے۔ نیچے جھیل کی سطح سے چھے سات فٹ اونچائی پر چٹا نوں پر پانی کے پرانے نشان کی ہلکی سی سفید لکیر تھی جو سپِل وے بننے سے پہلے پانی کی بلند سطح کی نشان دہی کرتی تھی۔

کشتی کافی کشادہ تھی۔کچھ فا صلہ طے کر کے جھجک اتری تو ہم کشتی میں ادھر ادھر چلنے پھرنے لگے۔ سمیع اور طاہر اگلے عرشے(foredeck )پر چڑھ کر نظارہ کرنے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ جا کھڑا ہو ا۔ جھیل کی سطح اتنی ہم وار تھی کہ کشتی با لکل نہیں ڈو لتی تھی۔ ہم اعتماد کے ساتھ پاﺅں جما کر کھڑے تھے۔ موسم ابر آلود اور ٹھنڈا تھا، سرد ہوا کے جھو نکوں میں بارش کی بو ندیں تھیں او ر ہم چہرے پر پڑتی بوندوں اور خنک ہوا کا مزہ لیتے تھے۔کشتی یک ساں رفتار سے پہاڑوں کے بیچ بل کھا تی آ بی شاہ راہ پر دھیرے دھیرے آ گے بڑھ رہی تھی۔ عطا ءآباد جھیل کا پانی دوسری جھیلوں کے بر عکس شفّا ف نہیں ہے بل کہ گاڑھا سبزی مائل فیروزی ہے۔ آپ اس میں سطح سے نیچے نہیں دیکھ سکتے۔

 دائیں کنارے کے آ س پاس کہیں کہیں ان برباد بستیوں کے مکانوں کی چھتیں پانی سے باہر جھا نکتی نظر آ تیںجو کبھی آباد تھیں۔ اب وہاںکشتیوں پر سوار ہو نے کے لیے چوبی پلیٹ فارم تھے۔ ڈھلوا نوں پر اگے در خت پانی کے مسلسل لمس سے جل کر بے برگ و بار اور برہنہ ہوچکے تھے اور ان کی سوکھی سفید شاخیں سال خوردہ ہڈیوں کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ 

میں کشتی کے عقبی حصے میں ملا ح کے پاس چلا گیا (جو شکل اور حلیے کی سے مکرانی لگتا تھا لیکن اس کا لہجہ ہنزائی تھا) اور اس سے کشتی چلانے کے متعلق سوال کر نے لگا۔ میرا تجسس دیکھ کر اس نے ڈرائی ونگ نشست میرے حوالے کر دی اور میں اس پر بیٹھ کر سٹئیرنگ کو کنٹرول کرنے لگا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا بس مجھے کشتی کو سیدھا رکھنا تھا۔ گلمت کی طرف سے آ تی کچھ مسافر کشتیاں ہمارے قریب سے گزریں جن میں مقامی عورتیں مرد سوار تھے۔ ندیم نے ان کشتیوں کی تصویر کھینچنا چاہی تو ان میں سوار ایک آ دمی نے بڑی سختی سے تصویر نہ کھینچنے کا اشارہ کیا اور تب تک کرتا رہا جب تک ندیم نے کیمرا بند نہیں کر دیا۔ وہ نارا ض ہنزائی کچھ کَہہ بھی رہا تھا لیکن انجن کی پھٹ پھٹ میں اس کی آواز ہم تک نہیں پہنچ پائی۔ایک دو سپیڈ بوٹس بھی گزریںجنہیں مقا می نو جوان بے باکی اور شو خی سے دوڑا تے تھے۔ تیز رفتاری کی وجہ سے کشتیوں کے اگلے سرے ہوا میں اٹھے ہوئے تھے اور وہ پا نی پر کینگروؤں کی طرح چھلانگیں لگا تی تھیں۔ پھر رافٹ (raft)نما ایک بڑے سے پلیٹ فارم پرچھے ٹرک پانی پر بہتے دکھائی دئیے ۔ یہ ایک عجیب اور دلچسپ منظر تھا۔یہ سارے ٹرک اوپر تک لدے ہوئے تھے۔ ایک خالی ٹرک کا وزن بھی ٹنوں میں ہوتا ہے اس لیے ان تمام ٹرکوں کا مجموعی وزن یقینا ً بہت زیادہ ہوگا۔ جس پلیٹ فارم پر یہ ٹرک کھڑے تھے اس کے دائیں بائیں ریلنگ لگی ہو ئی تھی جن سے بندھی 2مو ٹر بوٹس اس ٹرک لدے وزنی پلیٹ فارم کو اپنے ساتھ کھینچ رہی تھیں۔ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ چین سے آ نے والا سامان گلمت میں ٹرکوں سے اتار کر کشتیوں میں لا دنا پھر عطاءآباد لا کر کشتیوں سے اتار کر دوبارہ ٹرکوں پر لا دنے سے بہتر تھا کہ ان ٹرکوںہی کو سا مان سمیت جھیل کے پار پہنچا دیا جائے۔ چین اپنے تجارتی بہاؤ میں تعطل یا تاخیر نہیں چاہتا۔

 پا نی کا رنگ سبز سے سیاہی مائل گدلا ہو نے لگا۔گلمت قریب تھا۔ یو ں لگتا تھا جیسے کسی نے 2 مختلف رنگوں کے پانی ساتھ ساتھ رکھ دئیے تھے جو ایک دوسرے میں مد غم نہیں ہو تے تھے۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ گلمت سے اوپر دریا گدلا اور سرمئی رنگ کا ہے لیکن آگے آ کر مٹی بیٹھ جانے سے اس کا رنگ گہرا سبز ہو جاتا ہے۔ ہمیں دور سے گلمت کا سا حل دکھائی دینے لگا جہاں کافی رونق اور گہما گہمی تھی۔ چیو نٹیوں جیسے لو گوں کے علاوہ کچھ ٹرک بھی وہاں تھے۔ ملاح نے کشتی کا چارج مجھ سے واپس لے لیا کیوں کہ کشتی صحیح جگہ کھڑی کر نے کے لیے اس کی مہارت میرے شوق سے زیادہ ضروری تھی۔ سب لوگ اپنا سامان سمیٹنے لگے تو ہم نے بھی اپنے رک سیک کمر پر لاد لیے۔ 

کشتیوں کی بھیڑ میں ہماری کشتی آ ہستہ آ ہستہ اپنی جگہ بنا نے لگی ۔ ایک آ دمی نے اگلے عرشے پر پڑا موٹا رسّا سا حل پر کھڑے آ دمی کی طرف اچھالا جس نے اسے دبوچ کر کشتی کو ساحل کی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔کشتی رک گئی تو کشتی اور سا حل کے درمیان 2چوبی پھٹے رکھے گئے جن پر چل کر دوسرے مسافروں کے ساتھ ہم بھی کشتی سے اتر آئے۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -علاقائی -گلگت بلتستان -