فرانسیسیوں کا قطعی زوال۔۔۔۔1756ءسے 1763ءتک

 فرانسیسیوں کا قطعی زوال۔۔۔۔1756ءسے 1763ءتک
 فرانسیسیوں کا قطعی زوال۔۔۔۔1756ءسے 1763ءتک

  

مصنف : ای مارسڈن 

 یورپ میں 1756ءسے 1763ءتک کئی فرنگی قوموں کے درمیان بڑی بھاری لڑائی ہوئی۔ اسے جنگ ہفت سالہ کہتے ہیں۔ اس جنگ میں انگریزوں کا مقابلہ فرانسیسیوں سے تھا۔

 جس وقت یہ لڑائی شروع ہوئی۔ اس وقت کرنیل کلائیو تقریباً کل انگریزی سپاہ کو لیے ہوئے بنگال میں تھا۔ اس نے فوراً چندرنگر پر قبضہ کر لیا۔ گویا شمالی ہند میں فرانسیسیوں کے پاس کوئی مقام نہ رہا۔ جنوبی ہند میں انگریزوں کے پاس اتنا سامان نہ تھا کہ پانڈے چری کو لینے کے لیے کفایت کر سکے، نہ فرانسیسیوں ہی کے پاس اتنی سپاہ تھی کہ مدراس لے لیتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو برس وہاں دونوں فریق جوں کے توں قائم رہے۔

 1758ءمیں کونٹ لالی کی کمان میں بہت سی فرانسیسی فوج ہند میں آئی۔ اس کو فہمایش کی گئی تھی کہ انگریزوں کو ملک سے نکال دے۔ چنانچہ جس رات کونٹ لالی نے سرزمین ہند پر قدم رکھا اسی رات کو اس نے قلعہ سینٹ ڈیوڈ پر چڑھائی کر دی اور آسانی سے اسے فتح کر لیا۔ بلکہ قلعہ کو مسمار کر دیا اور وہ پھر ازسرنو تعمیر نہ ہوا۔

 اس کے بعد لالی نے بُسی کو حکم دیا کہ تم دکن سے آﺅ۔ میں اور تم مل کر مدراس پر حملہ کریںگے۔ چنانچہ ان دونوں نے مل کر مدراس پر حملہ کیا۔ 6 ماہ میجر لارنس مردانگی کے ساتھ مدراس کی حفاظت کرتا رہا۔ اس سے تھوڑے دنوں بعد کچھ فوج انگلینڈ سے جہاز میں سوار ہو کر آئی تو لالی اور اس کی فرانسیسی سپاہ پسپا ہو گئی۔ کرنیل کوٹ انگریز فوج کا افسر تھا۔ اس نے فرانسیسیوں کا تعاقب کیا اور وندواش کے مقام پر جو مدراس اور پانڈی چری کے درمیان واقع ہے 1760ءمیں ان کو شکست فاش دی۔ ہند کی سرزمین پر فرانسیسیوں کے درمیان جو لڑائیاں ہوئیں۔ ان میں یہ سب سے بڑی لڑائی تھی۔ کرنیل کوٹ نے پانڈے چری پر چڑھائی کی اور 1761ءمیں یہ مقام بھی فرانسیسیوں سے لے لیا۔

 جب کرناٹک میں یہ حال گزر رہا تھا تو جتنی فوج مہیا ہو سکی اسے کلائیو نے کرنیل فورڈ کے ماتحت شمالی سرکار کی طرف روانہ کر دیا۔ یہاں اول تو انگریزوں کی نسبت فرانسیسیوں کی اپنی ہی تعداد زیادہ تھی، پھر ان کے ہمراہ نظام حیدر آباد اپنی فوج لیے ہوئے موجود تھا۔ لیکن کرنیل فورڈ بھی کلائیو کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھا۔ بہادر سپاہی اور تجربہ کار افسر تھا۔ اس نے ہر مقام پر فرانسیسیوں کو شکست دی اور ان کے بڑے مقام مچھلی بندر کوہلّہ کر کے لے لیا۔ اپنے سپاہیوں سے زیادہ فرانسیسی قیدی اس کے ہاتھ آئے۔ اس طرح 1759ءمیں شمالی سرکار کا علاقہ انگریزوں کے قبضہ میں آیا اور اب تک ان ہی کے قبضہ میں چلا آتا ہے۔ احاطہ مدراس کی بنیاد یہیں سے پڑی ہے۔

 1763ءمیں جنگ ہفت سالہ کا خاتمہ ہوا۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں میں صلح ہو گئی۔ پانڈے چری اور چندرنگر تجارت کے لیے فرانسیسیوں کو واپس مل گئے جو لڑائی 1744ءمیں شروع ہوئی تھی۔ اب بیس برس کی جدوجہد کے بعد اس طرح اس کا خاتمہ ہوا ۔ اس جنگ کا آغاز یوں ہوا کہ فرانسیسیوں نے مدراس میں انگریز تاجروں پر حملہ کیا اور انجام یہ ہوا کہ انگریز ایک بڑی قلمرو کے حاکم ہو کر جنوبی ہند کی سب سے زبردست طاقت شمار ہونے لگے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -