میر جعفر۔۔۔۔(1758ءسے 1761ءتک)

میر جعفر۔۔۔۔(1758ءسے 1761ءتک)
میر جعفر۔۔۔۔(1758ءسے 1761ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 کلائیو نے میر جعفر کو بنگال کی گدی پر شاہِ دہلی کی اجازت کے بغیر بٹھایا تھا۔ بادشاہ ابھی تک شمالی ہند کے کل ممالک پر شہنشاہی کے دعوے رکھتا تھا۔ پہلے نوابوں کی طرح میر جعفر نے بادشاہ کو کوئی تحفہ اور نذر نہیں بھیجی تھی۔ پس بادشاہ کا بیٹا ایک بڑی فوج کی ہمراہی میں بنگال پر حملہ آور ہوا۔ شجاع الدولہ نواب اودھ بھی شہزادے کے ہمراہ تھا۔

 میر جعفر کو بڑا خوف ہوا۔ یہ چاہتا تھا کہ کچھ دے دلا کر ان کو رخصت کرے لیکن کلائیو نے لکھا کہ تم گھبرانا نہیں۔ میں تمہاری مدد کو جلد آتا ہوں۔ نواب اودھ نے جو سنا کہ انگریزوں کا زبردست اور مشہور کرنیل ”ثابت جنگ“ چڑھا چلا آ رہا ہے تو وہ اپنی کل سپاہ لے کر جس قدر جلد ہو سکا اودھ کو واپس چلا گیا اور شہزادے کو اکیلا بے یارومددگار چھوڑ گیا۔ شہزادے نے اپنے آپ کو کلائیو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،اس نے شہزادے کے ساتھ بڑی مروت کی۔ 500 طلائی مہریں نذر گزاریں اور سمجھایا کہ آپ واپس تشریف لے جائیں چنانچہ وہ چلا گیا۔

 اگر میر جعفر دانا اور نیک حاکم ہوتا تو امن چین سے حکومت کرتا رہتا، مگر اس کی حرکات و عادات سے جلد ہی ظاہر ہو گیا کہ وہ سلطنت کی قابلیت نہیں رکھتا تھا۔ وہ افیونی تھا۔ لہوولعب میں وقت کھوتا تھا اور سیم و زر لٹاتا تھا۔

 سپاہ کی تنخواہ ادا کرنے کے لیے روپے کی ضرورت پڑی۔ میر جعفر نے چاہا کہ بنگال کے ساہوکاروں کو لوٹ لے اور اپنا کام چلائے۔ کلائیو نے یہ حرکت نہ کرنے دی۔ وہ ناراض ہو گیا اور چنسورہ میں ڈچ لوگوں کو لکھا کہ تم میری مدد کو آﺅ اور انگریزوں کو بنگال سے نکال دو۔ یورپ میں انگریزوں اور ڈچ لوگوں میں صلح تھی۔ اس لیے چنسورہ کے ڈچ لوگوں کو انگریزوں کے ساتھ لڑائی کا کوئی بہانہ نہ ملا، مگر چونکہ یہ انگریز سوداگروں سے جلتے تھے اور ان کی تجارت کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ بے وقوفی سے انگریزوں پر حملہ کرنے کو راضی ہو گئے۔انہوں نے جاوا سے فوج منگوائی۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ڈچ سپاہیوں کے 7 جہاز دریائے ہگلی کے دہانے پر آ موجود ہوئے اور چاہا کہ دریا کی راہ چنسورہ میں پہنچ جائیں۔ انہوں نے کچھ انگریزی کشتیاں چھین لیں اور انگریزوں کی ان کوٹھیوں میں جو دریا کے کنارے آباد تھیں آگ لگا دی۔

 کرنیل کلائیو نے کرنیل فورڈ کو جو شمالی سرکار سے واپس آ گیا تھا۔ چنسورہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا اور ایک اور افسر کو روانہ کیا کہ وہ ڈچ لوگوں کے جہازوں پر حملہ کرے۔ ڈچ سپاہ کو جو چنسورہ میں موجود تھی شکست ہوئی اور انکے جہاز انگریزوں کے ہاتھ آئے پھر تو انہوں نے صلح کی درخواست کی۔ شرط یہ تھی کہ تجارت کے لیے چنسورہ ان کے پاس رہے مگر وہ اس میں سپاہ نہ رکھیں۔ میر جعفر کا قصور معاف کیاگیا اور کلائیو 1760ءمیں انگلینڈ واپس چلا گیا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -