ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں ایک دن

ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں ایک دن
ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں ایک دن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 میرے نزدیک یونیورسٹیاں علم کی معراج ہوتی ہیں جہاں تعلیم و تحقیق کے اعلیٰ مدارج طے کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں یونیورسٹیاں کیا اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں؟ یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے۔ تحقیق کے میدان میں پاکستانی یونیورسٹیاں ابھی دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں تاہم یہ بھی سچ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری جامعات میں علم و تحقیق کے میدان میں بہتری آئی ہے اور ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم دنیا کے مختلف ممالک میں گراں قدر خدمات بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ حال ہی میں میری ملاقات ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان سے ہوئی۔ وہ ایک کشادہ نظر اور کشادہ فکر رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ جی آئی کے، لمز اور آئی ٹی یونیورسٹی جیسے بڑے اداروں میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وہ ایمرسن یونیورسٹی کو سکل بیس یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی یونیورسٹی جو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو ہنر بھی سکھائے تاکہ وہ بے روز گاری سے بچ سکیں، یاد رہے کہ ایمرسن یونیورسٹی ایک نوزائیدہ یونیورسٹی ہے۔ یہ پہلے ایمرسن کالج تھا، جسے عثمان بزدار کے دور میں یونیورسٹی بنا دیا گیا۔اس ادارے میں میں نے بطور استاد بیس سال گزارے۔ اس کالج کی تاریخ سو سال پر محیط ہے جو اب یونیورسٹی کا درجہ پا کر اپنے نئے سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ جب یہ کالج تھا تو جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ تھا اور اس میں بارہ ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے۔


ڈاکٹر محمد رمضان نے بتایا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم سنگا پور یونیورسٹی کے برابر جائیں اس کے لئے تدریسی ماڈل وہی اختیار کیا جا رہا ہے۔ ہم نے ایچ ای سی سے کہا ہے ایمرسن کو سمارٹ یونیورسٹی بنائیں۔ ہم طالب علموں کو وائی فائی کی سہولت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ کیمپس میں رہ کر تحقیق کے شعبے میں جو معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ان تک آسانی سے رسائی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ایمرسن یونیورسٹی میں ہر استاد اپنے اگلے دن کا لیکچر تیار کر کے طلبہ و طالبات کو بھیج دیتا ہے تاکہ وہ جب کلاس میں آئیں تو انہیں اس کے بارے میں پورا علم ہو۔ بچے تیاری کر کے آتے ہیں۔ پیریڈ کو 90 منٹ کا کر دیا ہے، جس میں 40 منٹ کا لیکچر، 40 منٹ سوال جواب اور دس منٹ اسسمنٹ کے رکھے گئے ہیں اس سے لرننگ عام طریقہ تدریس کے مقابلے میں بہت زیادہ اور تیزی کے ساتھ ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں آئی ٹی کے شعبے میں آگے بڑھنا ہوگا ضروری نہیں کہ صرف آئی ٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات ہی اس میدان میں آگے آئیں بلکہ ہر شعبے کے نوجوانوں کو آن لائن روز گار کے لئے آئی ٹی کی مہارت حاصل کرنی چاہئے، اس سلسلے میں پنجاب آئی ٹی بورڈ سے ہمارا معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت شارٹ کورسز کرائے جائیں گے، تاکہ ہر طالب علم اس شعبے میں مہارت حاصل کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایمرسن یونیورسٹی نے دنیا کے جدید علوم سے آگاہی کے لئے اسے ایک حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت سائنس کے موضوع پر پہلی انٹرنیشنل کانفرنس جون کے پہلے ہفتے میں منعقد ہو رہی ہے جس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کریں گے۔ اس کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، پولینڈ، میکسیکو اور دیگر ممالک کے محقق اور سائنسدان شریک ہوں گے۔ ڈاکٹر محمد رمضان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی معیشت اس لئے ترقی نہیں کر رہی کہ ہم برآمدات میں بہت پیچھے ہیں ہماری مین پاور جسے آئی ٹی کے شعبے میں بہت آگے ہونا چاہئے بہت پیچھے ہے ہم آئی ٹی کے شعبے میں اگر مہارت حاصل کریں تو ہماری اس شعبے میں برآمدات ہی ہماری معیشت کو بہت سہارا دے سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے منسٹری آف آئی ٹی کا پروگرام یونیورسٹی میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ اس شعبے میں جدید تعلیم سے اپنے طالب علموں کو ہمکنار کر سکیں۔


وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایمرسن یونیورسٹی میں کیمپس مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت ایڈمشن سے لے کر کلاس مینجمنٹ اور رزلٹ تک سب کچھ آن لائن ہوگا۔ آئندہ داخلے بھی آن لائن ہوں گے۔ اس سے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے طالب علموں کو سی ایس ایس اور ایمزون جیسے پروگراموں کی تیاری کے لئے بھی فری کوچنگ فراہم کریں گے جس سے ان کے لئے جاب اور روز گار ڈھوننے میں آسانی ہو گی۔ طالب علموں کے لئے انٹرن شپ لازمی قرار دے دی گئی ہے تاکہ وہ فارغ التحصیل ہونے سے پہلے عملی زندگی کا تجربہ بھی حاصل کریں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد رمضان نے کہا کہ جو یونیورسٹیاں کالج سے یونیورسٹی بنی ہیں، انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے۔ تاہم انہوں نے پنجاب کے گورنر بلیغ الرحمن سے ایمرسن یونیورسٹی کے حوالے سے ملاقات کی تو انہوں نے ہر ممکن تعاون اور مدد کا یقین دلایا۔ اس وقت یونیورسٹی کے لئے 1160 ملین روپے کے پراجیکٹس منظور ہو چکے ہیں۔ چھ کروڑ روپے کے سائنس لیب آلات منگوانے کا آرڈر دیدیا گیا، آئی ٹی کی لیب کے لئے تین کروڑ روپے علیحدہ رکھے گئے ہیں۔ تین یونیورسٹیوں کے ساتھ فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے ایم او یوز سائن ہو چکے ہیں جن میں اڑوڑ یونیورسٹی سکھر، ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور اور خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان شامل ہیں اچھا سربراہ مل جائے تو ادارے پھلتے پھولتے ہیں، ایمرسن یونیورسٹی اس کی حالیہ مثال ہے۔

مزید :

رائے -کالم -