میں سندھو کی باتیں سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ ہر شے پر نظر رکھے ہے۔ سب کچھ دیکھتا، سمجھتا اور محسوس کرتا ہے، ہم ہی بے حس ہو چکے ہیں 

  میں سندھو کی باتیں سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ ہر شے پر نظر رکھے ہے۔ سب ...
  میں سندھو کی باتیں سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ ہر شے پر نظر رکھے ہے۔ سب کچھ دیکھتا، سمجھتا اور محسوس کرتا ہے، ہم ہی بے حس ہو چکے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:23
 ”پرانی شاہراہ ریشم پر واقع    ہنورمن“ نامی دیہات1971 ؁ء تک پاکستان کا حصہ تھا۔“ مجھے کارگل کے رہائشی اور سماجی کارکن ساجد کارگلی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ دوران گفتگو اس نے بتایا؛”71ء کی جنگ میں ہندوستان نے اس گاؤں (ہنورمن) پر قبضہ کر لیا تھا اس سے پہلے یہ پاکستان کا حصہ تھا۔”دریائے دراس“ اس کے قریب سے ہی بہتا ہے۔ اسی گاؤں میں کارگل کے معروف عالم دین ”حصرت علی ؒ“کا آستانہ ہے۔ گھنٹہ بھر کی مسافت پر ہنورمن گاؤں کے لوگ اس آستانہ کی زیارت کو آ سکتے تھے لیکن71ء کی جنگ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا اور منٹوں کے اس فاصلے کو کم کرنے میں نصف صدی کا طویل عرصہ بھی ناکام رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں بھی سرحد کو ”کرتار پور راہداری“ کی طرح کھولا جائے تاکہ ان گاؤں کے باشندے ماضی کی طرح اس زیارت گاہ کی زیارت کو آ جا سکیں۔ سرحد کے دونوں طرف رشتہ داریاں ہیں۔خونی رشتہ داریاں۔کبھی یہ شہر اور اس کے بازار لوگوں کی چہل پہل سے آباد تھے اب فوجی مبصروں کی بھیڑ ہے۔ لوگوں کے چہروں پر چین بھارت کی لڑائی کی وجہ سے پریشانی کے سائے ہیں۔“ وہ خاموش ہوئے اور ہم قہوہ پینے ایک ڈھابہ میں چلے آئے ہیں۔ساجد کارگلی کے ہمراہ کشمیری چائے کا لطف دوبالا ہو گیا ہے۔ میرے انتہائی اصرار کے باوجود چائے کا بل انہوں نے ہی دیا۔   
”لداخی منگول سے ملتی جلتی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ چھوٹے قد، مضبوط جسم، سخت جان اور لمبی عمر پاتے ہیں۔ قوت برداشت بھی بلا کی اور مزاح کی حس بھی کمال کی۔دیانت داری بھی کمال کی، وفاداری بھی کمال کی اور دوستی بھی کمال کی۔لداخی اپنے اندر ایک مخصوص اور منفرد دلکشی لئے ہیں۔مرد لمبے اونی چوغے، کانوں پر پشم یا اونی ٹوپی پہنتے ہیں جبکہ عورتیں لمبی قمیض اور سر پر ”پیراک“ اوڑھتی ہیں۔(پیراک کپڑے کی ایک چوڑی پٹی ہے جس پر چاندی، زمرد کے نگینے اور سرخ مونگے ٹانکے ہوتے ہیں)۔“یہاں زندگی بہت سخت ہے، غربت ہے، برف ہے، تنگ دستی ہے۔ موسم بہار نئی زندگی کی نوید لاتا ہے۔ کہیں کہیں پھول آنکھیں مل کر بیدار ہونے لگتے ہیں تو کہیں برف میں دبی شاخیں انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔ برفیلے پہاڑوں کے دامن پہ سبزہ جھلک دکھانے لگاتا ہے۔ مسافر بدلتے رنگوں اور رتوں سے لطف اٹھاتے رواں ہوتے ہیں۔ امیروں کیلئے یہ نئی رت ہے لطف اندوز ہونے کی جبکہ غریب اور ناتواں مقامی باشندے نئے موسم بہار میں زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے بہتری کی آس لگائے کمر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے سوچوں میں گم گھروں کو جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آفرین! حکمرانوں پر کہ وہ سیاہ شیشوں والی چمکتی قیمتی آرام دہ گاڑیوں میں ان مفلس لوگوں پر نظر ڈالے بغیر ہی گزر جاتے ہیں“۔
 میں سندھو کی باتیں سن کر گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ وہ ہر شے پر نظر رکھے ہے۔ سب کچھ دیکھتا، سمجھتا اور محسوس کرتا ہے۔ ہم ہی بے حس ہو چکے ہیں۔ وہ کہانی پھر سے آگے بڑھانے لگا ہے۔ 
”لیہہ کے ارد گرد جہاں تک آب پاشی ممکن ہے زمین کاشت کی جاتی ہے۔ بڑی محنت سے نکالے گئے پانی کے چھوٹے چھوٹے کھالے مکئی، جو، گندم، گاجر، مٹرگوبھی اور ٹماٹر کے کھیتوں کو پانی مہیا کرتے ہیں۔ میرے کنارے خوبانی، شہتوت، سیب اور اخروٹ کے درخت ہیں۔ بید مجنوں کی شاخوں سے بید کی ٹوکریاں بنتی ہیں جو یہاں کی اہم دستکاری ہے۔ پاپولر کے درخت کا تنا گھروں اور پلوں کے لئے شہتیر مہیا کرتا ہے۔“
”لیہہ واسیوں بارے کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی گندے لوگ ہیں (صفائی کے لحاظ سے)۔ کئی کئی ماہ گزر جائیں نہائیں گے نہیں۔ بدن کی صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتے۔یہ ایسا مقام ہے جہاں سارا سال درجہ حرارت کافی کم رہتا ہے۔ برفیلی ہوا رگوں میں خون جماتی ہے۔ ایسے مقام پر نہانا اور صفائی کیاممکن ہے؟ جہاں پانی کا ایک ایک قطرہ بھی سر پر اٹھا کر لانا پڑے وہاں نہانے کی خواہش تو ضرور ہو سکتی ہے لیکن عملی طور پر ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک بات طے ہے کہ تبت سے لے کر کشمیر، ہمالیہ، قراقرم اور  بلتستان کی یہ دور افتادہ وادیاں اپنے اندر ایسا حسن اور رومانس سموئے ہیں کہ آنے والا مبہوت رہ جاتا ہے۔ کوئی مصور یہاں آ جائے تو سفید برف پوش پہاڑ، نیلگوں آسمان، پراسرار دھند میں لپٹی صبح و شام، درختوں کے پتوں پر چمکتے شبنم کے قطرے، سورج کی دھوپ میں چمکتے خانقاہوں کے کلس، تنگ گھاٹیوں سے گرتے شفاف پانی کے جھرنے،ہری بھری وادیاں، درختوں سے جھولتے طرح طرح کے خوش ذائقہ پھل اور میوے، تیز مچلتے نالے،حد نظر پھیلے گلیشیرز،تازہ ہوا، شفاف فضا میں اڑتے پنچھی، برف زاروں میں رہتے برفانی چیتے، ریچھ، چالاک مارمٹ، آلودگی سے پاک فضا میں رات کوآسمان کی وسعتوں پر دمکتے میرے دوست ستارے اور ان میں گھرا چمکتا مہتاب، سبحان اللہ۔ مصور کا کینوس چھوٹا پڑ جائے مگر یہاں کے نظارے ختم نہ ہوں۔“واہ میرے داستان گو نے کیسی منظر کشی کی ہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -