صرف سفید فام لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں 10سال سزا دی گئی ورنہ ہم سے بدتر مجرموں کو کہیں کم سزا دی جاتی تھی،سیاہ فاموں کو اپنی غربت کی وجہ سمجھ نہیں آئی

 صرف سفید فام لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں 10سال سزا دی گئی ورنہ ہم سے بدتر مجرموں کو ...
 صرف سفید فام لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں 10سال سزا دی گئی ورنہ ہم سے بدتر مجرموں کو کہیں کم سزا دی جاتی تھی،سیاہ فاموں کو اپنی غربت کی وجہ سمجھ نہیں آئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: میلکم ایکس(آپ بیتی)
ترجمہ:عمران الحق چوہان 
قسط:91
جیل سے آنے کے بعد سوائے ایک مرتبہ کے میں 7 سال تک راکس بیری نہ جا سکا تھا چنانچہ میں نے شارٹی سے ملنے کے بہانے دوبارہ وہاں جانے کا سوچا۔ ملاقات پر شارٹی نے عجیب رویہ اپنائے رکھا کیونکہ اسے اطلاع مل چکی تھی کہ میں کسی مذہبی چکر میں وہاں آیا ہوں اور وہ نہیں جانتا تھا کہ میں واقعی سنجیدہ ہوں یا ان بہروپیے مبلغین کی طرح ہوں جو ان سیاہ فاموں کی جھونپڑیوں میں دلالی کا پیشہ کرتے ہیں اور عموماً ان بوڑھی محنت کش عورتوں کے بچے ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کو خوشحال زندگی گزارتے دیکھنا چاہتی ہیں۔ میں نے بہت جلد شارٹی پر واضح کر دیا کہ میں اسلام کے متعلق کس قدر سنجیدہ ہوں لیکن اسے پریشانی سے بچانے کے لیے میں نے پرانی سڑک چھاپ گفتگو شروع کر دی اور ہمارا وقت بہت اچھا گزرا۔ جب ہم نے شارٹی کا وہ ڈرامائی ردعمل یاد کیا جب جج ”جرم نمبر1 دس سال …… جرم نمبر 2 دس سال“ کہہ رہا تھا تو ہم اتنا ہنسے کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہم نے یاد کیا کہ صرف سفید فام لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں 10سال سزا دی گئی ورنہ ہم سے بدتر مجرموں کو کہیں کم سزا دی جاتی تھی۔ 
شارٹی کا ابھی تک ایک چھوٹا سا بینڈ تھا اور وہ اچھا کما رہا تھا۔ اسے بجا طور پر فخر تھا کہ جیل میں اس نے موسیقی کا مطالعہ عمدگی سے کیا تھا۔ میں نے اسے اسلام کے متعلق بہت کچھ بتانا چاہا مگر اس کے ردعمل سے لگتا تھا کہ وہ یہ ذکر سننا نہیں چاہتا۔ کسی نے جیل میں ہمارے مذہب کے خلاف اس کے کان بھرے تھے۔ اس نے ایک لطیفہ سنا کر موضوع گفتگو بدل دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سور کی چانپوں اور سفید عورتوں سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ پتہ نہیں اب وہ مطمئن ہوا ہے یا نہیں مگر مجھے علم ہے کہ اس نے ایک گوری سے شادی کر لی ہے اور ”ھوگ“ کا گوشت کھا کھا کر اسی کی طرح موٹا ہو گیا ہے۔ میں جوئے خانے کے مالک ”جون ہیوز“ کے علاوہ راکس بیری کے کچھ دوسرے واقفوں کو بھی ملا۔ میری آمد کی اطلاع پر وہ سب پریشان تھے لیکن میں نے اپنے پرانے انداز کی مدد سے ان کی تھوڑی بہت پریشان کم کر دی۔ میں نے ان کے سامنے اسلام کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ میں اب تک دیکھ چکا تھا کہ ان کے دماغ کس قدر دھوئے جا چکے ہیں۔ 
معبد نمبر 11 کے وزیر کے طور پر میں نے بہت کم عرصہ گزارا جونہی یہ معبد منظم ہوا میں اس کا انتظام و انصرام یولیسس ایکس کے حوالے کر کے آ گیا اور ایلیا محمد نے مجھے فلاڈیلفیا روانہ کر دیا۔ 
یہ برادرانہ محبت کا شہر مزاج کے اعتبار سے بوسٹن سے بھی اچھا نکلا اور یہاں کے سیاہ فام سفید فاموں کے متعلق حقیقت زیادہ جلدی سمجھ لیتے تھے۔ فلاڈیلفیا کا معبد نمبر12مئی 1954ء میں قائم ہوا۔ اگلے ماہ بوسٹن اور فلاڈیلفیاء میں کامیابیوں کے بعد ایلیا محمد نے مجھے معبد نمبر7 کا وزیر مقرر کیا جو نیویارک جیسے اہم شہر میں تھا۔ 
میں آپ کو اپنے جذبات کی بلندیوں کے متعلق نہیں بتاؤں گا مگر مجھے یقین تھا کہ ایلیا محمد کی تعلیمات امریکی سیاہ فام کو دوبارہ زندگی بخش دیں گی اور اسلام بہت زیادہ پھلے پھولے گا اور پورے امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کی گنجائش نیویارک کے نواحی علاقے سے زیادہ کہیں نہیں ہے جہاں 1 ملین سے زیادہ سیاہ فام لوگ رہتے ہیں۔ 
اس علاقے میں سڑکوں پر آوارہ گردی کیے اور ویسٹ انڈین آرچی کے ساتھ کتوں کی طرح جھگڑے کا واقعہ گزرے 9 سال ہو چکے تھے۔ پرانے دوستوں کو اتنے عرصے بعد ملنا بہت خوشگوار لگا۔ میں ویسٹ انڈین آچی اور سیمی دلال کو ملنے کا زیادہ مشتاق تھا لیکن سیمی کے متعلق سن کر بہت صدمہ ہوا۔ سیمی نے دلالی چھوڑ کر جوئے کا دھندا شروع کیا تھا اور اچھی خاصی کمائی کرنے لگا تھا حتیٰ کہ اس نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی بھی کر لی لیکن ایک صبح وہ اپنے بستر پر مردہ پایا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت اس کی جیبوں میں 25 ہزار ڈالر تھے (لوگوں کو شاید اتنی رقم کے ہونے کا اعتبار نہ آئے لیکن میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں 1964ء میں شکاگو کے ایک جوئے خانے کا مالک لارنس ویکفیلڈ اپنے گھر میں مردہ پایا گیا اور اس کے گھر سے بوریوں اور تھیلوں میں بھری ہوئی 7 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی رقم برآمد ہوئی…… اور اس کے باوجود سیاہ فاموں کو اپنی غربت کی وجہ سمجھ نہیں آئی)۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -