معین اختر، جمشید انصاری اور عمر شریف کے آنے سے تھیٹر بنے پھر ویران ہو گئے لیکن فلم انڈسٹری نے ان عظیم فنکاروں کو چن لیا

معین اختر، جمشید انصاری اور عمر شریف کے آنے سے تھیٹر بنے پھر ویران ہو گئے ...
معین اختر، جمشید انصاری اور عمر شریف کے آنے سے تھیٹر بنے پھر ویران ہو گئے لیکن فلم انڈسٹری نے ان عظیم فنکاروں کو چن لیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: محمد سعید جاوید
قسط:114
معین اختر اس وقت کی عظیم سیاسی اور فلمی شخصیات کی نقالی کیا کرتے تھے اور ان ہی کے انداز میں مکالمے بول کر لوگوں کو ششدر کر دیتے۔ اللہ نے ان کو یہ فن عطا کیا تھا کہ وہ کسی بھی شخصیت کی آواز اوراس کے چلنے پھرنے کے انداز کی ہو بہو نقل اتار لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے شو کا آغاز ہمیشہ اس سے ہی کیا کرتے تھے۔وہ گاڑیوں کے سٹارٹ ہونے، دروازہ بند ہونے، مختلف گیئر میں چلنے اور ہوائی جہازوں کے غوطہ مارنے اور بمباری کی حقیقت پسندانہ آوازیں بھی نکال کر دکھاتے تھے۔ 
اس کے علاوہ انہوں نے بے شمارلطیفے یاد کر رکھے تھے جن کو وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے۔مجھے ابھی تک ان کا ایک لطیفہ یاد ہے کہ کس طرح ایک رات شدید بارش ہوئی اور اکثرجھگیاں ا س سیلابی پانی میں بہہ گئیں۔ آسمان پر ابھی بھی مسلسل بجلیاں چمک رہی تھیں۔ بچ جانے والا ایک رانگھڑ ایک اونچے پتھر پر بیٹھا بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک بار پھرجب بجلی زور سے چمکی تو اس نے سر اوپر اٹھا کر اللہ میاں کو مخاطب کیا اور شکوہ کے انداز میں اس طرح مخاطب ہوا : 
”واہ رے مولا تیری بے پروائی، جھگی بہہ گئی، سارا سامان رڑھ گیا اور تو اور،میری لگائی کو بھی پانی ساتھ لے گیا، اب ٹارچیں مار مار کر دیکھ رہا ہے کہ کچھ اور شے تو نہیں رہ گئی لے جانے کو۔“ 
یہ لطیفہ اس پس منظر میں بڑی اچھی طرح سمجھ آتا تھا جب کراچی میں ایک بڑی تعداد ابھی تک جھگیوں میں ہی رہتی تھی، اور ان میں اکثر کو آگ لگنے کے واقعات یا موسلا دھار بارش کی وجہ سے شدید مالی نقصان پہنچتا تھا۔ معین نے ایسی بے بسی اور تکلیف دہ حالات میں بھی مزاح کا پہلو تلاش کر لیا تھا۔ 
جمشید انصاری بھی اس وقت ایک خوب صورت اور نوجوان مزاحیہ فنکار تھے لیکن ان کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ ریڈیو سے ہجرت کرکے ٹیلی وژن کی دنیا میں آئے۔وہ مخصوص محفلوں میں ہی شریک ہوا کرتے تھے۔بڑے وضع دار اور زندہ دل قسم کے انسان تھے۔
عمر شریف کا نام اس وقت تک کسی نے نہیں سنا تھا۔ وہ سن80ء کی دہائی میں منظر عام پر آئے اور بعد ازاں اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بدولت فن مزاح کے بے تاج بادشاہ کہلائے۔ 
تب کچھ کوششیں ہوئیں کہ ان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو مجتمع کرکے باقاعدہ تھیٹر بنائے جائیں جو ایک تواتر سے اپنے شو پیش کریں۔ ان میں کچھ ادبی اور کچھ مزاحیہ کہانیاں ڈرامے کی شکل میں پیش کی جائیں جس کے دوران کچھ رقص و موسیقی کا تڑکا بھی لگا دیا جائے۔یہ سلسلہ بس کچھ عرصہ ہی چلا۔پھر عوام کی عدم دلچسپی کی بنا ء پر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور یوں تھیٹر ایک بار پھرویران ہوگیا۔
پھر یہ بھی ہوا کہ ان تمام عظیم فنکاروں کو لاہور کی فلمی صنعت کے لیے چن لیا گیا۔ یہ لوگ ایک ایک کرکے رخصت ہوئے اور وہاں فلموں میں بھی انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔کراچی سے رابطے کٹ جانے کے باوجود وہ جب بھی کبھی اپنے شہر واپس آتے تو ایسی محفلوں میں شرکت ضرور کرتے۔ انہوں نے اپنے پرستاروں سے اپنا رابطہ کٹنے نہیں دیا۔ 
گلوکار 
جب تھیٹر کا سلسلہ وسیع ہوا تو فنکاروں کے مختلف طائفے بن گئے اور ان میں کچھ اچھا گانے والے اور موسیقار وغیرہ بھی شامل ہوتے گئے۔ یہ سب لوگ ایک ٹیم کی صورت میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔کچھ ”زیر تربیت“ گلوکار اپنے طور پر ہی برپا کی گئی گھریلو محفلوں میں بلائے جاتے اور وہ بھی سو پچاس روپے لے کر رات ڈھلے تک اپنی دلکش آواز کا جادو جگائے رکھتے تھے۔یہ تین چار لوگوں کا ایک ٹولہ ہوتا تھا، جس میں ایک مرکزی گلوکار ہوتا اور باقی سازندے۔ یہ لوگ زیادہ تر فلمی گانے یا ہلکی پھلکی غزلیں اور لوک گیت ہی سنایا کرتے تھے۔ پھر کھاناکھا کر اور رقم کی وصولی کے بعد وہ رخصت ہوجاتے۔ 
تاہم پرانے وقتوں کے جو لوگ روایتی موسیقی اور غزلوں کے شیدائی تھے، ان کے ہاں زیادہ تر مہمان کلاسیکل استاد ہی ہوتے تھے۔یہ ہارمونیم اور طبلے کی سنگت پر غالب، امیر خسرو،اقبال یا اسی پائے کے کسی اور شاعر کے کسی شعر کا ایک مصرع کو پکڑ کر بیٹھ جاتے اور صبح تک اس کے ساتھ وہ سلوک کرتے تھے کہ وہ مصرع بھی ہاتھ جوڑ دیتا تھا کہ حضور اب آگے چلیے، میرے دوسرے بھائی بھی اپنا بیان سننے کے منتظر ہیں، میری جاں بخشی کردیں اور ان کو بھی شامل کر لیں۔لیکن جو لوگ اس موسیقی کو سمجھتے تھے وہ ان کے ایک ہی مصرع کی مختلف انداز میں ادائیگی پر عش عش کر اٹھتے اور خوب اچھل اچھل کر دا د دیتے تھے۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -