علامہ اقبال کی  نگاہ میں حقیقی آرٹ یا ہنر وہ ہے جو ہر شے کی ماہیت تک پہنچے، جسکا مقصود سوزِ حیات ابدی ہو، جس سے انسانیت کا چمن افسردہ نہ ہو 

علامہ اقبال کی  نگاہ میں حقیقی آرٹ یا ہنر وہ ہے جو ہر شے کی ماہیت تک پہنچے، ...
علامہ اقبال کی  نگاہ میں حقیقی آرٹ یا ہنر وہ ہے جو ہر شے کی ماہیت تک پہنچے، جسکا مقصود سوزِ حیات ابدی ہو، جس سے انسانیت کا چمن افسردہ نہ ہو 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: جمیل اطہر قاضی
 قسط:25
 علامہ اقبال آرٹ کو آرٹ کی خاطر استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کو اپنے مخصوص مقاصد ِ حیات کے حصول کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ وہ آرٹ کے ذریعے اجتماعی وجدان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کے ہمرہان سست دل اس سے متاثر ہو کرمنزلِ مقصود کی جانب تیز خرامی کریں۔ علامہ نے بارہا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کو شاعری سے بطور شاعری کے قطعاً سروکار نہیں ہے بلکہ وہ شاعری کو ایک ارفع اور اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنی قوم سے شکایت کی ہے۔      
کم نظر بیتابیٔ جانم ندید
آشکارم دید و پنہانم ندید
من شکوہِ خسروی اُو را دہم
تاجِ کسریٰ زیر پائے اُو نہم
اُو حدیث دلبری خواہد زمن
رنگ و آب شاعری خواہد زمن
بلکہ ایک اور جگہ یہاں تک کہہ دیا    
نہ بینی خیر از آں مردِ فرودست
کہ برمن تہمت شعر و سخن بست
علامہ کے کلام کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے آرٹ یا شاعری کو مقصودِ بالذات نہیں سمجھا۔ بلکہ اس کے ذریعہ سے اشاروں اشاروں میں فطرت کے اسرارِ حیات انسانی کے رموز۔ زندگی کے حقائق۔ آرزوؤں کی کشمکش۔ انسانیت کی کامرانیاں۔ قوموں کی ترقی کے اسباب۔ ان کے تنزل کے وجوہ۔ سیاست کے نکات۔ غرض زندگی کے دقیق ترین مسائل ہمارے لئے بے نقاب کر دئیے ہیں۔      
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم رازِ درونِ مے خانہ
ہر بڑے آرٹسٹ کے آرٹ اور ہر صحیح الفطرت الہامی شاعر کے کلام میں آرٹ کا ایک مخصوص تصور پایا جاتا ہے۔ اگر ایک آرٹسٹ زندگی کو فراوانی اور فروغ نہیں بخشتا۔ اگر اس کے آرٹ سے بصیرت اور مسرت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اگر اس سے حیاتِ انسانی کے حقائق ِعقل انسانی پر واضح نہیں ہوتے اگر اس کی نگاہِ ممکنات زندگی پر نہیں رہتی تو ایسے آرٹسٹ کا آرٹ بے مقصد اور مہمل ہے جس کا کوئی مصرف نہیں۔ علامہ کہتے ہیں۔     اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ ہنر کیا
مقصودِ ہنر، سوزِ حیات، بدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثلِ شرر کیا
شاعر کی نوا ہو یا مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
بے معجزہ دنیا میں اُبھرتی نہیں قومیں 
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
اشعار بالا میں علامہ نے آرٹ کے متعلق اپنے تصور کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔ ان کی نگاہ میں حقیقی آرٹ یا ہنر وہ ہے جو ہر شے کی ماہیت تک پہنچے۔ جس کا مقصود سوزِ حیات ابدی ہو۔ جس سے انسانیت کا چمن افسردہ نہ ہو بلکہ جو اپنے اندر ایک ضربِ کلیمی پنہاں رکھتا ہو جس ضرب کا معجزہ قوموں کی ترقی کی صورت میں ظاہر ہو۔) جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -