ججز تقرر تنازع ،صدر کے پاس ”ویٹو“کااختیار نہیں

ججز تقرر تنازع ،صدر کے پاس ”ویٹو“کااختیار نہیں
ججز تقرر تنازع ،صدر کے پاس ”ویٹو“کااختیار نہیں

  

پاکستان بار کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کے رکن، وکلاءکے نمائندوں کی مشاورت کو مو¿ثر بنایاجائے اور اس سلسلے میں متعلقہ رولز میں ترمیم کی جائے۔ پاکستان بار کونسل نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جب تک رولز میں ترمیم نہیں ہوجاتی وہ جوڈیشل کمیشن میں اپنا نمائندہ نامزد نہیں کرے گی۔ پاکستان بار کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو اعلیٰ عدلیہ میں تقرر کے لئے ججوںکے نام تجویز کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

جوڈیشل کمیشن آئین کے آرٹیکل 175 (اے) کے تحت قائم ہے۔ جس کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہیں، جبکہ ارکان میں سپریم کورٹ کے 4 سینئر ترین ججز، ایک سابق چیف جسٹس یا سابق جسٹس (جسے چیف جسٹس پاکستان نامزد کریں گے) وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل پاکستان اورپاکستان بار کونسل کا نامزد کردہ ایک سینئر وکیل شامل ہے۔ یہ ارکان سپریم کورٹ میں کسی جج کے تقرر کے لئے سفارشات تیار کرکے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں۔ تاہم ہائیکورٹ میں تقرر کا معاملہ ہو تو متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، اسی ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج، متعلقہ صوبہ کا وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کا نامزد کردہ ایک نمائندہ بھی جوڈیشل کمیشن کے ارکان میں شامل ہوجاتا ہے۔ سابق جسٹس اور وکلاءنمائندوں کا تقرر دو سال کے لئے ہوتا ہے جو پورا ہوچکا ہے۔ اب جوڈیشل کمیشن میں نئے ارکان کی نامزدگیاں آئینی تقاضہ ہے۔ جس سے پاکستان بار کونسل پہلو تہی کررہی ہے۔ آئینی طور پر جوڈیشل کمیشن کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی بھی اپنے رولز خود وضع کرنے کی مجاز ہے۔ جوڈیشل کمیشن کے رولز کے تحت سپریم کورٹ میں جج کے طور پر تقرر کے لئے چیف جسٹس پاکستان نامزدگی کرتے ہیں، جبکہ ہائیکورٹ میں تقرر کے لئے متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نامزدگیاں کرتے ہیں جن کا کمشین کے اجلاس میں جائزہ لیاجاتا ہے۔ جوڈیشل کمیشن سے منظوری کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جاتا ے۔ یہ کمیٹی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے 4,4 ارکان پر مشتمل ہے جو تین چوتھائی اکثریت سے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مسترد کرسکتی ہے۔ اگر کمیٹی 14 روز کے اندر کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکے تو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات منظور شدہ تصور کی جائیں گی جن کے مطابق صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔ آئینی طور پر اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے حوالے سے صدر کے پاس محض رسمی اختیار ہے ، وہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات منظور کرنے کے پابند ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تبدیلی اور دو ججوں کی کنفرمیشن سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات سے صدر مملکت نے جو سلوک روا رکھا ہے وہ ان کے اختیارات کے منافی ہے۔ اس سلسلے میں آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی آئینی معاملے کو تشریح طلب خیال کریں تو اس کا ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیج سکتے ہیں۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کہ صدر فاروق لغاری نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر اور صدر پرویز مشرف نے حسبہ بل کے حوالے سے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجے تھے۔

 آئین کی تشریح اور دستور کی حفاظت کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔ سپریم کورٹ کسی بھی ایسے اقدام کا نوٹس لے کر حکم جاری کرسکتی ہے جس سے قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔ سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججوں کے کیس میں ججوں کے تقرر کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کے اختیارات کی بھی تشریح کرچکی ہے۔

آئین کے آرٹیکل 42 کے تحت صدر مملکت اپنے عہدہ کا حلف اٹھاتے وقت دستور کو برقرار رکھنے اور اس کا تحفظ اور دفاع کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ آئین کی منشا اور روح کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں ۔ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل بھی جوڈیشل کمیشن کے ارکان میں شامل ہیں۔ دونوں وکیل ہیں۔ اٹارنی جنرل تو پاکستان بار کونسل کے چیئرمین بھی ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں متعلقہ رولز کے خلاف آواز بلند کرسکتے تھے۔ یہ مجوزہ ججوںکے ناموں پر تحفظات کا اظہار کرسکتے ہیں، لیکن یہ کمیشن کے اجلاس میں ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کی خواہشات کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات مرتب نہ ہوں تو صدر کے ذریعے ان سفارشات کو ہی غیر مو¿ثر بنادیاجائے۔ آئینی طور پر صدر مملکت کے پاس ”ویٹو“ کا اختیار نہیں ہے وزارت قانون سمیت کسی وزارت کو بھی ایسی ایڈوائس دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے جس کے نتیجہ میں یہ محسوس ہو کہ صدر کے پاس ”ویٹو“ کااختیار ہے۔ جہاں تک پاکستان بار کونسل کے مو¿قف کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی قرار داد عدلیہ کو دباﺅ میں لانے کی کوشش ہے۔ کیا وکلاءنمائندوں نے کبھی کمیشن کے رولز پر اعتراض کیاتھا؟ اطلاعات کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے موجودہ رولز کمیشن کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر منظور کئے تھے۔ جن پر وزیرقانون، اٹارنی جنرل اور وکلاءکے متعلقہ نمائندوں (کمیشن کے ارکان) کے دستخط موجود ہیں۔ اس حوالے سے مناسب ہوتا کہ بار کونسل آئینی تقاضوں کے مطابق اپنے نئے نمائندے کی نامزدگی کرتی جو کمیشن کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھاتا۔ ججوں کا تقرر محض عدلیہ کا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے بار کا تعلق بھی جڑا ہوا ہے۔ وکلاءنمائندوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگیاں نہ ہونے سے اگر ججوں کے تقرر کا معاملہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات محض عدلیہ پر نہیں بلکہ وکلاءپر بھی پڑیں گے۔ اگر جوڈیشل کمیشن کے ہر رکن کو نئے ججوں کے نام تجویز کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو کسی نام پر اتفاق جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -