ریسکیوچیلنج ایک صحت مندسرگرمی!

ریسکیوچیلنج ایک صحت مندسرگرمی!

  

                                                                                                    یہ سچ ہے کہ آزادیِ اظہار کاحق ایک نعمت ہے اور آزادی بذاتِ خود بہت بڑی نعمت سے کم نہیں ،لیکن آزادی کی نعمت کی صحیح تعریف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جن کے آباﺅ اجداد نے اسے حاصل کرنے میں جانیں گنوائیں۔ کچھ ماہ قبل میرے ایک قریبی دوست ایڈووکیٹ خالد محمودنے جو کہ ایک منجھے ہوئے صحافی بھی ہیں ہرگوزیوینیاکے سابق صدرعلی عزت بیگووچ کی شہرہ ِ آفاق کتاب”نوٹس فرام پرزن“ کا اردوترجمہ ”جیل کی یادیں “ کے نام سے کیاہے۔ سانولہ گندمی رنگ، درمیانہ قد،گول چہرہ، سخت مونچھیں ،کھردرے ہاتھ ، گہری آنکھیں ، باوقارگفتگواور ادیان سے لے کردنیابھرکے سیاسی نظام تک خالد محمود کا وسیع مطالعہ ان کی شخصیت کاحسن ہیں۔یوں تو ہرنامورمصنف، سیاستدان ، فلاسفر قائداعظمؒ،کارل مارکس، سٹالن،ماﺅزے تنگ،ہوچی من، فیدل کاسترو، طیب اردگان اور دیگرعالمی رہنماﺅں پران کامطالعہ قابلِ تعریف ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ ڈاکٹرعلامہ اقبال اور علی عباس جلالپوری پرحرفِ آخرہیں جس انداز میں وہ ڈاکٹراقبال کی زندگی اور ان کے فن کاعملی انداز میں احاطہ کرتے ہیں میں نے سوائے ڈاکٹرخواجہ محمد زکریاکے اور کوئی ادیب ڈاکٹراقبال پراس انداز میں گفتگوکرتے نہیں دیکھا۔’جیل کی یادیں ‘میں علی عزت فرماتے ہیں کہ جب وہ جیل میں قید تھے تو ان کے خیال میں آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت تھی، لیکن پھروہ بیمارپڑگئے اور انہیں احساس ہواکہ دنیاکی سب سے بڑی نعمت آزادی نہیں، بلکہ صحت ہے۔ صحت صرف صحت مند جسم کاہی نام نہیں، بلکہ اُس جسم میں صحت مند اور توانادماغ کاہونے سے ہی ایک آدمی صحت مند انسان کہلاتاہے۔ یقینا صحت مندشہری ہی صحت مند معاشرے کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں ، بیمارجسم صحت مند دماغ کو بھی کُندکردیتاہے اسی لیے صحت کے خیال پراسلام میں بھی زور دیاگیاہے۔

پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122)،جس کے خالق ڈاکٹررضوان نصیرہیں جنہوں نے اس ادارے کوقائم کرکے پاکستان میں نہ صرف محفوظ معاشرے کی بنیادرکھی ہے، بلکہ آج اس ادارے کاشمار موٹروے اورنادراجیسے کامیاب اداروں میں ہوتاہے اور دنیابھرمیں پاکستان کی نیک نامی کاباعث بناہے۔ ڈاکٹررضوان نصیرایک کرشماتی شخصیت ہیں جوزیرو کو ہیروبنانے کافن جانتے ہیں اور پھراُس ہیرو کی ہیروازم نہیں مرنے دیتے۔ پہلے انہوں نے آٹھ ہزار سے زائد بے روزگارنوجوانوں کوروزگاردے کران کی زندگیوں کوسہارادیا، پھر انسانیت کی خدمت کافریضہ سونپااور پھرعوام کی نظروں میں ان کاقدکاٹھ اس قدراونچاکردیاکہ وہ اپنے معیارسے گرناخود پسند نہیں کرتے۔ جس کی زندہ جاوید مثال ریسکیو چیلنج ہے۔ ریسکیو1122ایمرجنسی سروسزاکیڈمی میں پاکستان کی تمام ایمرجنسی سروسز کی صلاحیتوں میں مزید نکھارلانے اور ریسکیورز میں ولولہ اور جوش پیداکرنے کے لئے ہرسال ریسکیو چیلنج کااہتمام کرتی ہے، جس میں مختلف مقابلہ جات منعقدکرائے جاتے ہیں جس کامقصد ریسکیورز کی صلاحیتوں میں مزیدنکھارلاناہوتاہے ، ریسکیورز فائرفائٹ، تیراکی، دوڑ، تقاریر،شاعری اور دیگرمقابلہ جات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی جسمانی نشوونماہوتی ہے، بلکہ انہیں ذہنی آسودگی بھی ملتی ہے۔ایک ریسکیور کی کارکردگی کوبڑھانے کے لئے یہ چیزیں لازم و ملزوم ہیں ۔یہ بات سولہ آنے درست ہے کہ عملی ہیروز سے لے کرفلمی ہیروز تک کسی ایسے ہیروکو ہیروماناہی نہیں گیاجس کاپیٹ بڑھاہواہو،جو چلنے سے قاصرہو۔ریسکیورکے لئے لازم ہے کہ وہ دیکھنے میں بھی ریسکیورہی نظرآئے ۔اس سال ریسکیو1122 چوتھانیشنل ریسکیوچیلنج منعقدکرارہی ہے جس کاچیف کوارڈی نیٹرہونہار ایمرجنسی آفیسرسیفٹی ، انوسٹی گیشن اینڈ مانیٹرنگ محمد احسن کو مقررکیا گیاہے ۔ اس چیلنج میں آزاد کشمیر، خیبرپختونخواہ، آرمی ، کراچی کی امن فاﺅنڈیشن ،سول ڈیفنس، گلگت بلتستان اور دیگرعلاقوں کی ایمرجنسی سروسز کی شرکت متوقع ہے ۔ایسے مقابلہ جات یقینا کسی بھی ایمرجنسی سروس کے معیارکو نہ صرف بڑھاتے ہیں، بلکہ ریسکیورز کے اندرجذبے ، لگن اور محنت کی اُمنگ جوان رہتی ہے ۔

ساتھ ہی ساتھ پہلی بارریسکیو1122پاکستان میں مقامی انڈسٹری کو متعارف کرانے کی غرض سے ایکسپوکرارہی ہے، تاکہ انٹرنیشنل فورم پر یہ پیغام دیاجاسکے کہ ریسکیو1122کے قیام سے کروڑوں روپے کازرِ مبادلہ جو مختلف گاڑیوں کی خریداری کی غرض سے باہر چلا جا تا وہ بھی پاکستان میں رہااور مقامی صنعت کو بھی فروغ ملا،بلکہ ریسکیو 1122،جس کا دائرہ کاراب صوبوں میں پھیل چکاہے اس پھیلاﺅ سے مقامی انڈسٹری کو اور پھلنے پھولنے کابھی موقع مل رہا ہے ۔ یہ ہماراملک ہے ، اِسے ہم نے سنوارناہے، ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔ صرف ہمیں ہی اِس سے پیارہے ،حالات جیسے بھی ہوں ہم ہی نے یہاں رہناہے اور اُن حالات کامرداناوارمقابلہ کرناہے۔ ٭

مزید :

کالم -