روشن چہرہ

روشن چہرہ
 روشن چہرہ

  

                                                                                        لاہور مےں جب سرد شامےں ڈےرہ ڈالتی ہےں تو کھابوں کی روائتی دکانوں پر کھانے کے شوقےن افراد ٹوٹ پڑتے ہےں۔ اندرون شہر لاہور مےں واقع مچھلی کی اےک معروف اور قدےم دکان پر کچھ اےسا ہی منظر ہمےں دےکھنے کو ملا، جہاں اےک طرف مچھلی تلی جا رہی تھی تو دوسری طرف مچھلی کے شکاری چاروں ہاتھوں سے مچھلی کے کانٹوں سے جنگ لڑ رہے تھے۔ ان کے کھانے کا انداز اتنا خونخوار نظر آ رہا تھا کہ کوسوں دور سمندر مےں تےرتی مچھلےاں بھی ےقےنا ہےبت زدہ ہوں گی۔ مہنگائی کے اس دور مےں مہنگی مچھلی کو جس مقدار مےں ےہ لوگ کھاتے ہےں،سرکار کو ان پےٹ کے پچارےوں پر ٹےکس عائد کرنا چاہئے ۔بے ہنگم قہقہے، بے ترتےب حلئے اور مچھلی کھانے کے دوران لغو گفتگو سے ان کی صدےوں کی بھوک جھلک رہی تھی ۔کھانے پےنے اور شور شرابے کا ےہ سلسلہ رات کے آخری پہر تک جاری رہا ۔

سپےدئہ سحر نمودارہوا اور ساتھ والی مسجد مےں اذان کی آواز بلند ہوئی ۔خوش قسمت لوگوں نے ان بابرکت لمحات کو عبادت مےں سمیٹا۔ سورج کی روشنی مچھلی کی دکان پر پڑی توجو روشن منظر نظر آےا، اس مےں اےک خاتون اپنے تےن بچوں کے ساتھ دکان کے باہر ڈرموں مےں پڑی مچھلی کے کانٹوں کے ساتھ بچے کھچے گوشت کو نکال نکال کر اپنے بچوں کا پےٹ بھر رہی تھی ۔ سوچنے کا مقام ہے کہ رات کو کےا سماں تھا؟ اوراب سورج کی روشنی مےں دل ہلا دےنے والا منظر !۔اےک اےسا ہی روشن منظر راوی کنارے نظر آےا ،جہاں علی الصباح بھوکے ننگے بچے درےا کی رےت سے ان پےسوں کو تلاش کر رہے تھے جو راوی پل سے گزرنے والے توہمات کے مارے لوگوں نے رات کو درےا مےں پھےنکے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ چےل کوے درےا مےں پڑے ہوئے صدقے کے گوشت کو نوچ رہے تھے ۔

انسانوں اور جانوروں کی بھوک کا ےہ روشن منظر ہر روز ہمارے معاشرے کے سامنے ہوتا ہے ۔اےسا ہی اےک منظر رےلوے ورکشاپ کے سامنے فروٹ اور سبزی منڈی کا بھی ہے ۔جہاں کہےں بے گھر خانہ بدوش زمےن پر پڑے گلے سڑے فروٹ کو نعمت سمجھ کر کھانے مےں مصروف تھے۔ آفتاب نے اےک اور اےسا منظر بھی دکھاےا کہ کوئےن مےری کالج کے سامنے بڑی گاڑیوں سے بچے شاہانہ انداز مےں اتر رہے تھے اور کالج کی دےوار کے ساتھ پڑے کوڑے کے سرکاری ڈرموں سے بے سہارا بچے اپنا رزق اور روزی تلاش کر رہے تھے ۔رنگ محل کی سونے کی مارکےٹ مےں، جہاں کارےگر سونے کو زےورات کی شکل دےنے کا کام کرتے ہےں وہاں بھی صبح کا منظر بڑا روشن ہوتا ہے اور قرب و جوا ر کے غربت کے مارے لوگ اس علاقے کی گندی نالےوں کوکھنگالتے نظر آتے ہےں کہ شاید انہےںسونے کا کوئی ذرہ مل جائے ،حالانکہ ان کے نصےب مےں کےچڑ کے سوا کچھ نہےں ہوتا ۔

اےسا ہی اےک روشن چہرہ کالا شاہ کاکو کے پاس جی ٹی روڈ پر بےٹھے ہوئے اےک فقےر کا ہے ، بےماری کی وجہ سے اس کا چہرہ غےر معمولی حد تک بگڑ گےا ہے ۔پچھلے کئی سال سے وہ انسان اس سڑک پر خےرات مانگ کر گزارہ کر رہا ہے ۔جی ٹی روڈ پر سے گزرنے والے ہر شخص نے ےقےنا ےہ چہرہ دےکھا ہوگا ۔سرکاری اور نجی اداروں کے سامنے ےہ چہرہ اپنی مدد کے لئے سورج کی روشنی مےں پکارتا رہتا ہے، لےکن کسی فلاحی اور سماجی تنظےم کو توفےق نہےں ہوئی کہ اس انسان کو نشان خےرات بنانے کی بجائے اس کا باقاعدہ علاج کرے ےا کم از کم اس کو دو وقت کی روٹی دے کر اسے تماشاگاہ سے ہٹا دے ۔اےسے کئی چہرے ہمارے معاشرے مےں ہر روز روشن نظر آتے ہےں، ان پر برےکنگ نےو زبھی نہےں چلتی۔بڑے بڑے مسائل اپنی جگہ ،معاشرے مےں اےسے تکلےف دہ روشن چہرے بھی توجہ کے مستحق ہےں ۔

مےاں نواز شرےف تےسری بار وزےراعظم بن گئے اور وزےراعظم بننا اب ان کے لئے کوئی بڑی بات نہےں، بلکہ وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے ےہ اعزاز ہے کہ مےاں نواز شرےف اس پر براجمان ہےں ۔مےاں نوازشریف نے جب انتخابی مہم چلائی تو لگتا تھا کہ شےر آ گےا ہے ۔وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مےاں نوازشریف کے چہرے پر سنجےدگی ہے، وقار ہے، انہےں بہت کچھ نظر آ رہا ہے۔ وزارت عظمیٰ ان کے لئے کوئی موج کی بات نہےں ہے، اب ان کا مقصد کچھ اور ہے ۔ان کے سامنے پاکستان کے سارے روشن چہرے موجود ہےں، انہےں حقےقت کا ادراک ہے انہےں دشمنوں کی طاقت کا بھی اندازہ ہے اور دوستوں کی منافقت بھی ان کے سامنے ہے ۔تنقےد ہو رہی ہے کہ مےاں نوازشریف خوش نہےں،ان کی باڈی لےنگوئج خوف مےں مبتلا ہے ،حالانکہ ےہ قطعاً حقےقت نہےں۔ ہمارے ملک خاص طور پر اس خطے کی خوش نصےبی ہے کہ مےاں نوازشریف جےسا لےڈر انہےں مےسر آےا ۔

آج جمہوری عمل اگر مضبوطی کی طرف جا رہا ہے تو اس مےں مےاںنوازشریف کی کاوشےں نماےاں ہےں ۔انہیں واقعی ہنسی نہیں آتی، ان کے اندر مسائل کے انبارروشن ہیںاور ان کا چہرہ ان کا ترجمان ہے۔اب وہ وزارت عظمیٰ کے مزے نہیں لینا چاہتے، مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ باتیں میاں نوازشریف کی خوشامد نہیں، بلکہ وہ سچائیاں ہیں، جن میں وہ وزارت عظمیٰ کے تیسرے دور سے گزر رہے ہیںاور اےسے بے شمار روشن چہرے ان کی آنکھوں کے سامنے ہےں ،بڑے بڑے مسائل حل کرنے ہےں، ےقےنا وہ کوشش بھی کر رہے ہےں، لےکن مچھلی کے بچے کھچے حصے سے بچوں کا پےٹ پالتی خاتون ،راوی کی رےت اور کوڑے دانوں مےں قسمت تلاش کرتے ہوئے معصوم بچے ، شےر شاہ سوری کی عظےم جی ٹی روڈ پر بےٹھا ہوا اےک معذور انسان اور ان جےسی بے شمار دوسری صورتےں بھی پاکستان کا روشن چہرہ ہےں۔ وزیراعظم کو ان چہروں سے بھی واقفےت حاصل کرنی ہے اور کرنی پڑے گی ،کےونکہ اےسے ہی غےرمعمولی نےک عمل ان کے چہرے کی روٹھی ہوئی مسکراہٹ کو واپس لا سکتے ہےں۔ ٭

مزید :

کالم -