شرمناک فعل میں ملوث پاکستانیوں پر برطانیہ میں مقدمہ

شرمناک فعل میں ملوث پاکستانیوں پر برطانیہ میں مقدمہ
شرمناک فعل میں ملوث پاکستانیوں پر برطانیہ میں مقدمہ

برمنگھم (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی کرنے والے گینگ کے نام خفیہ رکھنے کی پولیس کی درخواست پر شدید برہمی اور اشتعال کا اظہار کیا جارہا ہے۔ متعدد ایشیائی افراد پر مشتمل یہ گینگ نوعمر لڑکیوں کو ورغلا کر ان کی عصمت دری کرتا تھا اور ایک 17 سالہ لڑکی کا کیس منظر عام پر آنے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

برطانیہ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی پاکستانی لڑکی کی درد ناک کہانی

 ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمان کے نام خفیہ رکھے جائیں کیونکہ یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تقاضہ ہے کہ مجرم قرار دئیے جانے سے پہلے ان کے نام منظر عام پر نہ آئیں۔ پولیس کا موقف تھا کہ اس صورت میں ملزمان کو عوامی اشتعال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ مجرم نام ظاہر ہونے پر مشتعل ہوکر متاثرہ لڑکیوں کے خاندانوں کو نشانہ بنائیں۔ جج مائیکل کیہان نے اس درخواست کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے والوں کے بارے میں ساری دنیا کو پتا چلنا چاہیے تاکہ عوام ان سے خبر دار رہیں۔

ملزمان پر عدالت نے پابندی لگادی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر 18 سال سے کم عمر کسی بھی لڑکی کے قریب نہیں جاسکتے۔ گینگ کے ارکان میں 27 سالہ عمر احمد، 40سالہ ساجد حسین، 31 سالہ محمد انجم، 30 سالہ نسیم خان، 33 سالہ محمد جاوید اور 36 سالہ عالم شاہ شامل ہیں۔

 

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...