پاکستان اور افغانستان کے قومی سلامتی کے تقاضے

پاکستان اور افغانستان کے قومی سلامتی کے تقاضے
پاکستان اور افغانستان کے قومی سلامتی کے تقاضے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان خودایک سندھ تہذیب کا گہوارا ہے اور اس کی سرحدیں چار بڑی تہذیبوں سے ملتی ہیں ،یعنی بھارت ، ایران،وسطی ایشیاء اور چین کہ جس کے سبب پاکستان کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، لہٰذاافغانستان پر گفتگو کرتے ہوئے ان حقائق کو بھی سامنے رکھنا ہوگا ‘کہ پاکستان اور افغانستان کی سلامتی کے تقاضے ایک دوسرے سے کس قدر منسلک ہیں‘کیونکہ افغانستان درحقیقت ایشیا کے خطے کی تاریخ کی تبدیلی کا مرکزرہا ہے۔آج بھی 13سال کی جنگ کے بعد دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کو تاریخی ناکامی کا سامنا ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ وسائل رکھنے والی دوسپر پاور کواسی سرزمین پر شرمناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔ امریکہ کو اپنی عسکری اور اقتصادی قوت کا زعم ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اسی طاقت کے ذریعے وہ عالمی برتری قائم رکھ سکتا ہے۔اس غلط فہمی سے جو فکر پیدا ہوئی ہے وہ نہ صرف امریکہ، بلکہ پاکستانی حکومتوں پر بھی حاوی رہی ہے اورامریکی تجزیوں کو درست سمجھ کر ہماری حکومتیں غلط فیصلے کرتی رہی ہیں ‘ مثلأ1980میں جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد میں امریکہ کا ساتھ دینے کا غلط فیصلہ کیا۔ اور ہمیں بڑی مشکلات کا سامنا ہوا ۔ 2001میں جنرل پرویز مشرف نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا بدترین فیصلہ کیا‘ جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔اس لئے لازم ہے کہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں اوروہ ہماری قومی زندگی پر کیااثرات مرتب کرتے ہیں ۔ افغانستان سے ہمارا تعلق کیاہے‘ اور ہماری تاریخ اور مسائل کس حد تک مشترک ہیں۔

پہلی حقیقت : اقبال ؒ نے افغان دشمنوں کو ابلیس کی زبانی پیغام دیا تھاکہ افغانیوں کو قابو کرنا ہے تو جان لو کہ:

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتے نہیں ذرا

روح محمدؐ ان کے بدن سے نکال دو

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج

ملا کو اُن کے کوہ ودمن سے نکال دو

پچھلے 35سالوں سے افغانستان کے دشمن اِسی مزموم کوشش میں لگے رہے ہیں۔ سوویت یونین، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بدترین ظلم و دہشت گردی کا مظاہرہ کیا، لیکن اس کے باوجود افغانیوں کے عزم و استقلال میں نہ کوئی کمی آئی ہے نہ ہی ان کی غیرت دین متزلزل ہوئی ہے اور نہ ہی ان کوکوہ ودمن کے مسکنوں سے نکال سکے ہیں ۔آج ملا عمر کا یہ اعلان ہے کہ ’’غیر ملکیو‘ تم ہار گئے ہو، یہاں سے نکلواور ہم آزاد ہوں گے تو سب مل کر ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے ‘‘۔ آج حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے 90فیصد حصے پر طالبان کا تسلط ہے، جہاں اسلامی قانون نافذ ہے ۔اس حقیقت کو ہم جھٹلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔

دوسری حقیقت : صدیوں سے افغانستان کی جانب سے بے شمار حملہ آوروں نے برصغیر کی اس سرزمین پر حملے کئے ہیں جہاں آج پاکستان اور بھارت قائم ہیں۔42حملے تو تاریخ میں موجود ہیں اس سے پہلے کتنے حملہ آور آئے اس کا حساب نہیں ہے ۔’’یہ تاریخ کا دھارا ہے۔‘‘ انہی افغانیوں اور وسط ایشیا کے نوجوانوں نے ان حملہ آوروں کے خلاف یا تو جنگ کی یا جنگ میں شامل ہو کر برصغیر کو فتح کیا اور وہاں اپنی حکومتیں بنائیں اور صدیوں حکمرانی کرتے رہے۔ خود میرے آباء واجداد ا ازبکستان کی وادی فرغانہ سے ظہیر الدین بابر کے ساتھ افغانستان آئے۔ افغانستان پر بابر نے سولہ سال حکومت کی اورپھر بھارت کا رخ کیا ‘اسے فتح کیا اور مغل خاندان کی ڈھائی سو سالہ حکمرانی کی بنیادرکھی ۔شہنشاہ جہانگیر کے دور میں ہمارے بزرگ مرزا مسلم بیگ کو یک ہزاری کارتبہ دے کریو پی کے شہر اعظم گڑھ کے نزدیک آباد کیا جہاںآج بھی ہمارے خاندان کے لوگ موجود ہیں ۔ افغان اور وسط ایشیا مدارس کے طالبان نے بر صغیرپر حملے کے لئے آنے والے حملہ آوروں کی مدد کی اور اپنے سپاہی مہیا کیے ۔ چاہے وہ احمد شاہ ابدالی ہو ،غزنوی ،غوری یا بابر ہوں ‘ ان کے اکثر سپاہی اسی سرزمین سے آئے تھے ۔تاریخ کے اس دھارے کو نہ توسلطنت برطانیہ روک سکی اور نہ ہی ڈیورنڈ لائن ۔یہی وجہ ہے کہ روسی اور امریکی جارحیت کے خلاف بھی انہی افغانیوں نے بند باندھا ۔ جس کے نتیجے میں آج امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکل رہا ہے، لیکن اس میں سوویت یونین جیسا ظرف نہیں ہے کہ وہ اپنی شکست تسلیم کرلے۔ 1989ء میں سوویت یونین نے شکست تسلیم کرلی اورپاکستان کوپیغام دیا کہ ’’ ہم ہار گئے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں ۔‘‘اس وقت کے مجاہدین نے انہیں راستہ دے دیا، لیکن امریکہ میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ اپنی شکست مان لے اور افغانستان سے نکل جائے تاکہ وہاں امن کی راہوں کا تعین ہوسکے ۔

تیسری حقیقت:35سال سے افغانستان کی آزادی کی جنگ جاری ہے ۔افغانی پہلے سوویت یونین کے خلاف لڑے پھر انہیں آپس میں لڑایا گیا اور ان کو کمزور سمجھ کر امریکہ آن دھمکا ،لیکن انہی جنگوں کے سبب ’’عالم اسلام کی مدافعتی قوت‘‘ نے جنم لیاہے، جس کا مرکز یہی پختون قوم ہے جس کا 60فیصد پاکستان میں ہے اور 40فیصد افغانستان میں ہے،اور دونوں نے مل کر بیرونی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں۔اس ’’پختون قوت‘‘ کا پھیلاؤ کراچی سے لے کر کوہ ہندوکش تک ہے، جس سے مغربی دنیا خائف ہے۔اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی قومی سلامتی کے تقاضے مشترک ہیں۔اس حقیقت کو قائد اعظم ؒ نے سمجھا تھااور ان سرحدوں کی ذمہ داری انہی قبائلیوں کو سونپ دی تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کا کوئی بھی حکمران ساٹھ فیصد پاکستانی پختونوں کی مرضی کے بغیر حکومت نہیں کرسکا ہے ۔ جب بھی ان کی مرضی کے خلا ف کا بل میں کوئی حکومت بنی توتصادم ہوا ہے۔1970\'sء میں افغانستان میں ایسے حکمران مسلط کیے گئے جو پختونوں کی مرضی کے خلاف تھے اور جنگ ہوئی جو اب تک جاری ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ پاکستانی پختون اس حقیقت کا نام ہے جسے ’’ناقابل تردید اکثریتی حقیقت ‘‘(Tyrany of the majoriy)کہتے ہیں، جس کا تقاضا ہے کہ دونوں ملکوں کی سلامتی کے معاملات کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے،تو امن قائم رہے گا۔

چوتھی حقیقت: افغانستان کے 90فیصد علاقے پر طالبان کا تسلط ہے،جہاں انہی کا قانون نافذ ہے ۔اس سال کے آخر تک امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا اوراس کی دس بارہ ہزار فوج صرف چند ائر بیسوں پر رہے گی جہاں سے وہ اپنی فضائیہ کی مدد سے اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے ‘ جو ممکن نہیں ہے، کیونکہ طالبان کے خلاف امریکہ نے اربوں ڈالر خرچ کرکے تین لاکھ افغانوں پر مشتمل فوج تیار کی ہے، لیکن اس فوج کی کارکردگی کے بارے میں افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑنے والے امریکی کمانڈوجرنیل کا کہنا ہے کہ ’’ افغان نیشنل آرمی میں طالبان سے لڑنے کا حوصلہ نہیں ہے اور جب دباؤ پڑے گا تو یہ فوج خزاں کے پتوں کی طرح بکھرجائے گی‘‘۔ اِسی طرح جیسے عراق کی فوج پر دباؤ پڑا تو وہ بھی خزاں کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ یہی کچھ یہاں بھی ہونے والا ہے اور امریکہ اپنی ناکامی کی اصل تصویر دیکھنے سے خوفزدہ ہے اوراپنی مرضی کی حکومت افغانستان میں قائم کی ہے تاکہ یہ حکومت اس کے مفادات کا تحفظ کرسکے ۔ صدر اشرف غنی پاکستان آئے ‘ ان کا مقصد تھا کہ ان کی حکومت کو افغانستان کے طالبان اور پاکستان کی حمایت حاصل ہو،لیکن یہ امریکہ کی بڑی غلط فہمی ہے،کیونکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ اگلا سال افغانستان کی تاریخ کا اہم سال ہوگا اور کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہوگی، اور انتقال اقتدار طالبان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

پانچویں حقیقت: آپریشن ضرب عضب ،افغان صدر اشرف غنی کی آمد اور آرمی چیف کا امریکہ جانا بڑی اہمیت کے واقعات ہیں ۔اگرسوچ و عمل کی ہم آہنگی ہو تو اچھے نتائج نکل سکتے ہیں ۔پاکستان میں ہونے والا آپریشن غیر ملکیوں اور اپنے ملک میں دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف ہے ۔یقینابہت جلد ہماری فوج ان علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلے گی اور وہاں امن وا مان قائم ہوگا، لیکن اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پاک افغان سرحد پر ہماری ڈیڑھ لاکھ فوج لگی ہوئی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن میں مزید40ہزار فوج مصروف ہے۔ بھارت کے خلاف ہماری فوج کی نفری ناکافی ہے جو ایک خطر ناک صورت حال ہے، جس سے بھارت کے حوصلے بڑھیں گے۔ اس پس منظر میں جنرل راحیل کوامریکیوں کو بتانا ضروری ہے کہ افغانستان میں 1990ء جیسی سازشیں اب کام نہیں آئیں گی جب امریکہ نے سازش کے تحت افغانیوں کو لڑایا تھا اور آٹھ سال تک خانہ جنگی ہوتی رہی،جن لوگوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتی تھی ان کو اقتدار میں حصہ نہیں دیا گیا ۔اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ وہاں ایسی حکومت بنے جس پر فریقین کو اعتماد ہو ۔ اس لئے سازشوں سے اجتناب کیا جائے اور’’قانون فطرت‘‘ کے تقاضے پورے کیے جائیں، یعنی ’’دومتحارب قوتوں میں سے فتحیاب قوت ہی امن کی راہوں کا تعین کرے گی۔‘‘ آج کی کامیاب قوت طالبان ہیں اور انہی کوحق پہنچتا ہے کہ حکومت بنانے میں انہیں شامل کیا جائے ۔ تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے ، لیکن تدبر اور فراست سے افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت ضرور بن سکتی ہے جو تمام مسائل کا حل ہے۔

قانون فطرت کے خلاف عمل کرنے کے نتیجے میں آج مشرق وسطیٰ میں داعش جیسی قوت کا سامنا ہے، کیونکہ عراق میں جنگ جیتنے والوں کو اقتدار میں کوئی حصہ نہیں ملا۔ آج وہی سنی اقلیت جو جنگ جیتے تھے ‘داعش کا ہراول دستہ ہیں اور پوری دنیا کے جہادی ان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ‘ جس کے خلاف دنیا کی تمام قوتیں بے بس نظر آتی ہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے اب افغانستان میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے ورنہ یہاں بھی داعش جیسے عناصر سر اٹھائیں گے اورآگے بڑھیں گے، ان کی روایت ہے کہ جب وہ دریائے سندھ عبور کرلیتے ہیں تو پانی پت پہنچ کے رکتے ہیں جہاں فیصلہ کن جنگ ہوتی ہے۔ان حقائق کے تناظر میں افغانستان اور پاکستان کی سلامتی کے تقاضے نہ صرف مشترک نظر آتے ہیں، بلکہ بھارت کی سلامتی کی ضمانت بھی ہیں۔ اس حقیقت کو بھارت اگر سمجھ لے تو وہ تمام سازشیں جو افغانستان کی سرزمین سے پچھلے دس سال سے پاکستان کے خلاف جاری ہیں بند ہو جائیں گی اور افغانستان میں خلوص نیت کے ساتھ امن کی تلاش آسان ہوگی ۔

مزید : کالم