بجلی کے ساتھ گیس بھی، ہوتا ہے تماشہ۔۔۔

بجلی کے ساتھ گیس بھی، ہوتا ہے تماشہ۔۔۔
بجلی کے ساتھ گیس بھی، ہوتا ہے تماشہ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

غالب نے کہا تھا ’’ہوتا ہے شب و روز تماشہ مرے آگے‘‘ جو کچھ آج کل عوام کے ساتھ ہوتا ہے۔اس کے مطابق تو غالب واقعی ولی ہے، ویسے اس نے خود اپنے بارے میں بھی کہا ’’تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا‘‘۔ایک مسئلہ سے جان چھوٹتی نہیں کہ کوئی دوسرا سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، ابھی بجلی کی لوڈشیڈنگ سے دکھی تھے اور بڑی مشکل سے اسے برداشت کرنے کی عادت اپنائی اور اپنے معمولات لیسکو کی نوازشات کے مطابق بنائے تھے کہ نئی افتاد آ پڑی ہے کہ اب گیس بھی ملنا بند ہو گئی اور اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہونا شروع ہو گیا جو بجلی کے ساتھ ہوتا چلا آ رہا ہے، کیونکہ بجلی تو درشن دیتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے ، درمیان میں لیسکو والوں نے ایک نفسیاتی طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ ہر ایک گھنٹہ والی لوڈشیڈنگ کو پانچ سے پندرہ منٹ تک لمبا کر دیا جاتا ہے اور یہ اوپر والے منٹ جب چوبیس گھنٹوں کے حساب سے جمع کئے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ لوڈشیڈنگ تو ایک سو سے ایک سو پچاس منٹ تک یوں ہی بڑھ گئی، ہمارے رپورٹر بھائی بھی کاریگری کے ذریعے اس وقفہ کو بڑھائے جانے کا حساب ہی نہیں کرتے اور دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہی کا ذکر کرتے ہیں۔

بہرحال یہ تو بجلی کا حال تھا اور ہے کہ اب سوئی ناردرن گیس کے ایم ڈی صاحب نے بھی دس گھنٹے کی گیس شیڈنگ کے اوقات بتا دیئے اور کہا ہے کہ یہ سب کم از کم چار ماہ تو بھگتنا ہوگا، اس کے بعد اللہ مالک ہے۔اس سے پہلے کون سی سہولت تھی، کیونکہ گیس کا دباؤ شہر میں یکساں نہیں تھا، کہیں تو آ ہی نہیں رہی جبکہ کسی علاقے میں کچھ وقت کے لئے بند ہوتی تھی، گزشتہ روز سے تو حد ہو گئی کہ گیس ایسے وقت میں ملتی ہے جب آپ کو ضرورت نہیں اور وہ وقت کام کاج والے افراد کا گھر سے باہر گزرتا ہے۔

ہم نے لیسکو کے معمول کے مطابق خود کو عادی بنایا تھا، صبح پانچ بجے اٹھنا ہوتا ہے، گزشتہ ایک ہفتے سے الارم کی آواز پر جاگتے ہیں تو لوڈشیڈنگ سے واسطہ پڑتا ہے۔ معمول کے مطابق پانچ بجے بجلی آ جانا چاہیے، لیکن واش روم میں جانے کے لئے دس سے پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم ہو، یہ وقت کروٹیں بدل کر گزارنا پڑتا اور گزر ہی جاتا ہے، جس کے بعد وضو کرکے کپڑے تبدیل کر لیتے کہ نماز پڑھ کر سیر کے لئے جانا مجبوری ہے کہ ڈاکٹر حضرات نے پابند کیا ہوا ہے۔اب سیر کرتے سات تو بج ہی جاتے ہیں، اس کے بعد سیر صبح والی محفل جمتی ہے۔ہم وہاں جتنا بھی وقت گزارتے ہیں بے چین رہتے ہیں کہ آٹھ بجے پھر لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور اس سے پہلے کوشش کرکے شیو سے نہانے تک کا عمل پورا کرنا ہوتا ہے، چنانچہ دوستوں کو بھی بور کرتے اور خود بھی بوریت محسوس کرتے ہیں لیکن مجبوری گھر لے آتی ہے، اس کے باوجود اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ تاخیر ہو جائے اور یہ ہمارے لئے یوں پریشانی کا باعث بنتی ہے کہ اچانک لوڈشیڈنگ کا وقت ہو جاتا ہے۔ چلئے جوں توں کرکے واش روم سے باہر آکر اخبار پڑھنا شروع کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں جونہی نو بجے کے بعد بجلی بحال ہو ، صاحبزادی کوناشتے کے لئے کہا جاتا ہے اور اس مختصر وقت میں ٹی وی بھی دیکھ لیا جاتا ہے، کیونکہ دس بجے پھر سے برقی رو سے محروم ہونا ہوتا ہے۔

پچھلے چند روز سے بچوں نے مجبور کیا کہ گیزر چلا کر پانی گرم کر لیتے ہیں،چنانچہ معمول یہ بنایا کہ صبح پانچ بجے بجلی تشریف لے آئے تو گیزر آن ہو اور پھر نو بجے بند کر دیا جائے۔یہ عیاشی صرف تین دن میسر آئی۔گزشتہ صبح کوشش کی تو سرد پانی سے واسطہ پڑ گیا کہ گیس تو رات بھر نہیں آئی تھی۔قارئین! جس کے ساتھ بیتے اسی کو پتہ چلتا ہے، جب اچانک سرد پانی سے واسطہ پڑا تو گھگھی بندھ گئی اور آٹے دال کا بھاؤ یاد آنے لگا۔

صاحبزادی کو جگا کر ناشتے کے لئے کہا ٹوسٹ تو مل گئے کہ برقی رو کی مہربانی سے ٹوسٹر چل رہا تھا، لیکن جب رات والے سالن کو گرم کرنے یا انڈے فرائی کرنے کا مسئلہ آیا تو گیس غائب تھی، مجبوراً جام اور مکھن پر گزارہ کرنا پڑا لیکن پریشانی یہ بھی ہوئی کہ چاء نہیں بن پا رہی تھی۔اس کا حل ہماری صاحبزادی نے یہ نکالا کہ اوون میں پانی گرم کرکے ٹی بیگ اور خشک دودھ سے چاء بنا دی جو ہمیں بدمزہ لگی کہ عادت نہیں ہے۔

تو جناب محترم قارئین! اب آپ ہی انصاف فرمائیں کہ یہ تماشہ ہوا کہ نہ ہوا، رات بھر گیس نہ آئے، پانی گرم نہ ہو، نہانے کے لئے اگر آپ واسا کے پانی کا سہارا لیں تو لیسکو کی مہربانی سے سرد پانی سے واسطہ پڑے، اس سے آپ ہماری حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پہلے تو صرف لیسکو کا ہی رونا تھا کہ اب یہ گیس والے مہربان بھی شامل ہوگئے ہیں، جائیں تو جائیں کہاں۔

یہ جو اپنے سوئی ناردرن گیس والے ایم ڈی ہیں یہ بہت ہی اہل بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہیں کہ اس سیٹ پر ان کو اتنے سال ہو گئے کہ وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا، یوں لگتا ہے کہ یہ صدا سے ہیں اور قیامت تک رہیں گے کہ محترم پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ(ن) برسراقتدار آئے ان کی مہارت ناگزیر ہے، چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تین بار توسیع لے چکے ہیں اور ان کی مہارت ہی کے سبب توسیع دی گئی اور اب بھی حال ہی میں ایسا ہوا ہے ان کی مدت ملازمت بڑھتی ہے تو بڑھتی رہے کہ اس کے ساتھ ہی مسائل بھی بڑھ رہے اور شاید ان کی خدمات انہی مقاصد کے لئے مستعار ہیں۔

بہرحال یہ تو تماشہ ہو ہی رہا ہے۔ہماری مخلصانہ رائے یہ ہے کہ گیس والے ایم ڈی صاحب کو تا عمر توسیع دے دی جائے تاکہ وہ تحمل سے عوام کے مصائب میں اضافہ کریں اور اس کی ان کے پاس اہلیت بھی ہے کہ ان کو مدت ملازمت میں توسیع مل گئی ہے۔

جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو اب ہمیں پھر سے بجلی اور گیس شیڈنگ کے حوالے سے اپنا شیڈول ترتیب دینا ہوگا۔ بشرطیکہ لیسکو اور سوئی ناردرن والوں نے ایسا کرنے دیا کیونکہ زندگی گزارنے کے اوقات بھی انہی کے مرہون منت ہیں۔

مزید : کالم