کشمیر اور وزیراعظم کا دوٹوک موقف!

کشمیر اور وزیراعظم کا دوٹوک موقف!

وزیراعظم محمد نوازشریف نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت کشمیر کے حوالے سے اپنے قومی موقف پر قائم ہے اور بھارت سے جو بھی بات چیت ہو گی اس کے حوالے سے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا کشمیری کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کئی ابہام اور الزام مسترد کئے اور کشمیر کے حوالے سے قومی پالیسی پر ہی اصرار کیا۔ وزیراعظم نے جس روز اجلاس میں شرکت اور خطاب کیا اُسی روز بھارت کی طرف سے پھر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی گئی اور پانڈو سیکٹر میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کو دفاع میں جوابی کارروائی کرنا پڑی اور بھارتی توپوں کو خاموش کرایا گیا۔وزیراعظم کی طرف سے کشمیر کونسل میں خطاب اہم ہے کہ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔یہ انہی کے دور اقتدار میں ہوا کہ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتی وزیراعظم واجپائی لاہور آئے۔انہوں نے مینارِ پاکستان پر حاضری دی اور پھر اعلان لاہور بھی ہوا اور دوستی بس شروع ہوئی۔ مسلم لیگ(ن) کا آج بھی یہ دعویٰ ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی حکومت رہتی تو بھارت کے ساتھ کئی تنازعات طے ہو جاتے۔

بہرحال شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کے مطابق دونوں ممالک باہمی طرف پر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام تنازعات حل کرنے کے پابند ہیں اور پاکستان کی طرف سے کبھی انکار بھی نہیں کیا گیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا جو ممبئی کے واقعات کی وجہ سے معطل ہوا اور اب تک بحال نہیں ہو سکا، حالانکہ موجودہ دور میں ایک مرتبہ وزارتی سطح پر بات چیت شروع ہونے والی تھی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کی بھارت میں پاکستان ہائی کمشنر سے ملاقات کا عذر کرکے یہ سلسلہ بھی موقوف کر دیا اور اب تک بحال نہیں ہو سکا، اب کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر دونوں وزراء اعظم اکٹھے ہونے والے ہیں، تو خبروں اور افواہوں کا سلسلہ شروع ہے۔ اس تناظر میں دیکھاجائے تو وزیراعظم نے موقع جان کر بڑی خوبصورتی سے سب ابہام دور کردیئے ہیں ،جو بہتر اقدام ہے۔یقینی طور پر پاک بھارت تعلقات ایک نازک موضوع ہے اور اس پر محتاط ہی رہنے کی ضرورت ہے اور پھر پاکستان کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ اپنے موقف کا اظہار برملا کرے۔یہ بھی اپنی جگہ کہ دو ہمسایہ ممالک ہونے کی وجہ سے تعلقات خوشگوار اور بہتر ہونا چاہئیں جو دونوں ملکوں اور عوام کے مفاد میں ہے، لیکن اس کے لئے قومی غیرت اور اصولوں کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ *

گوجرانوالہ میں کشیدگی!

جلسے، جلوس ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے اور اسے ملنا چاہئے، لیکن اِسی جمہوریت میں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ سب پُرامن ہو اور جن عوام کے لئے دہائی دی جاتی ہے ان کو پریشانی سے بھی بچایا جائے، لیکن ہمارے ملک میں یہ جمہوری کلچر ابھی پختہ اور اصولوں پر قائم نہیں ہوا، اس لئے سیاسی حریف نہ صرف ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں، بلکہ ان کے کارکن آپس میں لڑتے بھی ہیں اور مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں۔

جہلم میں جب فائرنگ کا واقع ہوا تو ہم نے صبر برداشت اور حوصلے سے کام لینے کو کہا تھا، بدقسمتی شاید یہ ہے کہ آج سیاست کے دور میں برداشت اور صبر ہی نہیں ہے، اس لئے اب بھی ہر وقت تصادم ہی کا خوف رہتا ہے۔ایک اطلاع یہ ہے کہ گوجرانوالہ میں عمران خان کے جلسے کے لئے لگائے جانے والے بڑے فلیکسوں میں سے سات کو نقصان پہنچایا گیا،گوجرانوالہ میں کشیدگی بڑھ گئی، جو پہلے ہی سے موجود ہے۔عمران خان23نومبر کو جلسہ کریں گے، دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ برداشت اور امن ہی دونوں کے لئے مفید ہے۔ اگر ہنگامہ آرائی ہوتی ہے اور جلسے میں گڑ بڑ ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ملکی سیاست پر پڑے گا اور جلسے مشکل ہو جائیں گے، بہتر عمل یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے اکابرین فوری طور پر مداخلت کریں اور اپنی اپنی جماعت کے کارکنوں کو برداشت کی تلقین کریں۔ جھگڑا اور تصادم کسی کے حق میں نہیں۔

مزید : اداریہ