ملک نے صحت عامہ اور میڈیکل ایجوکیشن کے حوالے سے بہت ترقی کی، ڈاکٹر اعجاز

ملک نے صحت عامہ اور میڈیکل ایجوکیشن کے حوالے سے بہت ترقی کی، ڈاکٹر اعجاز

لاہور( جنرل رپورٹر)طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض اپنے حقوق سے آگاہ ہورہاہے۔ اسے مزید تجربات یا میڈیکل سٹوڈنٹس کی تربیت کیلئے بطور آلہ استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ مغرب میں اب طلبہ، ڈاکٹروں اور ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت اور ان کی کلینکل مہارت کو جانچنے کیلئے بناوٹی(Simulated)اور علامتی (Standardized) مریض استعمال کیے جارہے ہیں تاکہ اصل مریض کو کم سے کم خطرات لاحق ہوں۔ پاکستان میں بھی اس نئی ٹیکنالوجی کومتعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں"ہیلتھ پروفیشنلز کی تعلیم میں بناوٹی اور علامتی مریضوں کے کردار"کے موضوع پر شروع ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مشہور سرجن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن نے کہا کہ ملک نے صحت عامہ اور میڈیکل ایجوکیشن کے حوالے سے بہت ترقی کی ہے۔ آج سے چالیس پچاس سال قبل جن علاقوں میں ایک یا دو ایم بی بی ایس ڈاکٹرز بھی نہیں ملتے تھے وہاں اب سینکڑوں کی تعداد میں تربیت یافتہ ڈاکٹرز موجود ہیں۔ بد عنوانی سمیت ملک میں کئی خرابیاں ہیں لیکن جس زمین پر فیض اور جالب جیسے لوگ رہے ہوں وہاں ہر شے غلط نہیں ہوسکتی۔تین روزہ کانفرنس کا انعقاد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان، پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل اور پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن کے باہمی اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ کانفرنس میں برطانیہ ، سری لنکا، سنگاپور، سعودیہ عرب اور پاکستان سے 700سے زائدماہرین صحت اور میڈیکل ایجوکیٹرز شرکت رہے ہیں۔ وائس چانسلر لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جامشورو پروفیسر ڈاکٹر نوشاد اے شیخ نے کہا کہ پاکستان میں طبی تعلیم کے شعبے میں "بناوٹی اور علامتی مریض"دو اجنبی اصطلاحات ہیں۔ جلد یا بدیر ہمیں بھی اپنے طلبہ کی تربیت اور ان کی کلینکل مہارت کو جانچنے کیلئے مغرب کی جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑے گا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر منصور اکبر کندی نے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیمی معیار بڑھانے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایچ ای سی صحت عامہ میں بہتری کے حوالے سے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ وائس چانسلر یو ایچ ایس میجر جنرل ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم نے کہا کہ ڈاکٹر کیلئے اپنے مریض کا تحفظ سب سے بڑھ کر ہے۔ بناوٹی اور علامتی مریضوں کے ذریعے میڈیکل سٹوڈنٹس کلینکل مہارت حاصل کرسکتے ہیں اور یوں اصل مریض کو کم سے کم خطرات لاحق ہوں گے۔ کانفرنس میں لیور پول یونیورسٹی برطانیہ کے ڈاکٹر ڈیوڈ ٹیلر، لیور پول وومن ہاسپٹل این ایچ ایس فاﺅنڈیشن ٹرسٹ کے ڈاکٹر وکرم جاہ، کیل یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کی ڈاکٹر کے موہانا، نیشنل یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم سنگاپور کے ڈاکٹر گوپوسن، میڈیکل ایجوکیشن ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کولمبو سری لنکا کے ڈاکٹر گومندا پونم پورما، دمام یونیورسٹی سعودیہ عرب کے ڈاکٹر گوہر واجد اور پرووائس چانسلر یو ایچ ایس ڈاکٹر جنید سرفراز خان نے بھی خطاب کی۔کانفرنس 11سائنٹیفک سیشنز پر مشتمل ہے جس میں ورکشاپس ، پوسٹر اور پیپر پریزنٹیشنز، مختصر کورسز، تقاریر کے علاوہ ایک نمائش بھی شامل ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...