کم عمر کی شادی روکنے کے قانون پر عملدرآمد سوالیہ نشان

کم عمر کی شادی روکنے کے قانون پر عملدرآمد سوالیہ نشان

لاہور(رپورٹ:دیبا مرزا)پاکستان میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات میںروز بروز اضا فہ تشویش ناک ہے انٹرنیشنل این جی اوزکے مطابق 2010ءمیں پاکستان میں یہ شرح ہر ایک لاکھ میں سے پانچ سو کے قریب تھی البتہ ملک کے شہری علاقوں میں زچگی کے دوران اموات کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں کافی کم ہے جہاں تعلیم کی کمی اور طبی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث یہ شرح کافی زیادہ ہے جبکہ یونیسف کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ایک کروڑ لڑکیوں کی شادی اٹھارہ سال کی عمر سے قبل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بھی اموات میں اضا فہ ہوا ہے ،جبکہ پاکستان میں پنجاب جیسے ترقی یافتہ صوبہ میں بھی کم عمری کی شادی ایک رسم اور رواج کی طرح قائم ہے پاکستان میں سولہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی کو پہلے ہی غیرقانونی قرار دیا جاچکا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد ایک بڑا سوالیہ نشان ہے چھوٹی بچیوں کی شادیاں پاکستان کے متعدد دیہی علاقوں میں ایک روایت ہے۔ یونیسیف کی 2012ءمیں جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونیوالی 25 فیصد شادیاں کم عمر جوڑوں کی ہوتی ہیں۔جبکہ ملک میں 1990ءسے بچوں کی شادیاں غیرقانونی قرار دی جاچکی ہیں، ایک لڑکی کی عمر شادی کے وقت کم ازکم سولہ سال ہونی چاہئے مگر اب بھی یہاں پانچ سال کی عمر میں لڑکیوں کو زندگی بھر کے بندھن سے باندھ دیا جاتا ہے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اعداد و شمار کے مطابق ہر 20 منٹ بعد زچگی کے دوران ایک حاملہ خاتون موت کے منہ میں چلی جاتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں آخری مرتبہ پانچ سال قبل کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک تہائی لڑکیوں کی شادیاں 18 سال سے کم عمر ہی میں کر دی جاتی ہیں جب کہ 15 سے 19 سال کی عمر میں لڑکیاں ماں بن جاتی ہیں یا پھر وہ حاملہ ہوتی ہیں رپورٹ کے حوالے سے خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی نجی تنظیم وائٹ ربن کمپئن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عمر آفتاب ، ہوم نیٹ پاکستان کی ایگز یکٹو ڈائریکٹرام لیلی ،ڈاکٹر عائشہ نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کی اسمبلیوں اور سینیٹ میں موجودسینکڑوں خواتین ارکان کی طرف سے عام عورت کوحقوق کی فراہمی اور حالت زار سنوارنے کی جدوجہدکے بلند بانگ دعووں کے باوجود آج بھی پاکستان کی لاکھوں لڑکیوں کی شادی کم عمر ی میں کردی جاتی ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔گڑیوں سے کھیلنے کی عمرمیں بیاہی جانے والی یہ بچیاں 15سے 19سال کی عمر میں ماں بن جاتی ہیں کم عمری کی شادی کی وجہ سے لڑکیاں ناصرف اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپاتیں بلکہ ان کے ہاں کم وزن کے بیمار بچے بھی پیدا ہوتے ہیں جو اپنی پہلی سالگرہ سے بہت پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کم عمری کی شادیاں زچگی کے دوران اموات کی بڑی وجہ ہیں دنیا میں سب سے زیادہ کم عمری کی شادیا ںجنوبی ایشیا میں ہوتی ہیں جبکہ پاکستان میں 13فیصد بچیاں15سے 19سال کی عمرمیں شادی شدہ زندگی کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کردی جاتی ہیں1929ءکے چائلڈ میرج ایکٹ کے مطابق شادی کیلئے لڑکی کی عمر کم از کم 16سال مقرر ہے مگر ملک میں چائلڈ میرج کے حوالے سے پالیسی بنانے والے اور دیگر بااثر افراد نے ہمیشہ اسے نظر انداز کیا ہے ہوم نیٹ پاکستان کی ایگزیکٹوڈائریکٹر ام لیلیٰ اظہر نے کہا کہ چائلڈمیرج روکنے کیلئے تمام طبقات کو متحد ہوکر کردارادا کرنا ہوگا۔ چائلڈمیرج ایکٹ 1929پرنظر ثانی کی جائے اور کم عمری کی شادی روکنے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں روزانہ 25ہزار بچیوں کو دلہن بنا کر پرائے گھر روانہ کردیا جاتاہے جو کسی طرح بھی درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی شادیاں روکنے کیلئے خواتین ارکان اسمبلی، سول سوسائٹی اور پارلیمنٹ کردار ادا کرے۔تاکہ زچگی کے دوران ہو نے والی اموات کو روکا جا سکے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1