طب کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی سے علاج آسان ہو گیا،انجم حبیب وہرہ

طب کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی سے علاج آسان ہو گیا،انجم حبیب وہرہ

لاہور(جنرل رپورٹر)طب کے میدان میں جدید ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے امراض کی تشخیص اور ان کا علاج آسان ہوگیا ہے تاہم اس کے لیے معالجین کو مطلوبہ مہارت اور تعلیم ضروری ہے تاکہ وہ ان آلات اور تکنیک کا صحیح طور پر استعمال کرتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں ان خیالات کا اظہار پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے جنرل ہسپتال نیورو آڈیٹوریم میں ”امراض نسواں میں لیپروسکوپک سرجری“ کے موضوع پر منعقدہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا یہ ورکشاپ پروفیسر محمد اسلم نے سوسائٹی آف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شمسہ ہمایوں کے تعاون سے منعقد کی اس ورکشاپ کا مقصد پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو لیپروسکوپک سرجری کی جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروانا اور طریقہ کار کی تربیت دینا تھا اس موقع پر پروفیسر فرید ظفر، پروفیسر نزہت پروین خواجہ، ڈاکٹر نائیلہ طارق کے علاوہ کثیر تعداد میں ڈاکٹرز اور طلباءو طالبات موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے کہا کہ لیپروسکوپی سرجری کے ذریعے مریض کو کم سے کم تکلیف میں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے اور مشکل آپریشن بھی نہ صرف آسانی کے ساتھ مکمل کرلیے جاتے ہیں بلکہ مریض بھی جلد صحتیاب ہوجاتا ہے اور آئندہ زندگی میں بھی اسے اوپن سرجری سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا پروفیسر محمد اسلم نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کریں۔ پروفیسر شمسہ ہمایوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زچہ و بچہ کی شرع اموات بہت زیادہ ہے اور ہر سال مائیں دوران زچگی اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں ۔پروفیسر نزہت پروین خواجہ نے کہاکہ ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ تربیت اور ان کے نالج کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ مختلف تربیتی کورسز و سیمینارز اور ورکشاپ کا اہتمام آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ پروفیسر فرید ظفر و دیگر ڈاکٹرز نے بھی اپنے طویل تجربات کی روشنی میں لیکچر دیئے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1