شوکت خانم کینسر سمپوزیم ڈاکٹروں کے پر تشدد احتجاج کی وجہ سے منسوخ کیا،ڈاکٹر فیصل سلطان

شوکت خانم کینسر سمپوزیم ڈاکٹروں کے پر تشدد احتجاج کی وجہ سے منسوخ کیا،ڈاکٹر ...

لاہور(پ ر)شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا منعقدہ انٹرنیشنل کینسر سمپوزیم ، ینگ ڈاکٹروں کے پرتشدد احتجاج اور بیرون ملک سے آئے مندوبین کو ہراساں کرنے کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا۔ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں شوکت خانم انٹرنیشنل کینسر سمپوزیم کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ادارہ کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ کو مسترد کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹروں نے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والے سمپوزیم جس میں 27ملکوں سمیت ملک بھر سے آئے سےنکڑوں مندوبین اور ماہرین شرکت کررہے تھے کو اپنے پرتشدد احتجاج سے ہراساں کیا جس کی وجہ سے ادارہ کو مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ ینگ ڈاکٹروںکے اس طرز عمل سے ملک میں ہونے والی تعلیم اور تحقیق کی کاوشوں کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ آج تعلیم کو شکست ہوئی ہے اور بیرون دنیا کے مندوبین کے سامنے پاکستانیوں کا سر نیچا ہوا ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ اس سے پہلے ہسپتال سے نکالے گئے افراد اور ینگ ڈاکٹرزنے ہسپتال کے گیٹ پر ہلڑ بازی بھی کی تھی لیکن ہم نے پھر بھی صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا۔ یہ اندھیر نگری ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کا سمپوزیم ہے اور کچھ شرارتی عناصر جن کا ہسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے نے اس تعلیمی ایونٹ کو خراب کیا۔ انہوں نے ایک تدریسی عمل کے کام کو تباہ کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ پاکستان آنے سے گریز کریں گے حالانکہ پہلے ہی حالات ایسے ہےں کہ بیرون دنیا سے کوئی پاکستان نہیں آنا چاہتا۔ ہسپتال انتظامیہ اس واقعہ کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور ان عناصر سے کسی صورت بلیک میل نہیں ہوگی۔

کینسر سمپوزیم منسوخ

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...