راز کو راز رکھنا ہمارے دماغ اور جسم پر بہت بوجھ ڈالتا ہے

راز کو راز رکھنا ہمارے دماغ اور جسم پر بہت بوجھ ڈالتا ہے

برمنگھم (نیوز ڈیسک) ہم سب کی زندگی میں بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جنہیں ہم اپنے دل میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ بعض لوگ بہت ہمت کے ساتھ راز چھپا کر رکھتے ہیں اور بعض کوئی بھی بات راز نہیں رکھ پاتے۔ ڈاکتر ہریش شیٹھی کا کہنا ہے کہ راز کو راز رکھنا ہمارے دماغ اور جسم پر بہت بوجھ ڈالنا ہے اور ہمیں نفسیاتی مسائل کا شکار کرسکتا ہے کیونکہ ہمارا لخت الشعور ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ ہم راز اگل دیں۔ دوسروں کے رازوں سے بھی زیادہ بوجھ اپنے راز کو ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کی خفیہ باتوں کو کسی نہ کسی کو بتانے کی شدید طلب محسوس کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو راز بتانا ہی چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ راز ایسا ہو کہ جو آپ کو سکون نہیں لینے دے رہا اور آپ جسے بتانا چاہ رہے ہیں اس پر مکمل بھروسہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر آپ راز کو راز رکھنا چاہتے ہیں اور ذہن پر بوجھ سے بھی نجات چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل طریقے بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔٭ .... کسی کو بتانے سے بہتر ہے کہ اسے ایک خفیہ ڈائری میں لکھ لیں، آپ تالے والی ڈائری بھی استعمال کرسکتے ہیں۔٭.... آپ رازوں کو محفوظ کرنے والی مرتبان بھی استعمال کرسکتے ہیں، اپنا راز ایک پرچی پر لکھ کر خفیہ مرتبان میں ڈال دیں۔٭.... اگر آپ راز کا بوجھ بہت زیادہ محسوس کریں اور کسی کو بتا بھی نہ سکیں تو پیشہ ور نفسیات دان سے ملیں اور اس کے سامنے اپنا راز اگل دیں۔

مزید : صفحہ آخر