بینکوں میں بددیانتی اور منافع خوری کی تربیت کی جاتی ہے،سائنسی تحقیق

بینکوں میں بددیانتی اور منافع خوری کی تربیت کی جاتی ہے،سائنسی تحقیق

زیورچ (نیوز ڈیسک) جدید کاروباری دنیا میں اخلاقیات کو ثانوی حیثیت دے کر منافع کو سب سے اہم مقصد، بلکہ نصب العین قرار دے دیا گیا ہے اور اس دولت کے پجاری نظام کی بنیادی ستونوں میں سے ایک اہم ستون جدید بینکاری نظام ہے۔اگر آپ کو بھی کبھی کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیاں یا قرض پر سود در سود ادا کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہ بددیانت نظام ہے تو آپ کا خیال بالکل درست ہے کیونکہ سوئٹزرلینڈ میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بینکوں میں بددیانتی اور منافع خوری کی تربیت کی جاتی ہے۔ یونیورسٹی آف زیورچ کی اس تحقیق میں بین الاقوامی بینکوں کے 128 اہلکاروں کو شامل کیا گیا۔ایک تجربے میں انہیں ایک سکہ اچھال کر بتانا تھا کہ چاند اوپر ہے یا زنجیر اور صحیح جواب پر 20 ڈالر کا انعام دیا جاتا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ اپنے مخالفین سے زیادہ رقم جیت گئے تو تب ہی اسے رکھ سکیں گے تو انہوں نے کھل کر بے ایمانی کی اور بددیانتی کا مظاہرہ کرکے رقم جیتی۔ تحقیق میں شامل 26 فیصد بینک ملازمین نے بددیانتی کی جبکہ انہیں حالات میں دیگر شعبوں کے ملازمین نے نہ ہونے کے برابر بددیانتی سے کام لیا۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بینکوں میں منافع کمانے کے جنون کا کلچر پایا جاتا ہے جس کے تحت ملازمین اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر ہر قیمت پر دولت کمانا چاہتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر