امریکی صدر کا نواز شریف کو فون ،مجوزہ دورہ بھارت پر اعتماد میں لیا،جلد پاکستان کے دورے کا عندیہ

امریکی صدر کا نواز شریف کو فون ،مجوزہ دورہ بھارت پر اعتماد میں لیا،جلد ...

              اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور امریکہ نے جنوبی ایشیاءمیں امن اور خوشحالی کے فروغ کی مشترکہ خواہش کے تحت باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کر نے کےلئے رابطے قائم رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی قیادت کے ساتھ کشمیر کا معاملہ اٹھائیں ¾ مسئلہ کشمیر سے جلد حل سے ایشیاءمیں پائیدار امن ¾ استحکام اور اقتصادی تعاون ممکن ہو سکے گا ¾ پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کےلئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں ¾ بھارت ساز گار ماحول پیدا کرے۔امریکہ کے صدر براک اوباما نے جمعہ کی شام وزیر اعظم محمد نوا زشریف کو ٹیلیفون کیا گفتگو کے دور ان دونوں رہنماﺅں نے دوستانہ تعلقات ¾ پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا وزیر اعظم نواز شریف نے گفتگو کے دور ان امریکی صدر کے ساتھ گزشتہ سال اکتوبر میں واشنگٹن میں گرمجوش اور دوستانہ ملاقات کا ذکر کیا اور بعد ازاں رواں سال ہیگ میں نیوکلیئر سکیورٹی سمٹ کے موقع پر ہونے والی ملاقات کا تذکر بھی کیا نواز شریف نے پاک امریکہ تعلقات کی سمت پر اطمینان کا اظہار کیا جس میں گزشتہ سال ان کی حکومت آنے کے بعد سے بتدریج بہتری آرہی ہے صدر اوباما نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت مضبوط ہیں انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہارکیا کہ پاکستانی حکومت نے درست معاشی ترجیحات کا تعین کیا ہے اور وہ کامیابی سے درپیش چیلنجز پر قابو پا رہی ہے صدر اوباما نے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے آئندہ دورہ بھارت کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا اس موقع پر نواز شریف نے انہیں واشنگٹن میں دی گئی دعوت کاذکر کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی طرف سے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں امریکی صدر کا پاکستان میں خیر مقدم کرینگے صدر اوباما نے وزیر اعظم نواز شریف کو یقین دلایا کہ وہ صورتحال معمول پر آتے ہی پاکستان کا جلد دورہ کرینگے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے پاک افغان تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بتایا جس کا اظہار افغان صدر اشرف غنی کے حالیہ دورہ پاکستان سے ہوا ہے امریکی صدر نے اس حوالے سے نواز شریف کی کوششوں کو سراہا اور اس خطے میں امن و استحکام کےلئے اہم قرار دیا نواز شریف نے رواں سال اپنے دورہ بھارت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس مقصد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو آگے بڑھانا تھاتاہم بھارت کی جانب سے خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کے مذاکرات کی منسوخی اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ جیسے افسوسناک اقدامات کی وجہ سے یہ اشارہ ملا کہ بھارت تعلقات کو معمول پر لانے سے گریز کررہا ہے نواز شریف نے کہاکہ پاکستان نے دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کےلئے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ساز گار ماحول پیدا کرے اس حوالے سے صدر اوباما نے کہاکہ وہ پاکستانی موقف کو سمجھتے ہیں وزیر اعظم نے صدر اوباما پرزور دیا کہ وہ بھارتی قیادت کے ساتھ کشمیر کا معاملہ اٹھائیں کیونکہ مسئلہ کشمیر سے جلد حل سے ایشیاءمیں پائیدار امن ¾ استحکام اور اقتصادی تعاون ممکن ہو سکے گا دونوں رہنماﺅں نے جنوبی ایشیاءمیں امن اور خوشحالی کے فروغ کی مشترکہ خواہش کے تحت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مستحکم کر نے کےلئے رابطے قائم رکھنے پر اتفاق کیا ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...