جیلوں اور قیدیوں کی حفاظت کیلئے پولیس کا نیا کیڈر متعارف کروانے پر غور شروع

جیلوں اور قیدیوں کی حفاظت کیلئے پولیس کا نیا کیڈر متعارف کروانے پر غور شروع ...

          لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب حکومت نے جیلوں اور قیدیوں کی حفاظت کے لیے پولیس کا نیا کیڈر متعارف کروانے پرغور شروع کردیا ہے۔ نیا شعبہ انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے ماتحت جیل پولیس کا ہی حصہ ہوگا۔جس میںشامل اہلکارجیلوں کی باﺅنڈری وال سے باہر مگر مجموعی حدود کے اندر فرائض انجام دینگے ۔ نئے کیڈر کے قیام سے محکمے کو جیل کے حدود میں مقامی پولیس کی مدد کی ضرورت باقی نہیں رہیگی۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میا ں فاروق نذیر کا کہنا ہے نئے کیڈر کے قیام کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔معلوم ہواہے کہ 1854سے قائم محکمہ جیل خانہ جات پنجاب ، محکمہ داخلہ کا ذیلی ادارہ ہے۔جو 1894کے پریزنز ایکٹ اور 1978کے پاکستان پریزنز رولز کے تحت فرائض انجام دیتا ہے۔ صوبے کی مجموعی طورپر 32جیلوں میں 50ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔ اس ضمن میں محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے اہلکار جیلوں کے اندر ، قیدیوں کی حفاظت ، دیکھ بھال ،بحالی اور کسٹڈی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔جبکہ باﺅنڈری وال سے باہر جیلوں کی حدود اور جیلوں کی حدود کے باہر ایلیٹ فورس اور مقامی پولیس کے اہلکار جیلوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بعض اوقات پریزنز ڈیپارٹمنٹ اور مقامی پولیس کو اپنی اپنی جگہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایسے حالات میں پنجاب حکومت نے محکمہ جیل خانہ جات کے اندر ہی ایک نیا کیڈر متعارف کروانے پر غور شروع کردیا ہے۔ جو آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے ماتحت، جیلو ں کی باﺅنڈری وال سے باہر لیکن جیلوں کی مجموعی حدود کے اندر اپنے فرائض انجام دینگے ۔ کیڈر میں شامل اہلکارروں کو ایلیٹ پولیس کی طرح ٹریننگ دی جائیگی۔ اور وہ ہرطرح کا اسلحہ چلانے کیساتھ ساتھ دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہونگے۔ایسے اہلکاروں کو جیل پولیس کے اہلکاروں کی نسبت 25سے 40فیصد اضافی الاﺅنس دیا جائیگا۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کا کہناتھا کہ نئے کیڈر کے قیام کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ نیا کیڈر بننے سے بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اور جیلوں کی حفاظت بھی پہلے سے بہتر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں چار ہزار وارڈربھرتی کرکے نیا کیڈر بنایا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں 14سو وارڈر بھرتی کئے گئے ہیں۔جن میں سے ایک ہزار کو اٹک کے مقام پر حساس ادارے سے تربیت دلوانے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ٹریننگ کے بعد ان وارڈروں کو ابتدائی اور آزمائشی طورپر حفاظتی امورکے حوالے سے تعینات کیا جائیگا۔

مزید : صفحہ آخر