اوباما کا تاریخی اعلان ،پچاس لاکھ غیر قانونی افراد کو معافی

اوباما کا تاریخی اعلان ،پچاس لاکھ غیر قانونی افراد کو معافی

                  واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) صدر بارک اوبامہ نے اپنے وعدے کے مطابق وہ تاریخی اعلان کر دیا ہے جس کے ذریعے امریکہ میں مقیم تقریباً پچاس لاکھ غیر قانونی افراد کو عام معافی مل جائے گی۔ قانون ساز اداروں کو جہاں مڈ ٹرم الیکشن کے نتیجے میں ری پبلکن پارٹی کو مکمل برتری حاصل ہو گئی ہے انہوں نے نظر انداز کرکے ایک طرح سے اس کانگریس کے خلاف کھلی جنگ کاآغاز کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے جمعرات کی شام وائٹ ہاﺅس سے قوم کے نام پندرہ منٹ کا خصوصی خطاب کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ میں امیگریشن کا نظام ٹوٹا ہوا ہے جسے درست کرنے کے لئے انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔

صدر اوبامہ نے واضح کیا ہے کہ میرے آرڈر کی عام معافی قرار دیا جائے گا لیکن عام معافی تو اس آرڈر سے پہلے موجود ہے جہاں غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں کوئی ڈسپلن نہیں ہے۔ ہم نے تو ان کے لئے ایک نیاسسٹم وضع کیا ہے جس میں سرحدوں سے غیر قانونی افراد کی آمد پر سختی کی جائے گی۔ جرائم پیشہ افراد کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ اس آرڈر کا اطلاق نئے آنے والے لوگوں پر نہیں ہوگا۔ اگرچہ صدر اوبامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا آرڈر قانونی ہے تاہم اس کے جاری ہونے سے ایک نیا آئینی تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔

صدر اوبامہ نے کہا کہ امریکہ میں کم از کم پانچ سال سے مقیم غیر قانونی افراد کو یہ نئی ڈیل پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ ایسے افراد سامنے آکر اپنے آپ کو رجسٹرکرائیں۔ بیک گراﺅنڈ چیک سے کلیئر ہونے کے بعد انہیں ملک بدری سے استشنیٰ مل جائے گا اورانہیں کم از کم تین سال کے لئے ورک پرمٹ جاری ہو جائے گا۔

صدر اوبامہ نے اپنے مخالف کانگریس کے ری پبلکن ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس جامع امیگریشن بل کو منظور کریں جو کانگریس میں زیر التواءہے جس کے ذریعے غیر قانونی افراد کو شہری حقوق حاصل ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں وہ کانگریس سے منظورہونے والے بل پر دستخط کردیں گے جس سے ان کا اپنا جاری کردہ ایگزیکٹوآرڈرختم ہو جائے گا ۔

صدر اوبامہ نے کہا کہ آئیے ہم دیانت داری کا مظاہرہ کریں۔ لاکھوں لوگوں کو تلاش کرکے ملک بدر کرنا غیر حقیقی اقدام ہے ۔ یہ غیر قانونی افراد طویل عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں اورکم معاوضے والے سخت محنت کے کام کر رہے ہیں۔

آرڈر کے مطابق امریکی شہریت یا گرین کارڈ ہولڈر بچوں کے ان والدین کو جو یکم جنوری 2010ءسے امریکہ میں رہ رہے ہیں انہیں قانونی حیثیت مل جائے گی۔ ایسے افراد پر ایک خاص عمر کے حامل ہونے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب کوالیفائی کرنے والے افراد غیر قانونی عرصے کا ٹیکس جرمانے کے طور پر دیں گے اورآئندہ ٹیکس ادا کریں گے اور مکمل شہریت حاصل کرنے کے لئے موجود لائن میں سب سے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کریں گے۔

صدر اوبامہ نے امریکی قوم کو یاد دلایا کہ ہم امیگرینٹس کی قوم ہیں۔ میں نے طویل عرصہ تک انتظار کیا کہ امیگرینٹس کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کانگریس کو ئی اقدام کرے لیکن بالا آخر اب یہ یک طرفہ قدم اٹھانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ اب ہم بارڈر پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی وسائل فراہم کریں تاکہ وہ غیر قانونی افراد کے داخلے کو سختی سے روک سکیں اور انہیں واپس بھیج سکیں ۔ اب تعلیم یافتہ، ہنرمند اور بزنس کرنے کے اہل افراد کو قانونی حیثیت دے کر ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایاجائے گا۔

جس وقت صدر اوبامہ تقریر کر رہے تھے اس وقت امیگریشن اصلاحات کے متعدد حامی وائٹ ہاﺅس کے باہر امریکی پرچم لہرا کر صدراوبامہ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ صدر کی تقریر کے فوراً بعد ری پبلکن ارکان نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ہفتوں میں قانون سازی کے مختلف طریقوں کو استعمال کرکے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر پرعمل درآمد کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ ایوان نمائندگان کے ری پبلکن ارکان کا کہنا تھا کہ صدر کے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے انہیں جو فنڈ درکار ہوگا وہ سالانہ اخراجات کے عمل کے ذریعے اسے روکنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ایوان نمائندگان کی فنڈ متعین کرنے والی کمیٹی کے ارکان کا خیال ہے کہ صدر کو اپنے پروگرام کے لئے فنڈدرکار نہیں ہیں کیونکہ اس پر عمل درآمد کرنے والی سرکاری ایجنسی ،یو ایس سی آئی ایس سارا کام فیسوں کی وصولی کے ساتھ کرتی ہے اسے کانگریس کے ذریعے فنڈ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...