شریک ملزمان سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے سے پرویز مشرف اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے

شریک ملزمان سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے سے پرویز مشرف اپنے مقصد میں ناکام ...
شریک ملزمان سے متعلق خصوصی عدالت کے فیصلے سے پرویز مشرف اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ -:سعید چودھری

                             مسٹر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں قائم تین رکنی خصوصی عدالت نے غداری کیس میں پرویز مشرف کی درخواست پر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ، سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد (جوموجودہ حکومت کے بھی وزیر ہیں )اور سابق چیف جسٹس پاکستان عبدالحمید ڈوگر کو شریک ملزم قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ان افراد کو پرویز مشرف کے ساتھ شریک ملزموں کے طور پر شامل تفتیش کیا جائے اور 15روز میں ترمیمی استغاثہ پیش کیا جائے ۔ایک فاضل رکن مسٹر جسٹس یاور علی خان نے خصوصی عدالت کے دیگر دو جج صاحبان کے نقطہ نظر سے اختلاف کیا ہے اوراپنے الگ نوٹ میں استغاثہ کے وکلاءسے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسی کوئی شہادت سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر مذکورہ تینوں شخصیات کو شریک ملزم قرار دیا جاسکے۔ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف 3نومبر 2007کو آئین سبوتاژ کرنے پر سنگین غداری کے الزام میں ہونے والا ٹرائل عملی طور پر معطل ہوگیا ہے ۔یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک خصوصی عدالت کے حکم کی روشنی میں ترمیمی استغاثہ (چالان) پیش نہیں کردیا جاتا ۔بظاہر پرویز مشرف کی درخواست جزوی طور پر منظور ہوگئی ہے تاہم وہ اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔پرویز مشرف کی کوشش کی تھی کہ 3نومبر 2007کو موجود تمام کور کمانڈرز اور گورنروں سمیت 600افراد کو بھی شریک ملزم بنایا جائے تاکہ ایک ایسا پنڈورا بکس کھل جائے جسے عدالت بند نہ کرسکے ۔علاوہ ازیں اس درخواست کا ایک مقصد یہ بھی نظر آتا ہے کہ سابق اعلی ٰ فوجی افسروں پر غداری کا مقدمہ چلانے سے جو شدید رد عمل سامنے آتا اس کے نتیجے میں پرویز مشرف کی خلاصی کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ۔

خصوصی عدالت کے اس حکم کے حوالے سے یہ قانونی سوال بھی سامنے آیا ہے کہ کیا خصوصی عدالت ایسا حکم جاری کرنے کی مجاز تھی ؟سنگین غداری کی سزا کے قانون مجریہ 1973کے سیکشن 3میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی عدالت اس وقت تک آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کسی شخص کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں کارروائی نہیں کرسکتی جب تک کہ وفاقی حکومت یا اس کا مجاز نمائندہ تحریری طورپر مقدمہ دائر نہ کرے ۔اس کا مطلب ہے کہ آرٹیکل 6کے تحت سزا دلوانا ہر شہری کا نہیں بلکہ صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار اور استحقاق ہے ۔اب یہ حکومت نے طے کرنا ہے کہ اس کے نزدیک سنگین غداری کا مرتکب کون شخص ہوا ہے ۔کیا اس سیکشن کی موجودگی میں خصوصی عدالت حکومت کے نامزد کردہ ملزم کے علاوہ بھی دیگر افراد کو شریک ملزم ٹھہرا سکتی ہے ؟یہ عدالت ایک خصوصی قانون کے تحت معرض وجود میں آئی ہے اور اس قانون میں واضح طور پر تحریر ہے کہ اس عدالت کو ہائی کورٹ کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے ۔ایسی قانونی صورتحال میں یہ عدالت متعلقہ مقدمہ کی حد تک قانون پر عمل داری کا حکم نامہ جاری کرنے کی مجاز ہے ۔یوں خصوصی عدالت کا مذکورہ حکم اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں ہے ۔تاہم یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے اس لئے آئین کے آرٹیکل 6اور سنگین بغاوت کی سزا کے قانون کے تحت ٹرائل سے متعلق عدالتی نظائر موجود نہیں ہیں ۔خصوصی عدالت سمیت اعلی ٰ عدالتیں اس حوالے سے آئین یا قانون کی جو بھی تشریح کریں گی عوام اس سے پہلی مرتبہ متعارف ہوں گے اور ان پر قانونی حلقوں میں بحث بھی ہوگی ۔اس لئے اس بات کا واضح امکان ہے کہ خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا ۔استغاثہ کے وکلاءنے شریک ملزموں کے خلاف کارروائی کے لئے پرویز مشرف کی درخواست کی مخالفت کی تھی تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ حکومت خود سپریم کورٹ میں جائے گی بلکہ متاثرہ افراد زاہد حامد ،شوکت عزیز اور عبدالحمید ڈوگر میں سے کوئی ایک یا سب عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے ،جس کے بعد اس ٹرائل کے حوالے سے صحیح سمت کا تعین ہوسکے گا۔

اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کیس (جسے عرف عام میں پی سی او کیس بھی کہا جاتا ہے)کے فیصلے میں 31جولائی 2009کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو 3نومبر 2007کے اقدام کا واحد ملزم قرار دیا گیا تھا ۔مسٹر جسٹس یاور علی خان نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو اپنے اختلافی نوٹ کی بنیاد بنایا ہے ۔اس اختلافی نوٹ میں اٹھائے گئے نکات اپنی جگہ پر وزن رکھتے ہیں تاہم فیصلہ وہی نافذ العمل ہوگا جو خصوصی عدالت کے ارکان کی اکثریت نے دیا ہے ۔فیصلے کی اس قانونی حیثیت کے باوجود جسٹس یاور علی خان کے اختلافی نوٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس اختلافی نوٹ سے خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والے بھی استفادہ کریں گے ۔اطلاعات کے مطابق خصوصی عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے 9دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ،جس سے قبل اس کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں استغاثہ کے وکلاءکی طرف سے پرویز مشرف کی شریک ملزموں سے متعلق مذکورہ درخواست کی مخالفت سے بھی یہ عندیہ ملتا ہے کہ حکومت اس کیس میں مزید ملزموں کو نامزد نہیں کرنا چاہتی ۔یہ کہنا خارج ازامکان نہیں کہ خصوصی عدالت کی طرف سے ترمیمی استغاثہ کے لئے دی گئی معیاد میں توسیع کی کوشش کی جائے گی ۔اس فیصلے کے عمومی اثرات سے قطع نظر ،اس سے پرویز مشرف کو اس حد تک فائدہ ضرور پہنچا ہے کہ ان کے خلاف ٹرائل کا عمل رک گیا ہے ۔معاملہ سپریم کورٹ میں جانے کی صورت میں یہ ٹرائل مزید لٹک سکتا ہے ۔

مزید : تجزیہ