شوکت خانم ہسپتال کے سمپوزیم میں بر طرف ڈاکٹرز کا ہنگامہ سکیورٹی اہلکاروں کیساتھ مار کٹائی 4 ڈاکٹرزخمی

شوکت خانم ہسپتال کے سمپوزیم میں بر طرف ڈاکٹرز کا ہنگامہ سکیورٹی اہلکاروں ...

                                لاہور(جنرل رپورٹر)شوکت خانم ہسپتال سے ڈاکٹرز کو فارغ کیے جانے کیخلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ روز فلیٹی ہوٹل میں معقدہ سمپوزیم میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔اس دوران ینگ ڈاکٹر ز اور شوکت خانم ہسپتال کی نجی سیکیورٹی کے درمیان مارکٹائی شروع ہو گئی جس کی زد میں آکر چار ڈاکٹرز شدید زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ہنگامہ آرائی اتنی شدید تھی کہ خوفزدہ ہو کر ہوٹل انتظامیہ نے شوکت خانم کے زیر اہتمام تین روزہ سمپوزیم جاری رکھنے کی اجازت منسوخ کر دی اس دوران تین مرتبہ سمپوزیم شروع ہوا مگر تینوں مرتبہ ہوٹل انتظامیہ کو ہنگامہ آرائی کیوجہ سے تقریب روکنا پڑی اور آخر کار دوپہر کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے سمپوزیم مکمل طور پر بند کر دیا ۔زخمی ہونیوالے ڈاکٹروں میں شبیر،صابراور وائی ڈی اے چلڈرن ہسپتال کے صدر ڈاکٹر سعود اور ڈاکٹر اشرف کے نام شامل ہیں اس حوالے سے وائی ڈی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عامر بندیشہ کا کہنا ہے کہ شوکت خانم انتظامیہ کی نجی سیکیورٹی کے تشدد سے زخمی ہونے والے ڈاکٹروں کا میڈیکل حاصل کر لیا ہے جلدہسپتال انتظامیہ کےخلاف مقدمہ درج کرائیں گے ان کا کہنا تھا کہ شوکت خانم ہسپتال انتظامیہ کو کسی قصور کے بغیر برطرف کیے گئے بے گناہ ڈاکٹروں کو بحال کرنا ہو گا ورنہ شوکت خانم کیخلاف دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا اور انہیں شہر میں کسی جگہ تقریب نہیں کرنے دی جائے گی۔ڈاکٹر عامر نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم انتظامیہ کو قبل ازیں کہا تھا کہ سمپوزیم میں صرف شوکت خانم کے رجسٹر ڈاکٹروں کو داخلے کی اجازت ہو گی ہم نے پر امن احتجاج ریکارڈکرانا چاہا مگرہمارے پر امن احتجا ج پر ہسپتال انتظامیہ نے اپنی نجی سیکیورٹی سے تشدد شروع کر ا دیا جس کی زد میں آکر ہمارے چار ڈاکٹر زخمی ہو گئے ہم نے انتظامیہ سے کہا کہ ہمارے برطرف کئے گئے ڈاکٹروں کیخلاف الزامات پر انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے جو وہ نہیں لا سکے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ مادر پدر آزاد ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔اس حوالے سے شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹروں نے زبردستی سمپوزیم میں گھستے ہوئے ہمارا پروگرام خراب کیا قانونی چارہ جوئی کریں گے۔گزشتہ روز فلیٹیز ہوٹل میں شوکت خانم ہسپتال کے زیر اہتما م ہونے والے سمپوزیم کی اطلاع پا کر ینگ ڈاکٹرز بھی ہوٹل کے باہر پہنچ گئے اور حال کے باہر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی بعض ڈاکٹر سمپوزیم کے اند ر داخل کر اور شرم کرو حیا کرو برطرف ڈاکٹروں کے نعر ے لگائے جس پر وہاں موجود ڈاکٹر اور سیکیورٹی گتھم گتھا ہو گئے ۔حالات خرا ب ہونے پر دونوں طرف سے مزید کمک منگوا لی گئی اور فلیٹیز ہوٹل کچھ دیر کےلئے میدان جنگ بن گیا معاملے کو کنٹرول کرنے کےلئے ہوٹل انتظامیہ نے پولیس طلب کر لی پولیس نے آکر حالات کو کنٹرول کی اور معاملہ رفع دفع کروا دیا۔ اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماوں ڈاکٹرعامر بندیشہ ، ڈاکٹر ناصر عباس و دیگر کا کہنا تھا کہ ہمارے 250 کے قریب ڈاکٹرز سمپوزیم کے لئے رجسٹرڈ تھے جنہیں غیر قانونی طور پر سمپوزیم میں داخل ہونے سے روکا گیا جبکہ اس دوران اپنے گارڈز سے تشدد بھی کروایا گیا جس سے ہمارے ڈاکٹرز سعود ، ڈاکٹر صابر ، ڈاکٹر شبیر چودھری سمیت دیگر زخمی ہوگئے ہیں ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ جب تک ڈاکٹرز کی بحالی نہیں ہوگی احتجاج جاری رکھا جائیگا اور شوکت خانم کے سامنے جاری رہے گاجبکہ کل سے ہم شوکت خانم کے انتظامی رویے کے خلاف بطور احتجاج کالی پٹیاں باندھ کر کام کریںگے اور زخمی ہونے والے ڈاکٹرز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی علاوہ ازیں سی پی ایس پی کے کنونشن پر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے ۔

برطرف ڈاکٹرز کا ہنگامہ

مزید : صفحہ آخر