جلسے، جلوس کاروبار اور ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث!

جلسے، جلوس کاروبار اور ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث!
جلسے، جلوس کاروبار اور ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث!

تجزیہ، چودھری خادم حسین

پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کی لاہور آمد پر ان کا پُرجوش استقبال ہوا، انہوں نے حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضری بھی دی۔ یہاں تک وہ ایک جلوس کی شکل میں آئے اس میں گاڑیاں بھی تھیں، موٹر سائیکل سوار تھے تو معتقد گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگ بھی رہے تھے۔اس جلوس کا روٹ اگرچہ رنگ روڈ کے راستے بنایا گیا تاہم اس کی وجہ سے ٹریفک میں رکاوٹ یقینی تھی اور پھر جب یہ مزار پر پہنچے تو وہاں ٹریفک جام ہو گیا۔ میڈیا نے اس کی پوری طرح کوریج کی، لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کی گاڑی کے سامنے احتجاج اور مظاہرے کو اہمیت نہیںدی گئی۔ اگرچہ ان مظاہرین کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا دوسرے مظاہرین کا ہوتا ہے اور پھر یہ مظاہرہ مخالفانہ تھا نہ وہاں مخالفانہ نعرے تھے ایسا ہوتا تو تصادم ناگزیر تھا یہ مظاہرین تو اس علاقے کے تاجر تھے جن کا موقف ہے کہ سیاسی قائدین جلوسوں کی صورت میں سلام کے لئے آتے ہیں تو ان کا کاروبار بُری طرح متاتر ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات ان کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ گفتگو کے دوران ان حضرات کا کہنا تھا کہ حضرت علی ہجویری ؒ کا مزار عقیدت کا مرکز ہے یہاں زائرین عقیدت ہی سے آتے ہیں، سیاسی قائدین اگر اِسی جذبے سے آتے ہیں تو پھر ان کو عام زائرین کی طرح آنا چاہئے ورنہ یہاں آمد کے پروگرام نہ بنایا کریں اور خاموشی سے ہو کر چلے جائیں۔

ان تاجروں کے موقف اور مطالبے کا جواب ہمارے پاس تو نہیں ہے، یہ خود سیاسی قائدین ہی کا فرض ہے کہ وہ جواب دیں یا پھر تاجروں کی بات پر توجہ دیں کہ عقیدت اور سیاست کو الگ کیا جائے۔ بہرحال ایک بات تو طے ہے کہ جلسہ اور جلوس کسی کی بھی جماعت کا ہو اس سے ٹریفک بھی متاثر ہوتی اور تاجروں کا کاروبار بھی زد میں آتا ہے۔ اس لئے یہ خود سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اس امر کا اہتمام کریں کہ ان کے کسی جلسے یا مظاہرے کی وجہ سے پریشانی کی صورت نہ بنے۔ اسی بناءپر عدالت عالیہ نے شاہراہ قائداعظم کے تاجروں کی درخواست پر اس شاہراہ پر ریلیوں اور جلوسوں کی ممانعت کی تھی، ان پر پوری طرح عمل نہیں ہوتا، ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ اکثر چند درجن لوگ فیصل چوک میں دھرنا دے کر یا مظاہرہ کرتے ہوئے جان بوجھ کر ٹریفک بند کرتے ہیں کہ پریشانی پیدا ہو، تاہم کئی بار یہ بھی نظارہ دیکھا کہ مظاہرین نے آدھا حصہ بالکل خالی رکھا اور ان میں سے چند ایک نے ٹریفک بحال رکھنے کے فرائض سنبھالے ہوئے ہیں۔ آج کل نہ تو الیکشن ہیں اور اب تو کوئی بڑی تحریک بھی نہیں ہے اس کے باوجود ایسا ماحول بنایا گیا ہے جس سے بدامنی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا خیال رکھنا جانا چاہئے۔

عمران خان نے لاڑکانہ کے باہر جلسہ کر لیا، اب تک خبریں دیکھی اور پڑھی جا چکی ہوں گی وہ جس سونامی کا ذکر کر رہے تھے وہ نہیں آ سکا، بلکہ شاہ محمود قریشی کے الزام نے بہت کچھ واضح کر دیا،ان کے مطابق پولیس نے جلسے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا، جبکہ سندھ میں لاڑکانہ انتظامیہ کے مطابق عمران خان اور شاہ محمود کے علاوہ شیخ رشید کے بیانات کے باعث حالات پر نظر رکھنا انتظامیہ کا فرض ہے۔ کسی نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، پولیس حفاظت کے لئے موجود تھی۔

لاڑکانہ والے جلسے میں بہرحال تناﺅ کا موجود ہونا کچھ عجب نہیں، کہ حالات ہی کچھ ایسے ہیں۔ تحریک انصاف کے جلسوں نے فضا کو گرما رکھا ہے اور عمران خان کھلے بندوں بہت کچھ کہتے ہیں، جبکہ شیخ رشید مُلک میں آگ لگا دینے کی بات کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بازار داتا گنج بخش ؒ کے تاجروں کے موقف کی حمایت کو جی چاہتا ہے۔ پُرامن اور ماحول کو خوشگوار رکھنا سبھی کا فرض ہے اور جمہوریت کا حسن یکطرفہ نہیں چہار طرفہ ہوتا ہے۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری فضا کو گرمائے رکھنا چاہتے ہیں، ہر دو حضرات کل(اتوار) دو مختلف شہروں میں اپنے اپنے جلسے کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھکر اور عمران خان گوجرانوالہ میں ہوں گے اور وہی مخصوص طرز عمل ہو گا جو اب تک چلا آ رہا ہے۔ گوجرانوالہ میں کشیدگی بھی ہے، اب یہ پنجاب حکومت کا ایک نیا امتحان ہے کہ امن برقرار رہے۔ جلسوں میں رکاوٹ نہ ہو، حکومت نے یہی عندیہ دیا ہے اس لئے اکابرین کو بھی چاہئے کہ وہ کارکنوں کو بھی تلقین کریں اور خود بھی شعلہ افشانی سے گریز کریں یہ تو الیکشن سے بھی کچھ زیادہ کا ماحول بن گیا ہے۔ عمران خان30نومبر پر بہت انحصار کر رہے ہیں۔ حکومت جوابی طور پر دفاع کے لئے تیار ہے، اولیت امن کو ہے تاہم دوسرے پہلو بھی نظر انداز نہیں کئے گئے۔ اب ایک بار پھر دونوں قائدین متفق ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں جنرل راحیل شریف نے وعدہ کیا تھا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقاتی کمیٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسر بھی ہوں گے۔ اب عمران خان کہتے ہیں یہی وعدہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے کیا گیا۔ اب یہ آئی ایس پی آر کا فرض بن گیا ہے(اپنی قیادت) فوج کے سربراہ سے پوچھ کر وضاحت کریں کہ چیف کا نام برملا لیا جا رہا ہے۔30نومبر بھی بھاگی چلی آ رہی ہے۔ شیخ رشید نے اب عید قربان کے بعد نئی تاریخ دے دی جو 23مارچ 2015ءہے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...