تبدیلی، مگر کیسے؟

تبدیلی، مگر کیسے؟
تبدیلی، مگر کیسے؟

  

گزشتہ دو ماہ سے وطن عزیز میں تبدیلی اور انقلاب کا راگ الاپا جا رہا ہے بلاشبہ ہر پاکستانی بہتر قانون کی عملداری، بہتر حالات کار، مساوی اقتصادی مواقع اور ہر کسی کیلئے انصاف سمیت خواہشات اور خوابوں کا لامتناہی سلسلہ رکھتا ہے۔ یہ خواب اور یہ خواہشات ہمیشہ زندہ رہنی چاہیں لیکن ہر ذی شعور شخص کو ان کی تکمیل کے طریقہ کار کو بھی پرکھنا چاہئے کہ کیا یہ قابل عمل ہے؟

جمہوریت ہو یا آمریت، یا آمریت کی متعارف کردہ جمہوریت، ہمارے ملک میں ہمیشہ اشرافیہ کی حکومت رہی، یہ فرق ضرور پڑا کہ پچھلی چند دہائیوں سے عوامی شعور کی مسلسل بیداری نے اب ہر کسی کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور ضرور کر دیا ہے لیکن کیا یہ حقیقی عوامی نمائندگی رکھتا ہے؟ کیا یہ جمہوریت کسی پھیری والے یا چائے بیچنے والے کو وزیراعظم کے عہدے تک پہنچا سکتی ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہو گا کیونکہ بھلے ہی کسی سیاسی رہنماءکی نیت میں اخلاص ہو، بھلے ہی لوگوں کے خوابوں کی تکمیل کا مصمم ارادہ لے کر آئے، اسے ایم پی اے اور ایم این اے تو درکار ہیں۔ ہر پارٹی رہنماءنشستوں پر ہارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس طرح اس کی حکومت نہیں بن پائے گی۔ لہٰذا وہ اکثریت کے حصول کیلئے عام آدمی کی جگہ مالی طور پر مستحکم امیدوار کو ٹکٹ دیتا ہے اور نتیجہ وہی نکلتا ہے جو برسوں سے نکل رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں کو اشرافیہ کی بلیک میلنگ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں متناسب نمائندگی کا نظام مفید ہو سکتا ہے، جہاں جماعتوں کے منشور کو ووٹ ملے اور ووٹ ملنے کے تناسب سے ہر جماعت کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے ارکان نامزد کرنے کی اجازت ہو۔ اس طرح جماعتی (پارٹی) وابستگی اور قربانی کی بنیاد پر لوگ نامزد ہوں اور اگر یہ لوگ اسمبلیوں میں آئیں گے تو ”راج کرے گی خلق خدا“ کی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔

مزید برآں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی اور بااثر فصلی بٹیروں کے چنگل سے آزاد ہونگی۔ شخصیت پرستی پر نظریے اور تصور کی جیت ہو گی۔ میری دانست میں یہی حقیقی تبدیلی کا طریقہ کار ہے۔

مزید : کالم