فلم سٹوڈیو ز عدم توجہ کے باعث بد حالی کا شکار

فلم سٹوڈیو ز عدم توجہ کے باعث بد حالی کا شکار
فلم سٹوڈیو ز عدم توجہ کے باعث بد حالی کا شکار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

            لاہور(حسن عباس زیدی )سٹوڈیو فلم میکنگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ‘ جس میں فلم میکر کو لوکیشنز‘ مشینری اور پوسٹ پروڈکشن سمیت تمام سہولیات ایک چھت تلے میسر ہوتی ہیں۔ہمارے عظیم الشان سٹوڈیوز ویرانی کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ نان پروفیشنل لوگوں کا فلم میکنگ کے شعبہ میں آنے کو قرار دیا جاتا ہے۔پاکستان بھی ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں فلم میکنگ کرنے کے لئے شاہ نور‘ باری ‘ایورنیو اور شباب جیسے بڑے وسیع وعریض فلمی سٹوڈیو موجود ہیں۔جس میں لاتعداد خوبصورت لوکیشنز اور فلورز ہیں جہاں ہر قسم کے سیٹ لگائے جاسکتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد دوسرے شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری کا آغاز بھی انتہائی نامساعد حالات میں ہوا۔ ویسے تو قیام پاکستان سے پہلے ہی لاہور میں فلمسازی ہورہی تھی اس وقت پنچولی سٹوڈیو‘ پنجاب سٹوڈیو‘ سکرین اینڈ ساونڈ سٹوڈیو ‘سٹی سٹوڈیو میکلوڈ روڈ‘ آر ایل شوری کا سٹوڈیو(شاہ نور) تھے‘جہاں پر فلمیں بن رہی تھیں۔ان میں اپرمال لاہور میں پردھان سٹوڈیو ستمبر 1947ءمیں دیوان سردار لال نے کھولا تھا ۔ دو شوٹنگ فلور ‘ ایک عدد لیبارٹری اور چند دفاتر پر مشتمل اس سٹوڈیو کے مالک سیٹھ دلسگھ ایم پنچولی تھے ۔ وہ اکتوبر میں ممبئی سے آئے اور یہاں پہلی فلم کا افتتاح ہدایتکار عاشق بھٹی کی فلم ”دوکنارے“کا ہوا ‘اسی سال کے آخر میں سیٹھ دلسگھ ممبئی واپس چلے گئے اور دیوان سرداری لال اس کو چلاتے رہے۔ 1950ءمیں ملکہ پکھراج جو اس دور کی مشہور گلوکارہ تھیں‘ہجرت کرکے لاہو رآگئیں۔جنہوں نے اس سٹوڈیو کو اپنے نام الاٹ کرایا اور یہاں تین فلمیں پروڈیوس کیں۔ یہ سٹوڈیو کچھ عرصہ پرانے نام سے ہی چلایا جاتا رہا بعدازاں اس کا نام ملکہ سٹوڈیو رکھ دیا گیا۔1953ءمیں یہ اسٹوڈیو فلم کوآپریٹو لمیٹڈ کو ٹھیکہ پر دے دیا گیا۔ یہاں روحی ستمگر وغیرہ چار فلمیں بیک وقت شروع ہوئیں لیکن ایک سال بعد یہ ادارہ دیوالیہ ہوگیا اور انتظام دوبارہ ملکہ پکھراج نے سنبھال لیا ملتان روڈ پر پہلاسٹوڈیو 1945ءمیں آر ایل شوری نے تعمیر کیا اور اس میں دو شوٹنگ فلور تعمیر کئے گئے۔ 1947ءمیں یہ سٹوڈیو تباہ وبرباد ہوگیا۔ 1949ءمیں اسے سید شوکت حسین رضوی اور ملکہ ترنم نورجہاں کو الاٹ کر دیا گیا، اس کا نام شاہ نور اسٹوڈیو رکھا گیا۔ لیکن یہ بھی پانچ چھ سال بعد ڈبلیو زیڈ احمد کی عدم توجہی سے بند ہوگئی۔ آج بھی یہ ایک ویران کھنڈر کی طرح موجود تو ہے جہاں ایک آدھی کسی ڈرامہ کی ریکارڈنگ ہوہی جاتی ہے۔ سنے ٹل اسٹوڈیو ‘ سکرین اینڈ ساونڈ اسٹوڈیو‘ سٹی اسٹوڈیو‘ اے ایم سٹوڈیو اور ڈبلیو زیڈ سٹوڈیو تو فلم انڈسٹری کے عروج میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے ‘جن کے بند ہونے سے کوئی زیادہ فرق تو نہیں پڑا تھا کیونکہ زیادہ تر ایورنیو ‘ باری ‘شاہ نور اور شباب سٹوڈیوز میں ہی کام ہوتا تھا‘جہاں فلمساز کو دفتر اور فلم کی پروسیسنگ سمیت تمام سہولیات دستیاب تھیں۔ پاکستان فلم انڈسٹری پچھلے پندرہ سالوں سے شدید بحران سے دوچار ہے‘ جس کے باعث ایک طرف سینکڑوں ایکسٹرا فنکاروں اور تکنیک کاروں کا معاشی قتل ہوا ‘وہیں سٹوڈیوز کے نگارخانوں پر مستقل طور پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک آنے والی تمام حکومتیں اس کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آرہی ہیںحکومت کو چاہیئے کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم ازکم ان سٹوڈیوز کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر ان کو ختم ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کرے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو تو دکھا سکیں کہ ہمارے پاس بھی فلمی نگارخانے ہیں جہاں کبھی یادگار فلمیں بنا کرتی تھیں۔

مزید : کلچر