کیلے اور انسان میں گہرا تعلق سائنس نے بتا دیا

کیلے اور انسان میں گہرا تعلق سائنس نے بتا دیا
کیلے اور انسان میں گہرا تعلق سائنس نے بتا دیا

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) جدید دور کے زیادہ تر ماہرین حیاتیات و جینیات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ا نسان کا ظہور لاکھوں سال پہلے بندروں کی نسل سے ہوا اور اس کے ایک ثبوت کے طور پر یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ انسانوں اور آج کے بندروں کے ڈی این اے میں 98.8 فیصد مماثلت ہے۔

کیلے کے پوشیدہ فوائد

کچھ دیگر سائنسدان اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ یہ اہم سوال اٹھادیا گیا ہے کہ اگر ڈی این اے کی مماثلت ہی ایک نسل سے تعلق ظاہر کرتی ہے تو پھر بندروں کی طرح کیلے بھی انسانوں کے آباﺅ اجداد ہیں۔

سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کیلے کا ڈی این اے بھی انسان کے ڈی این اے سے 50 فیصد مماثلت رکھتا ہے۔

ان سائنسدانوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اگر جینز کے دوہرے پن کو دیکھا جائے تو انسانی ڈی این اے کی بندر کے ڈی این اے کے ساتھ مماثلت 98.8 فیصد نہیں بلکہ 96 فیصد ہے۔ اگرچہ یہ مماثلت بھی کیلے کے ساتھ 50 فیصد مماثلت سے کافی زیادہ ہے لیکن بہر حال کیلے کے ڈی این اے کے ساتھ مماثلت نے نئے سوال کھڑے کردئیے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نئے انکشافات کی بنیاد پر ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر زندگی کا آغاز ایک نقطے سے ہوا لیکن یہ درست نہیں ہوگا کہ انسان بندر کی نسل سے وجود میں آئے کیونکہ اس صورت میں کیلے کو بھی انسانی آباﺅ اجداد میں شمار کرنا پڑے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس