اڑنے والے سانپوں کے بارے میں دلچسپ تحقیق

اڑنے والے سانپوں کے بارے میں دلچسپ تحقیق
اڑنے والے سانپوں کے بارے میں دلچسپ تحقیق

  

لاہور (نیوز ڈیسک) شاید آپ نے بھی بچپن میں اپنی دادی اماں سے اڑنے والے سنہرے سانپ کی کہانی سنی ہو، جسے ہمارے روایتی قصوں میں سانپوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سانپ واقعی حیققت ہے اور جنوب مشرقی ایشیاءکے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔

اڑنے والے سانپ کو فلائنگ سنیک بھی کہا جاتا ہے، جبکہ اس کا سائنسی نام Chrysopelera ہے۔ اس کے جسم پر چمکدار سنہری دھاریاں ہوتی ہیں اور اگرچہ یہ زہریلے ترین سانپوں میں شمار نہیں ہوتا لیکن چھوٹے جانوروں اور پرندوں کو مارنے کیلئے اس کا زہر کافی ثابت ہوتا ہے۔ اس سانپ کی سب سے حیرت انگیز بات اس کی اڑنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے پیٹ پر کھردرے چھلکے ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ با لکل عمودی درختوں پر بھی بآسانی چڑھ جاتا ہے اور بلند ٹہنیوں پر پہنچ کر اپنی دم کو ٹہنی کے سرے سے لپیٹ کر ایک زبردست چھلانگ لگادیتا ہے۔ یہ ہوا میں اڑتے ہوئے اپنے پیٹ کو پھیلا لیتا ہے اور یوں اس سے پروں کا کام لیتا ہے اور ناقابل یقین 300 سے 400 فٹ کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ یہ بھارت، چین، سری لنکا، فلپائن، ویت نام، کمبوڈیا اور لاﺅس کے جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی اڑنے کی حیران کن صلاحیت سے متاثر ہوکر امریکی محکمہ دفاع اس پر تحقیق کررہا ہے تاکہ اس سے ملتے جلتے روبوٹ بنائے جاسکیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس