اپارٹمنٹ میں خودکش دھماکہ خاتون نہیں مرد نے کیا

اپارٹمنٹ میں خودکش دھماکہ خاتون نہیں مرد نے کیا
اپارٹمنٹ میں خودکش دھماکہ خاتون نہیں مرد نے کیا

  

پیرس (ویب ڈیسک) پیرس کے شمال میں واقع ایک نواحی علاقے کے اپارٹمنٹ سے ایک خاتون کی نعش بھی برآمد ہو گئی ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پیرس حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو ہلاک کیا تھا، دوسری طرف فرانسیسی صدرنے کہا ہے کہ پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والوں کیلئے یادگاری تقریب 27 نومبر کو ہو گی، اس یادگاری تقریب میں ہلاک شدگان کو قومی سطح پر خراج عقیدت پیش کیا جائیگا۔ لوگ ان مقامات پر بھی جمع ہوں گے، جہاں حملے کئے گئے تھے۔ 26 سالہ حسنہ آیت بوالحسنہ کی شناخت بھی فنگر پرنٹس کی مدد سے ہوئی ہے۔ یہ خاتون عبدالحمید اباعود کی کزن تھی۔ استغاثہ نے بتایا ہے کہ تحقیقاتی عمل میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عبدالحمید اباعود نے کیا حملوں میں بھی حصہ لیا تھا یا صرف ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ فرانسیسی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں کا منصوبہ ساز مراکشی نڑاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود تھا، جسے پولیس چھاپے کے دوران ہلاک کیا گیا۔ پیرس پر حملوں کے بعد ملک میں فوری طور ہنگامی حالت کے نفاذ کے تحت مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے لیکن درجنوں فرانسیسی فنکار اور ثقافتی شخصیات نے لوگوں کو رات کے 9 بجکر 20 منٹ پر ’بہت زیادہ شور مچانے اور روشنی کرنے‘ کو کہا ہے۔ یہ حملے اسی وقت شروع ہوئے تھے۔ استغاثہ نے سات گھنٹوں پر محیط کارروائی میں ہلاک ہونے والے تین مشتبہ افراد کی لاشوں میں سے دو کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حسنہ آیت بوالحسن کا پاسپورٹ ان کی نعش کے پاس سے ملا ہے۔ عبدالحمید کے والد عمر ابا عود نے کہا کہ اسے افسوس ہے کہ اس کا بیٹا پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا، کاش کہ وہ زندہ ہوتا۔ دریں اثناء پولیس کا کہنا ہے کہ حسنہ نے خود کو دھماکے سے انہیں اڑایا تھا، اپارٹمنٹ میں دھماکہ کرنے والا خودکش بمبار کوئی خاتون نہیں مرد تھا۔ پیرس پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ سٹیڈیم پر حملہ کرنے والے دوسرے خودکش بمبار کی شناخت ہو گئی دوسرا خودکش بمبار اکتوبر میں یونان کے ذریعے فرانس میں داخل ہوا تھا۔ فرانسیسی سینٹ نے بھی ہنگامی حالت میں تین ماہ کی توسیع کی منظوری دیدی ہے۔رائٹر کے مطابق پیرس حملہ کرنے والوں نے 57 ہزار ڈالر خرچ کئے ہیں۔ پراسیکیوٹر کے مطابق حملہ آور یونان کے ذریعے آئے۔

مزید : بین الاقوامی