پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پُرامن دوسرا مرحلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پُرامن دوسرا مرحلہ
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پُرامن دوسرا مرحلہ

  

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی خیروعافیت کے ساتھ پُرامن ماحول میں پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ دوسرے مرحلہ میں بھی صوبے کے 12اضلاع میں یہ انتخابات منعقد ہوئے لیکن حکومت پنجاب کے اقدامات اور وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی امن و امان برقرار رکھنے کیلئے متعلقہ محکموں کو دی گئی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی اور ماسوائے چند ایک لڑائی جھگڑے اور معمولی فائرنگ کے واقعات کے ،پورے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مثالی رہی۔ جو چند واقعات ہوئے ان میں ملوث سیاسی پارٹیوں کے ورکرز کے خلاف پولیس اور انتظامیہ نے بلاامتیاز سب کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ افراد کو گرفتار کرکے مقدمات درج کئے گئے۔ صوبے میں بلدیاتی الیکشن کرانا اگرچہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن جب ایک طویل عرصہ کے بعد انتخابات کا انعقاد ہو تو سیاسی پارٹیوں کے ورکرز اور حامیوں کا جوش خروش اور اپنے امیدواروں کی سپورٹ میں ریلیاں ، کارنر میٹنگز منعقد کرنا، جگہ جگہ بینرز اور ہورڈنگز لگانا ایک فطری عمل اور جمہوریت کا حسن ہے تاہم ایسے وقت میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سارے عمل کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں مکمل کرنے کیلئے اقدامات کرے تاکہ ناصرف سیاسی ورکرز میں لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ نہ ہو بلکہ ووٹرز میں بھی احساس تحفظ پیدا ہو اور وہ بلاخوف و خطر اپنا ووٹ اپنی مرضی کے مطابق اپنے پسندیدہ امیدوار کو ڈال سکیں۔

اس مقصد کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جن اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جو حکمت عملی وضع کی اور جس پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جس کے نتیجہ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ نہایت احسن طریقہ سے پرامن ماحول میں مکمل ہوا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی طرح دوسرے مرحلہ کا اختتام احسن طریقہ سے ہونے کا کریڈٹ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف، پراونشل کیبنٹ کمیٹی برائے لاء اینڈ آرڈر، محکمہ پولیس اور متعلقہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو جاتا ہے جن کی دن رات کی محنت اور بروقت اقدامات کی بدولت یہ سب ممکن ہوا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پرامن ماحول میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرا کے ملک میں جمہوریت کی جڑوں کو مزید گہرا اورمضبوط کیا ہے جس سے عوام کا حکومت پراعتماد بڑھا ہے اور اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلہ میں ووٹ ڈالنے کی شرح پہلے مرحلہ کے مقابلے میں 5فیصد تک بڑھی ہے کیونکہ عوام نے بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ پرامن ماحول میں ہونے کا مشاہدہ کر لیا تھا۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ اس کے صورتحال کا 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا اور لوگ زیادہ تعداد میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی طرف مائل ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں حلقہ انتخاب چونکہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لئے زیادہ پولنگ سٹیشن بنانا پڑتے ہیں اور یونین کونسل کی سطح تک سیاسی ماحول گرم ہوتا ہے لہٰذا لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے متعلقہ 12اضلاع میں محکمہ داخلہ، پولیس اور دیگر ایجنسیزکو الرٹ کیا۔ ایلیٹ فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے جوان، ایک لاکھ 5ہزار پولیس کے افسران و جوان، پاک فوج کی 40کمپنیاں اور رینجرز کی 8کمپنیاں بھی 11ہزار 862پولنگ اسٹیشنزاور34ہزار 883پولنگ بوتھ پر سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے ڈیوٹی پر تعینات کئے گئے تھے اور تمام مرحلوں کی باقاعدہ مائیکروپلاننگ کی گئی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے حکم جاری کیاکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کا کوئی بھی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ نہیں کرے گا تاکہ دیگر سیاسی جماعتوں کو کوئی عذر ہاتھ نہ آئے۔

حکومت پنجاب نے تمام بلدیاتی امیدواروں کو اپنا لائسنسی اسلحہ بھی متعلقہ تھانوں میں جمع کرانے کی ہدایت کی جو الیکشن کے تین دن بعد واپس کیا جائے گا اور اسلحہ جمع نہ کرانے والے امیدوار کا اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی وارننگ دی گئی اور واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ اسلحہ کی نمائش پر زیروٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جہاں چند مقامات پر اسلحہ کی نمائش یا لڑائی جھگڑے وہاں پولیس اور ضلعی انتظامیہ فوری حرکت میں آئی اور ایک اطلاع کے مطابق12اضلاع میں پانچ مقدمات درج ہوئے اور 25افراد کو گرفتار کیاگیا جس میں مسلم لیگ(ن) کے کارکن بھی شامل ہیں۔ دوسرے مرحلہ میں بھی پاکستان مسلم لیگ(ن) نے میدان مار لیا ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ آج ووٹر بہت سمجھدار ہوگیا ہے اور اب اسے نعروں، وعدوں سے نہیں بہلایا جاسکتا بلکہ وہ اپنی آنکھوں سے ترقیاتی کام ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ نعروں پر کون زیادہ زور لگا رہا ہے اور عملی کاموں پر زیادہ زور کس کا ہے اب تو جو ڈلیور کرے گا وہی جیتے گا۔ یہ کوئی راکٹ سائنس تو نہیں جو کسی کو سمجھ نہ آئے۔۔۔ ’’کرسیوا کھا میوہ‘‘۔۔۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ٹیم اور صوبائی حکومت دونوں کو مبارک ہو۔ اللہ کرے کہ بلدیاتی انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ بھی 5دسمبر کو اسی طرح پُرامن ماحول میں احسن طریقہ سے مکمل ہوتاکہ جمہوری اقدار اور مضبوط ہوں اور جمہوریت کا کارواں آگے بڑھتا رہے۔

مزید : کالم