بروقت کرشنگ سیزن شروع نہ ہونے پر کاشتکاروں نے گڑ بنانے کا عمل شروع کر دیا

بروقت کرشنگ سیزن شروع نہ ہونے پر کاشتکاروں نے گڑ بنانے کا عمل شروع کر دیا

فیصل آباد (بیورورپورٹ) پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم شوگر ملز کی جانب سے بروقت کرشنگ سیزن شروع نہ کئے جانے کے باعث بڑی تعداد میں کسانوں و کاشتکاروں نے گڑ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ اکثر مقامات پر گنے کے کاشتکاروں کا کہنا ہے حالانکہ کین ایکٹ اور قواعد و ضوابط کے مطابق کرشنگ سیزن 15اکتوبر سے شروع ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اونے پونے داموں گنے کی فروخت کے برعکس وہ شوگر ملز مالکان کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے بیلنے نصب کر لیں اور گنے کا گڑ تیار کر لیں۔ انہوں نے بتا یا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ایک بار پھر گڑ اور شکر کا استعمال شروع ہو گیا ہے اور آئے روز اس کی طلب بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس طرح جن علاقوں میں چارے اور بھوسے کی قلت ہے وہاں پر گنے کے چھلکے اور پتے جانوروں کے چارے اور بھوسے کے طور پر بھی استعمال کئے جا رہے ہیں ۔

جس سے کاشتکاروں کو90سے 100روپے فی من کی اضافی رقم حاصل ہو رہی ہے ۔

دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اسی طرح گنے سے گڑ کی تیاری جاری رہی تو آئندہ سال ایک بار پھر چینی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

مزید : کامرس