حکومت نے مقامی اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 416ارب روپے خرچ کئے

حکومت نے مقامی اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 416ارب روپے خرچ کئے

لاہور(کامرس رپورٹر) حکومت نے مقامی اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 416 ارب روپے کے اخراجات کئے ہیں ۔ یہ رقوم رواں سال جولائی اور ستمبر کے درمیان ادا کی گئی ہیں جس سے قرضوں کے معاملے پر معاشی ماہرین کے درمیان تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس رقم نے حکومت کے ٹیکس ریونیو کا دو تہائی حصہ کھایا ہے اور یہ مجموعی وفاقی اخراجات کا آدھا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 864.9 ارب روپے وفاقی حکومت نے خرچ کیا اس میں سے 415.9 ارب روپے قرضوں کی مد میں تھے ۔ اس بات کا انکشاف وزارت خزانہ کی مالیاتی آپریشن سمری میں کیا گیا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرضہ جات کی ادائیگی وفاقی اخراجات کا 48 فیصد بنتا ہے یہ ایک ایسی نسبت ہے کہ گزشتہ مالی سال کے خاتمہ تک 36 فیصد تھی ۔ ریونیو کی مد میں ادائیگیاں 62.5 فیصد رہیں جبکہ ٹوٹل ریونیو 664.3 ارب روپے تھے ۔ جب ان کو ایف بی آر کے مجموعی 600 ارب روپے کے ٹیکس سے موازنہ کیا جائے تو قرضہ جات کی ادائیگی نے ایف بی آر کا 69 فیصد حصہ خرچ کیا ۔ قرضوں کے مجموعی اخراجات پر 396.9 ارب روپے مقامی قرضوں کی سود پر ادا کیا گیا جبکہ 19 ارب روپے غیر ملکی قرضہ جات کے لئے ادا کیا گیا ۔ واضح رہے کہ موڈی کے انواسٹر سروس نے حال ہی میں انتباہ کیا ہے کہ پاکستان کی قرضوں کی برداشت کی طاقت کمزور ہو چکی ہے اس کی وجہ غیر ملکی قرضہ جات کے مہنگے ذرائع ہیں ۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال دو ارب ڈالر درکار ہوں گے تاکہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ اٹھایا جا سکے ۔

مزید : کامرس