مخدوم امین فہیم چل بسے!

مخدوم امین فہیم چل بسے!

سب نے چلے جانا ہے،کوئی بھی یہاں نہیں رہے گا، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر، پیپلزپارٹی کے سینئر ترین رہنما، سروری جماعت کے روحانی پیشوا، ہالا شریف کے گدی نشین مخدوم امین فہیم سرطان کے موذی مرض کے ہاتھوں شکست کھا کر اللہ کو پیارے ہوئے، اُن کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور سوگواروں نے آنسوؤں کی برسات میں اُن کو ہالا میں سپردخاک کر دیا اور اُن کی76سالہ اننگ ختم ہو گئی۔مخدوم امین فہیم حسب نسب والے چند سیاست دانوں میں سے تھے، وہ بے انتہا وفا دار اور ابتدا سے آخر تک اپنی جماعت کے ساتھ منسلک رہے، کوئی جبر اور کوئی لالچ اُن کو پارٹی سے جدا نہ کر سکا اور نہ ہی پارٹی میں ناانصافیوں کا شکار ہونے پر روٹھ کر الگ ہوئے۔وہ ہالا کے مخدوم طالب المولیٰ کے بڑے صاحبزادے تھے اور والد کی پیروی کرتے ہوئے 1970ء سے پارٹی سیاست میں آئے اور مرتے دم تک ساتھ رہے۔1985ء کے انتخابات میں جماعتی فیصلے کے مطابق بائیکاٹ کیا، باقی سب انتخابات لڑے اور مسلسل کامیاب ہوتے رہے، ان کو2002ء میں جنرل(ر) پرویز مشرف وزیراعظم بنانے کا خواب دکھا کر بھی ساتھ نہ ملا سکے اور پھر2008ء میں پارٹی کے اندر وزیراعظم کے عہدہ کی کشمکش کے بعد یوسف رضا گیلانی کے سر پر ہما بیٹھ جانے کی وجہ سے بھی الگ نہ ہوئے اور وزارت قبول کر لی تھی، حالانکہ اِسی جماعت کے معروف حضرات راؤ سکندر اقبال کی قیادت میں ’’پیٹریاٹ‘‘ ہو گئے تھے۔ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ میں اور پھر بعد میں2008ء کے دور میں بھی وفاقی وزیر رہے۔

دورآمریت میں جب مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے لئے جماعتوں کی رجسٹریشن کے قانون میں فوری ترامیم کی گئیں تو مخدوم امین فہیم کی قیادت میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین بنا کر رجسٹریشن کروائی گئی۔ صدر وہ تھے اور ٹکٹوں کا فیصلہ جماعتی قیادت محترمہ بے نظیر بھٹو کرتی رہیں اور ان کے بعد آصف علی زرداری، آج بھی پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ان کے دستخطوں سے جاری ہونے والے ٹکٹ پر پیپلزپارٹی(پارلیمنٹیرین) کے رکن ہیں۔مخدوم امین فہیم بڑے نرم خو اور گداز دِل والے یاروں کے یار تھے، اچھے شاعر بھی تھے اور دھیمے انداز میں گفتگو کرتے، مخالف بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ انہوں نے ایم آر ڈی سے اے آر ڈی تک ہر تحریک میں حصہ لیا اور صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان کے خاندان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پیپلزپارٹی کے قیام کا فیصلہ ہالا میں ایک ورکرز کنونشن کے بعد ان کے والد مخدوم طالب المولیٰ کے ایماء پر وہیں ہوا اور بنیاد رکھنے کے بعد اعلان لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ہوا۔ 1970ء میں مخدوم امین فہیم اپنے والد کی انتخابی مہم میں شامل ہوئے اور سیاست کا آغاز کیا۔ مخدوم طالب المولیٰ ہالا شریف سے پہلے رکن قومی اسمبلی تھے ان کے بعد1977ء سے مخدوم امین فہیم رکن چلے آ رہے ہیں۔ ان کو سرطان کا مرض لاحق ہوا،علاج کے لئے لندن گئے تاہم پھر اپنی خواہش پر پہلے دبئی اپنے صاحبزادے کے پاس اور پھر کراچی آ گئے جہاں ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں وہ گزشتہ روز خالق حقیقی سے جا ملے۔ پارٹی کے لئے ایک بڑا نقصان ہے، دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔

مزید : اداریہ