شوگر بظاہر خطر ناک مرض نہیں لیکن پر ہیز کے بغیرمریض کو لاچار کر دیتا ہے،فاروق چشتی

شوگر بظاہر خطر ناک مرض نہیں لیکن پر ہیز کے بغیرمریض کو لاچار کر دیتا ...

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اور سیکرٹری ہیلتھ پی ٹی آئی پنجاب ڈاکٹر فاروق طاہر چشتی نے اپنے انتخابی حلقہ PP-156کے وارڈ نمبر 5میں ورلڈ ذیابیطس ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کا مرض پاکستان میں وبائی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اور پاکستان میں ہر 10افراد میں سے 4افراد ذیابیطس یعنی شوگر کے موزی مرض میں مبتلا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شوگر بظاہر کوئی خطر ناک مرض نہیں ہے لیکن اس کی وجہ سے ہونے والے امراض مریض کو دن بدن لاغر او رلاچار کر دیتے ہیں اور مریض اندھے پن ، فالج اور گردے فیل ہوجانے جیسے خطر ناک امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق طاہر چشتی نے ذیابیطس کے مرض کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کسان اور زمیندار پیداوار زیادہ حاصل کرنے کے لالچ میں کھادوں کا بے جا اور خطر ناک حد سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اور یہی کھادیں ہماری خوراک میں بہت زیادہ سراعت کرجاتی ہیں جو بعد میں ہمارے جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض کی وجہ بنتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زراعت میں 57%فصلوں کو دیا جانے والا پانی مضرِ صحت ہے اور ایسے کھالوں اور نالوں سے حاصل کیا جاتا ہے جن میں مختلف کمیکلز ملا پانی بہہ رہا ہوتا ہے ۔

یہ مضرِ صحت تیزابی پانی ان پھلوں اور سبزیوں میں شامل ہو کر ہمارے جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہماری روز مرہ کھانے پینے کی خراب عادات ان امراض کی بڑی وجہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روز مرہ کی بے ہنگم مصروفیات اور اس میں ورزش اور روزانہ پیدل چلنے کی عادت کا نہ ہونا بھی شوگر کے مرض میں اضافے کا سبب ہیں ۔ اسی لیے پاکستان میں ذیابیطس وبائی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق طاہر چشتی نے اپنے خطاب میں شوگر کے مریضوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی شوگر کو روزانہ کی بنیاد پر کنٹرول کریں تو وہ عام آدمی کی نسبت بہتر اور آرام دہ زندگی گزار سکتے ہیں اس کے لیے مریض کو مکمل پرہیز کے ساتھ باقاعدگی سے ادویات کا استعمال کرنا چاہیے اور اپنی بلڈ شوگر کو چیک کرتے رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مریض روزانہ پیدل چلنے کی عادت ڈالنے سے اور ورزش کرنے سے ادویات کی مقدار میں کمی لا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق طاہر چشتی نے وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب سے استدعا کی کہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا غریب مریضوں کے لیے پنجاب بھر میں ذیابیطس کنٹرول سنٹر بنائے جائیں جہا ں ان مریضو ں کا مفت معائنہ کیا جائے، مفت شوگر ٹیسٹ کیا جائے اور مفت ادویات فراہم کی جائیں ۔ مارکیٹ میں موجود شوگر کنٹرول کرنے والی ادویات کی قیمتیں انتہائی حد تک کم کی جائیں تاکہ غریب مریض بھی با آسانی علاج کروا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم ایک صحت مند قوم بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور ایک صحت مند قوم ہی ایک ترقی یافتہ ملک بنا سکتی ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4