اعلیٰ پولیس افسران نان کسٹم پیڈ اور مشکوک گاڑیوں کے مالکان کے سر پرست بن گئے

اعلیٰ پولیس افسران نان کسٹم پیڈ اور مشکوک گاڑیوں کے مالکان کے سر پرست بن گئے

 لاہور(وقائع نگار) پولیس افسران کی جانب سے چوری شدہ ،نان کسٹم پیڈ اور جعلی نمبر پلیٹوں کی گاڑیوں کے مالکان کی سرپرستی نے محکمہ اینٹی کار لفٹنگ ،ایکسائز اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ۔سیاسی وابستگی اور کسی بھی پولیس افسر سے تعلق یا رشتہ ہونے پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کرگاڑیوں کو پنجاب بھر میں بغیر کسی روک ٹوک کے لے جانا عام بات بن گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق پولیس افسران کی جانب سے چوری شدہ ،نان کسٹم پیڈ اور جعلی نمبر پلیٹوں کی حامل گاڑیوں کی سرپرستی عام بات بن گئی ہے جبکہ ایسے واقعات بھی عام ہوتے جا رہے ہیں جن میں پولیس افسران کے رشتہ داروں یا سیاسی وابستگی کے حامل افراد کی گاڑیوں کو اگر کسٹم یا پولیس اہلکار پکڑ لیں تو ان کو بعد ازاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق 20نومبر کو ایس پی سیکیورٹی ہائی کورٹ مفخر عدیل کا رشتہ دار جس کا نام ندیم بتایا جاتا ہے وہ اپنی گاڑی میں راوی ٹول پلازہ کے قریب پہنچا جس پر پولیس اورکسٹم اہلکاروں نے اس کو روکا اور کاغذات طلب کیے لیکن اس کے پاس کاغذات نہیں تھے جس پر گاڑی کو بند کر دیا گیا ۔لیکن موصوف نے ایس پی مفخر عدیل کو بلا لیا جنہوں نے گاڑی کو رہا کروا دیا۔بعد ازاں پولیس حکام کی جانب سے نوٹس لینے پر گاڑی کو اینٹی کار لفٹنگ اسکواڈ کے حوالے کر دیا گیا ۔اسی طرح سے گزشتہ روز سگیاں پل پر پولیس اور اینٹی کار لفٹنگ سکواڈکی جانب سے ناکہ لگایا گیا جس میں 41گاڑیوں کے چالان اور 4کو بند کیا گیا لیکن فیصل آباد کے (ن) لیگی رہنما کاشف رندھاوا کی گاڑی جس پر ان کی دوسری گاڑی کی نمبر پلیٹ 100 وائی اے لگی ہوئی تھی کو روکا تو گیا لیکن تعارف کے بعد پولیس نے 420 کا مقدمہ درج کرنے کی بجائے اسے کسٹم حکام کے سپرد کر دیا جنہوں نے دوسری گاڑی کے کاغذات دیکھ کر اس کو چھوڑ دیا جبکہ گاڑی نان کسٹم پیڈ تھی اور اس کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس حوالے سے پاکستان سروے سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ افسران بالا کی جانب سے احکامات آنے پر گاڑی کو چھوڑنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔اور ڈیوٹی کرنے میں دشواری ہوتی ہے اگرکسی گاڑی کو پکڑ لیا جائے تو سفارشات کا لامتناہی سلسہ شروع ہو جاتا ہے ۔

مزید : علاقائی