آدھی آبادی

آدھی آبادی

فرمایا ایک ٹی وی پروگرام کے اینکر نے، وہ قوم کیا ترقی کرے گی، جس کی آدھی آبادی گھروں میں بے کار بیٹھی صرف کھا رہی ہو، وہ واضح طور پر پاکستانی خواتین کی طرف اشارہ کرر ہے تھے، جنہیں ہم ہاؤس وائف کہتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی میں پانچ ،دس فیصد گھرانے ایسے ہوں جہاں خواتین گھروں میں بے کار بیٹھتی ہوں، ان کے آگے پیچھے نوکروں کی قطاریں نہ بھی ہوں تو کم از کم صفائی ستھرائی کے لئے انہیں ملازمہ کی سہولت میسر ہو۔ یہ ایک الگ بحث ہو گی کہ صفائی ستھرائی کے لئے آنے والی بھی ایک عورت ہی ہو گی، باقی نوے فیصد گھرانوں میں عورتیں نوکری کے اوقات کار سے بالاتر ہو کراپنے خاندان کے لئے دن رات کام کرتی ہیں۔ جب ہم مرد عید، بقر عید پر چھٹیاں منا رہے ہوتے ہیں ، ان کے کام کرنے کے اوقات میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ ہم خواتین کی خدمات کو صرف اسی وقت ہی کام کیوں تسلیم کرتے ہیں جب وہ دفاتر، کارخانوں، بازاروں اور کھیتوں میں مشقت کرتی ہیں، ہم گھر وں کے اندر کی جانے والی محنت کو کام کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

معاشرے کی اکائی گھر ہوتاہے ، ایک گھر ایک مرد اور ایک عورت مل کر بناتے ہیں،اس گھر کو چلانے کے لئے جب ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں تومرد کے پاس گھر چلانے اور عورت کے پاس گھر سنبھالنے کی ذمہ داری آتی ہے۔ میرے دوست سوال کریں گے کہ کیا یہ عورت کی عزت ہے کہ وہ گھر میں کپڑے دھوتی، برتن مانجھتی، پوچے لگاتی، کھانے پکاتی اور بچے سنبھالتی رہے، کیا عورت کی تمام صلاحیتیں صرف اس کام میں ضائع ہوجانی چاہئیں کہ وہ کما کے لانے والے ایک مردکو خوش کرنے کے لئے گھر میں پڑی رہے اور میرا جواب یہ ہے کہ جب عورت مقبول ٹی وی پروگرام کے نئے اینکر اور پرانے وکیل کی دلیل کے عین مطابق باہر کام کرکے قومی ترقی میں اپنا کردارادا کرتی ہے، وہ صرف ایک مرد جو یقینی طور پر اس کا دوست، اس کا خاوند ہوتا ہے، اسے خوش رکھنے کے لئے گھر میں نہیں رہتی تو پھر اسے باہر بہت سارے مردوں کو خوش رکھنا پڑتا ہے جو اس کے ارد گرد باسز اور کولیگز کی صورت میں موجود ہوتے ہیں، درخواست صرف یہ ہے کہ یہاں خوش کرنے کو صرف غلط معنوں میں نہ لیا جائے، یہ درست معنوں میں بھی کافی مشکل کام ہے۔

میں نے مردبن کے سوچا، کوئی میرا پیارا مجھے پیش کش کرے کہ میں روزانہ آٹھ ، دس گھنٹے اپنے گھر کے لئے کی جانے والی نوکری چھوڑ دوں، مجھے کہا جائے کہ میں گھر پر رہوں، صبح بچوں کے اٹھنے سے پہلے بستر چھوڑ دوں، ان کے لئے ناشتہ تیار کروں اوراس کے بعد رات کے کھانے کے بعد برتن دھونے تک ڈیوٹی پر رہوں ، سال بھرکوئی چھٹی نہ ہو تو میں اسے قبول نہیں کروں گا مگر دوسری طرف اگر یہ پیش کش ہو کہ میں گھر پر رہوں، کوئی کما کے لائے اور میری ہتھیلی پر رکھ دے تو مجھے اس سے بہتر کچھ نہیں لگے گا، بس بات سمجھنے کی ہے کہ آپ بات کو کس طرح سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح جب آپ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہئے ہیں، اس گاڑی کا چلنا کیسے ممکن ہے اگر ایک پہیہ چل ہی نہ رہا ہو۔ ایک پہیے پر تو سرکس کی سائیکل ہی چلتی ہے۔ میرا کہنا ہے کہ یہ کہاں کاانصاف ہے کہ آپ ایک ایسے پہئے کو ڈبل چلائیں جسے آپ نازک اور کمزور سمجھتے ہیں۔ کیا یہ بات درست نہیں کہ ہمارے دفاتر میں کام کرنے والی ننانوے فیصد خواتین جب گھر پہنچتی ہیں تو انہیں وہ تمام کام بھی کرنے پڑتے ہیں جو ملازمت یا کاروبار نہ کرنے والی خواتین معمول میں کرتی ہیں۔خواتین کو اگر گھر کے کاموں سے وقت مل جائے تو انہیں سجنا سنورنا چاہئے، کوئی فلم دیکھ لینی چاہئے نہ کہ وہ ایک مشقت سے نکلیں اور دوسری شروع ہوجائے۔میری نظر میں تو خواتین کو صرف وہاں اضافی کام کی صورت میں اپنے شوہر سے تعاون کرنا چاہئے جہاں مرد پوری کوشش کے باوجود گھر کا خرچ نہ چلا پا رہا ہو یا دوسرے خواتین کے باہر کام کرنے کی صورت میں انہیں گھر کے کام اکیلے کرنے کے لئے مجبور نہ کیا جا رہا ہو۔ بہترین کمبی نیشن تو یہی ہے کہ گھر کی گاڑی کے دونوں پہئے اپنی اپنی جگہ پرایک جتنا ہی چلیں۔

ابھی بھی بہت سارے لوگ مجھے خواتین کے رٹے رٹائے حقوق کے خلاف قرار دیں گے، وہ حقوق جو بنیادی طور پر فرائض ہیں مگر ہم انتہائی چالاکی سے انہیں حقوق کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ یہ دلیل بھی تو اپنی جگہ پر موجود ہے کہ قومی ترقی کے لئے خواتین کو تعلیم یافتہ بناتے ہوئے جی ڈی پی میں اضافے کے لئے متحرک کرنا ضروری ہے اور میں کہتا ہوں کہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں اب بھی ہر چار میں تین خواتین تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھر بار سنبھال لیتی ہیں۔ ایک لمحے کے لئے ٹھہرئیے گا اور مجھے لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہرگز مت سمجھئے گا کہ میں تو ملالہ یوسف زئی کے کیمپ میں بھی صرف اس لئے کھڑا ہوں کہ اس نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی، میں نے سوچا کہ اگر میں ملالہ کو ملنے والے عالمی اعزازات پر اپنے بہت سارے دوستوں کی طرح تحفظات کا اظہار کروں تو خدانخواستہ ان لوگوں کی صف میں نہ سمجھاجاؤں جو بچیوں کے تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑا رہے تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ترقی پذیر اور محدود وسائل کی حامل قوم کی لڑکیوں کو ان اعداد و شمار کے باوجود پروفیشنل تعلیم کے مواقعے دینے چاہئیں کہ ان کی بھاری اکثریت شادی ہونے کے بعد پروفیشنل لائف سے لاتعلق ہوجاتی ہے ۔ یہ بھاری باصلاحیت اکثریت ان لڑکوں کا بھی عین میرٹ پر رستہ روکتی ہے جو سرکاری تعلیمی اداروں میں کم فیس کے ساتھ پڑھنا اور پھر نوکریاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں درجہ بندی کرنا ہوگی کہ لڑکیاں کس شعبے میں تعلیم حاصل کریں اور اس امر بھی کوئی ضمانت ہونی چاہئے کہ لڑکیوں کو ایم بی بی ایس صرف اچھے رشتے کے حصول کی خاطر نہ کروایا جائے۔

میں کیسے انکار کر سکتا ہوں کہ میرے معاشر ے میں لڑکیوں کا استحصال کرنے والے، ان پر ظلم کرنے والے بھی بہت ہیں مگر میرا اصرار ہے کہ میرے ہی معاشرے میں وہ باپ بھی بہت زیادہ ہیں جو اپنی بیٹیوں سے بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ محبت کرتے ہیں، بھائی غیرت کے نام پر ان کے لئے قتل کرتے اور ہوتے ہیں، شوہر دن بھر محنت مزدوری کرنے کے بعد اپنی تنخواہ بیویوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ میں تو اس معاشرے اور مذہب سے تعلق رکھتا ہوں جہاں باپ کی تمام محنت ، محبت اور قربانیوں کے باوجود آج بھی سب سے محترم رشتہ ماں کا ہی مانا جاتا ہے۔ایسے میں جب کچھ عاقبت نا اندیشوں کی وجہ سے غلط روایا ت اورحوالے جنم لیتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کم عقل کس قوم اور کس علاقے میں نہیں پائے جاتے۔ایک وہ ہیں جو اس قسم کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور دوسرے انتہائی چالاکی اور مکاری کے ساتھ عورتوں کو بے وقوف بناتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں بھی حقوق کے نام پر ان کے سر پر لاد دیتے ہیں۔ میں نے وکی پیڈیا کھولا، وہاں ہاؤس وائف کی ذمہ داریوں کی وضاحت دیکھی تو یقین کریں مزا آگیا۔ مجھے ایک مقبول پروگرام کے نئے اینکرصاحب سے کہنا ہے کہ کیا ہم وکیلانہ چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ہی بہو بیٹیوں کو کڑوا نمک شوگر کوٹڈ کرکے کھلانے کی کوشش نہیں کر رہے۔

مزید : کالم