وزیراعظم پاکستان کو لبرل ریاست بنانے کا اعلان واپس لیں، دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں مطالبہ

وزیراعظم پاکستان کو لبرل ریاست بنانے کا اعلان واپس لیں، دینی جماعتوں کی آل ...

 اسلام آباد (آئی این پی) ملی یکجہتی کونسل کی میزبانی میں دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کو لبرل ریاست بنانے کا اعلان واپس اور ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کی واضح یقین دہانی کرائیں، اے پی سی نے ممتاز قادری کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور ممتاز قادری کیس اسلامی قوانین کی روشنی حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، کانفرنس نے جماعت الدعوۃ کی کوریج پر پابندی ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا، اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو دینی جماعتیں ملک گیر تحریک چلائیں گی۔ ہفتہ کو یہ مطالبات یہاں ایک مقامی ہوٹل میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام دینی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کے 11نکاتی متفقہ اعلامیے میں کئے گئے، اے پی سی میں جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی، جماعت الدعوۃ و دیگر دینی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ متفقہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان باطل طاقتوں کے دباؤ میں آکر پاکستان کولبرل ریاست بنانے کے اعلان کو واپس لیں اور قوم کو دو ٹوک یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ دستور پاکستان اورقیام پاکستان کے متفقہ مقاصد کی روشنی میں پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔حکومت نے شریعت کے خلاف جو اقدامات خود کیے ہیںیا پاکستانی عدالتوں کے ذریعے کروائے ہیں ان کی اصلاح کے لیے فوری اقدامات کرے۔جیسے سود کے استحصال کا مسئلہ غیر ضروری طور پرسرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بنچ کے 1999کے فیصلے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ جیسے سپریم کورٹ پاکستان کے فل بنچ کے حالیہ فیصلے نے دستور میں موجود تمام اسلامی دفعات کی حیثیت کو بری طرح مجروح کردیاہے حالانکہ دستور کی اصل اساس اسلام اور اس میں موجود اسلامی دفعات ہیں جوکہ ناقابل ترمیم ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان اسلامی دفعات کی مسلمہ حیثیت کوبرقراررکھتے ہوئے فل بنچ کے فیصلے پر حکومت خود نظرثانی دائرکرکے اس فیصلے کی اصلاح کروائے۔معاشرے میں میڈیا کے ذریعے بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کا قرآن و سنت کی روشنی میں موثر سدباب کیا جائے اور پیمراکو پابند کیا جائے کہ وہ نظریہ پاکستان کی اساس اور اسلام کے حیاء اور عفت کے نظام کے خلاف اقدامات بند کرے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکٹرانک میڈیا سے بے حیائی کے تدارک اور قاضی حسین احمد مرحوم کی طرف سے دائرکردہ رٹ کا جلد از جلد فیصلہ کروائے۔پیمرا کو پابند کیا جائے کہ وہ دینی جماعتوں بالخصوص جماعت الدعوۃ اور ایف آئی ایف جو خدمت و فلاح کا ادارہ ہے کی کوریج سے پابندی اٹھائے۔ہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے غازی ممتاز حسین قادری کیس میں حالیہ فیصلے کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے مستردکرتے ہیں۔ممتاز قادری کا مسئلہ خالصتاً اسلامی مسئلہ ہے اسے اسلامی اصولوں اورقوانین کی روشنی میں فوری طور پر حل کیا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف جو مواد قانونی پابندی کے باوجود کسی بھی صورت میں شائع ہورہا ہے ا سے ضبط کرے اور اس کو تحریر کرنے اور اسکی اشاعت وتقسیم کرنے والوں کے خلاف موثر قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ پاکستان میں عدل وانصاف کی فراہمی دشوار اور طویل ترین بنا دی گئی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کوفوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے اسلام کانظام قضاء و عدل بالفعل نافذ کیا جائے اور موجودہ عدالتی نظام کی کمزوریوں کو دور کیاجائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف سے دھڑا دھڑ قرض لینے کے بجائے سیاستدانوں ،حکمرانوں اور طبقۂ اشرافیہ کاسرمایہ جوغیرقانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیاگیا ہے اس کو فی الفور واپس لایاجائے تاکہ ملکی معیشت کو خود انحصاری کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ ہم موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دیگر موثر برادر اسلامی ممالک سے مل کر امت مسلمہ کے باہمی مسائل حل کرنے کے لیے فوری پیش قدمی کرے، بالخصوص بھارت ،مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا قتل عام بند کروایاجائے اور پاکستان ،افغانستان، مقبوضہ کشمیر اور بنگلہ دیش میں بھارت کی روز افزوں سازشوں اور جارحیت کے سامنے مضبوط بند باندھا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش میں صلاح الدین چودھری اور علی احسن مجاہد کو دی جانے والی سزائے موت اس معاہدے کے سراسر خلاف ہے جو پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کی حکومتوں کے درمیان 1971کی جنگ کے بعد طے پایا تھا ۔ اس حوالے سے حکومت پاکستان کی خاموشی ایک مجرمانہ غفلت ہے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ہم بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کا احترام پامال کرنے اور فلسطین عوام پر مسلسل ظلم و جبر روا رکھنے پر غاصب صہیونی حکومت کی مذمت کرتے ہیں اور فلسطینی عوام کے تیسرے انتفاضہ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مذکورہ مطالبات پورے نہ کیے تو پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے ہم ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

اسلام آباد، لاہور(آن لائن) پاکستان چار صوبوں کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک عقیدے کا نام ہے۔اگر اس ملک میں ناموسِ رسالتؐ نہیں تو پھر اس ملک کے وجود کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔پاکستان کی خاطر لڑنا، قربانی دینا عظیم جدوجہد ہے۔بنگلہ دیش میں مسلمان قائدین کو آج اسی نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر پھانسیاں دی جارہی ہیں۔قادیانی گروہ اس ملک کے اسلامی تشخص کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہے ۔غربت، افلاس کے ہاتھوں پاکستان کے بڑے شہروں میں خواتین جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ علمائے کرام، دینی قوتیں عوام کو درپیش مسائل پر بھی ضرور بات کیا کریں۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں ملک کی تمام دینی سیاسی جماعتوں کے قائدین، نمائندگان، تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مشائخ عظام ، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے آج جس عزم کا اظہار کیا ہے، اُس پر وہ شاباش کی مستحق ہے۔ پاکستان چار صوبوں کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک عقیدے کا نام ہے۔ پاکستان کی خاطر لڑنا، زندگی قربان کرنا عظیم جدوجہد ہے، اس لیے کہ یہ ملک کلمۂ طیبہ کے متوالوں نے عظیم قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک نظریے کا نام ہے، اور اُس نظریے کی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ آئینِ پاکستان میں واضح طور پر قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء تسلیم کیا گیا ہے، اور حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یہاں پر اسلامی نظریہ حیات کے فروغ اور اس کی ترویج کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ آج بنگلہ دیش میں مسلمان قائدین کو پھانسیاں اسی نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان اور نظریہ اسلام کی جنگ لڑنے والے پھانسی پر چڑھائے جارہے ہیں، لیکن پاکستانی حکومت اور اعلیٰ حکام نے مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خاطر جان دینے والوں پر اس مجرمانہ خاموشی پر اہلِ کشمیر بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں اور انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر اس ملک میں ناموسِ رسالتؐ نہیں تو پھر اس ملک کے وجود کا مقصد ہی فوت ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ناموسِ رسالتؐ کے قانون کے خلاف قادیانی گروہ بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہے، اور انہوں نے حال ہی میں برطانیہ میں ایک کانفرنس کی ہے جس میں قانون ناموسِ رسالتؐ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں پاکستان کے ایک سابق سفیر نے بھی شرکت کرکے کہا ہے کہ بھٹو نے ناموسِ رسالتؐ کا قانون پاس کراکے غلط کام کرایا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے ملک میں بڑھتی ہوئے فحاشی و عریانی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی، عریانی اور سود کے خاتمے کے خلاف بھی آواز اٹھائیں، اور اس مقصد کے لیے مل جل کر جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام ہی دراصل اس ملک کے وارث ہیں، اسی لیے مسلکوں اور فرقہ بندیوں سے بالاتر ہوکر ملک کی ترقی، خوشحالی اور اسے حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے انہیں آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا۔ عوام تبھی ساتھ دے گی جب ہم عوام کو درپیش مسائل کی بھی بات کریں گے۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت کی قرضہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ بین الاقوامی اداروں اور ممالک سے قرض لے کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے انہوں نے کشمیر فتح کرلیا ہو۔ آج ہی خبر آئی ہے کہ حکومت مزید ایک ارب نوے کروڑ قرضہ حاصل کررہی ہے۔ حکومت قرضے پر قرضہ لیتی جارہی ہے اور عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہاہے۔ حکمرانوں کو امریکی یاترا پر فخر محسوس کرنا قابل مذمت ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ روضۂ رسولؐ پر حاضری کے وقت میاں نواز شریف سے دو وعدے لیے کہ فحاشی و عریانی پر پابندی ہو اور ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے، جسے اُنہوں نے قبول کیا لیکن افسوس اس پر اب تک عمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس مطالبے کی پشت پر عوامی احتجاج نہ ہو، وہ مطالبہ بار آور ثابت نہیں ہوتا۔ کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ، جماعۃ الدعوۃ کے رہنما حافظ محمد سعید، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا محمد امجد، امیر جماعتِ اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی، جمعیت علمائے (س) کے پیر عبدالشکور نقشبندی، امین شہیدی، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے رہنما، ثاقب اکبر، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک ، مولانا عبدالجلیل نقشبندی اور دیگر نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔

مزید : صفحہ اول