ضرورت کے مطابق سرمایہ کاری ہو جائے تو کراچی سٹیل ملز منافع بخش ہو جائیگی

ضرورت کے مطابق سرمایہ کاری ہو جائے تو کراچی سٹیل ملز منافع بخش ہو جائیگی

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  پاکستان نے روس کو کراچی سٹیل ملز کے 26 فیصد حصص فروخت کرنے کی جو پیشکش کی ہے، کیا روس اسے قبول کرلے گا؟ یہ ملین ڈالر کا سوال اس لئے ہے کہ اگر روس نے یہ پیشکش قبول کرلی تو پھر اس کو سلیقے سے چلانا بھی ممکن ہوگا، اور ملز کے اچھے دن بھی آجائیں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں سٹیل کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس منصوبے کی وہی اہمیت ہے جو پاکستان صنعت کے لئے تربیلا ڈیم کی ہے، بجلی ہماری ضرورت ہے، وہ اگر تربیلا سے ملے تو بھی اور کسی اور طریقے سے ملے تب بھی، مہنگی ملے یا سستی اپنی صنعتوں کا پہیّہ چلانے کے لئے ہمیں بجلی کی بہرحال ضرورت ہے۔ اس طرح ہمیں اپنی دفاعی ضروریات سمیت اپنی صنعتوں کے لئے سٹیل کی بھی ضرورت ہے۔ روس دنیا کا واحد ملک تھا جس نے پاکستان میں یہ سٹیل مل لگانے اور اسے چلانے کے لئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی، ساری مشینری روس نے دی اور بہت ہی سستے داموں۔ کوئی مغربی ملک اول تو ایسی مشینری دینے کے لئے آمادہ ہی نہ ہوتا اور اگر ہو جاتا تو بہت زیادہ قیمت وصول کرتا۔ جن ملکوں نے اس طرح کی سٹیل ملز لگانے کی حامی بھری انہوں نے اسے چلانے کے لئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے بھی انکار کر دیا اور خود اپنی نگرانی میں ملز چلانے پر اصرار کیا۔ یہ ملز 1985ء میں فنکشنل ہوئی، اس پر سب سے بڑا ’’الزام‘‘ یہ ہے کہ زیادہ تر عرصے کے لئے یہ خسارے میں رہی، اور اگر کوئی منافع کمایا تو بہت تھوڑے عرصے کے لئے، منافع کا عرصہ وہ تھا جب چین میں دنیا کا سب سے بڑا ڈیم زیر تعمیر تھا اور چین کو سٹیل کی مصنوعات کی بہت ضرورت تھی، اس نے دنیا بھر سے خریداری کے لئے پیشگی آرڈر دے رکھے تھے۔ کراچی سٹیل ملز سے بھی اس کی تقریباً ساری پیداوار خریدی جا رہی تھی۔ 2000ء کے بعد پانچ چھ سال کا یہ عرصہ وہ تھا جب سٹیل ملز نے اس لئے منافع کمایا کہ اس کی پیداوار بلٹ وغیرہ مہنگے داموں خریدی جاتی رہی، چینی ضرورت پوری ہونے کے بعد جب عالمی منڈی میں قیمتیں واپس آنا شروع ہوئیں تو خام مال کی قیمت بہت بڑھ چکی تھی، جب سٹیل ملز کو خام مال مہنگا خریدنا، اور اپنی پیداوار سستی بیچنی پڑی تو منافع کا یہ دور بھی ختم ہوگیا، اور ملز دوبارہ برے حالوں میں آگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سٹیل ملز اپنی استعداد کار کے مطابق پیداوار دیتی تو اسے منافع بخش بنایا جاسکتا تھا، لیکن جتنی پیداوار کے لئے اسے بنایا اور ڈیزائن کیا گیا تھا، یہ اس کے نصف پیداوار دیتی رہی، اس کی سالانہ پیداوار گیارہ لاکھ ٹن تھی، جسے بائیس لاکھ ٹن ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ ہو نہ سکا، اور اب یہ عالم ہے کہ اسے سفید ہاتھی سمجھا جا رہا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی سٹیل ملوں کے ساتھ اگر اِس مِل کا موازنہ کیا جائے تو یہ بڑی چھوٹی مل ہے۔ وہ ملیں اگر ہاتھی ہیں تو یہ ہاتھی کا بچہ،یعنی’’ بے بی ایلیفینٹ‘‘ہے لیکن ہم ہاتھی کے اس بچے کو بھی آخر کیوں نہیں چلا پا رہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اس مل کو محض ایک منافع بخش ادارے کے طور پر دیکھنا غلط ہے، یہ ہماری صنعتی بنیاد ہے۔ اسے اسی نظر سے دیکھا جانا چاہئے، لیکن ہم اسے محض منافع کمانے والے ایک ادارے کی طرح دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کی کمزور معیشت کب تک ہر چند ماہ بعد بیل آؤٹ پیکج دینے کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ جو بیل آؤٹ پیکج دیا جاتا ہے، اور جس انداز میں دیا جاتا ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر ہر چند ماہ چند ارب روپے تنخواہوں وغیرہ کے لئے دے دئے جائیں تو اس سے نہ تو 22 لاکھ ٹن سالانہ پیداوار کا ہدف حاصل ہو پائے گا جو اس ادارے کو منافع بخش بنانے کے لئے ضروری ہے اور نہ ہی سٹیل ملز کی عمومی صحت بہتر ہوسکے گی، بیل آؤٹ کے نام پر جو رقم بھی دی جاتی ہے وہ بھی یکمشت نہیں دی جاتی، جب قسطوں میں رقم دی جائیگی تو اس سے بھی کوئی کام نہیں بنے گا، اور ساری مشق اکارت جائے گی۔

پرائیویٹ سیکٹر تو اس مل کو خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، اگر کوئی کنسورشیم وغیرہ بنا کر پرائیویٹ سیکٹر اس ملز کو خرید بھی لے تو ظاہر ہے وہ کتنا عرصہ خسارہ برداشت کرسکے گا؟ وہ تو جلد از جلد منافع کا خواہاں ہوگا، اور جب ملز کی پیداوار سے یہ حاصل نہیں ہوگا تو وہ اس کی قیمتی زمین کو بیچ باچ کر ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔

پرائیویٹ سیکٹر کی پوزیشن سمجھنے کے لئے سٹیل ملز کے سامنے بننے والی الطوارقی سٹیل کی مثال دی جاسکتی ہے جو 2008ء سے مکمل پڑی ہے، لیکن اب تک پیداوار شروع نہیں کرسکی، جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ سٹیل مل لگوانے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا، لیکن اب تک پیداوار اس لئے شروع نہیں ہوسکی کہ اس کام کے لئے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔ سٹیل ملز کی اب تک کی ناکامی اس وجہ سے ہوئی کہ اسے چلانے کے لئے جو رقم درکار تھی وہ اسے کبھی بروقت میسر نہ آسکی۔ اب بھی یہ مل اسی صورت چلے گی، اگر اس کے لئے درکار سرمائے کا اہتمام کر دیا جائے، روس ایسا کرسکتا ہے کیونکہ ایک تو سٹیل مل اس کے ماہرین نے لگائی، دوسرے روس اس کاروبار میں اعلیٰ مہارت رکھتا ہے اور سٹیل کی تمام ضروریات اپنے وسائل سے پوری کرتا ہے، اس سٹیل مل کا پاکستان کو ایک فائدہ یہ ضرور ہوا ہے کہ اس شعبے میں ماہرین کی ایک بڑی تعداد تیار ہوگئی ہے جو اس وقت اندرون اور بیرون ملک خدمات انجام دے رہی ہے۔ یوکرائن میں پاکستان کی اس سٹیل ملز میں خدمات انجام دینے والے انجینئر کام کر رہے ہیں، بہت سا مقامی عملہ ان کے ماتحت خدمات انجام دے رہا ہے۔ ایک زمانے میں چین بھی اس کی خریداری میں دلچسپی رکھتا تھا، لیکن نہ جانے بعد میں کیا ہوا کہ خریداری کی بات آگے نہ بڑھ سکی، اب روس اگر 26 فیصد حصص کی خریداری کا فیصلہ کرلے تو یہ سٹیل ملز کے مستقبل کے لئے بہت بہتر ہوگا، یہ ملز پاکستان کی صنعت کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنی ملک کے دفاع کے لئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت۔ ایک بار اگر اس کی ضرورت کے مطابق سرمایہ کاری ہوگئی تو ملک کے لئے دور رس نتائج نکلیں گے، لیکن معلوم نہیں یہ معاملہ کب حتمی شکل اختیار کرسکے گا۔

مزید : تجزیہ