دہشت گرد پسپا ہوئے، ہار ماننے کو تیار نہیں۔ کراچی میں مقابلے!

دہشت گرد پسپا ہوئے، ہار ماننے کو تیار نہیں۔ کراچی میں مقابلے!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

کراچی میں ہونے والے آپریشن میں کامیابی تو حاصل ہوئی اور بڑی حد تک امن بحال ہوا تاہم دہشت گردوں نے ابھی تک پسپائی اختیار نہیں کی اور مقابلہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی اہلیت بہت کم ہوئی ہے۔ گزشتہ روز کراچی بلدیہ ٹاؤن کی ایک مسجد کے باہر فائرنگ کی گئی، جس سے رینجرز کے چار جوان شہید ہو گئے اس کے اگلے روز دہشت گردوں کا رینجرز سے آمنا سامنا ہوا تو چھ دہشت گرد مارے گئے۔ یوں یہ سلسلہ جاری ہے اور رینجرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وزیرستان میں جنگ جاری ہے۔ دہشت گرد فرار ہو کر سرحد پار کر گئے اور اُدھر سے آ کر حملے کرتے ہیں، ان کے معاونین پاکستان کے شہریوں کی صفوں میں ہیں اور یہاں حساس اداروں کے تعاون سے ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے، اور بہت گرفتاریاں ہوئیں، زیر حراست لوگوں کو تفتیش کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے بعد جو لوگ بے قصور ثابت ہوں ان کو چھوڑ بھی دیا جاتا ہے، قصور وار پائے جانے والے لوگوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بنائے جاتے ہیں۔

اسی حوالے سے فوجی ترجمان نے امریکی دورے کے دوران جنرل راحیل شریف کی گفتگو کو بنیاد بنا کر بیان جاری کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کا پیچھا کیا جائے گا۔ اِسی نوعیت کا بیان وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی دیا۔جنرل راحیل شریف نے امریکہ میں افغانستان کے کردار کا ذکر کیا تو مُلک کے اندر وزیراعظم اور پھر وزیر داخلہ نے بھی یہی بات کہی کہ دہشت گرد سرحد پار کر کے افغانستان چلے گئے وہاں افغان حکومت کو کارروائی کرنا چاہئے۔شاہد ایسے ہی بیانات کی وجہ سے وزیرداخلہ نے دہرایا کہ سیاسی اور عسکری قوتیں ایک صفحہ پر ہیں اور سوچ بھی ایک ہے جبکہ فیصلے باہمی مشاورت سے ہوتے ہیں، اس کے باوجود وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب گزشتہ روز سر جوڑ کر بیٹھ گئے وہ غلط فہمیوں یا میڈیا میں ہونے والی قیاس آرائیوں پر کوئی لائحہ عمل مرتب کرنا چاہتے یا پھر عسکری شعبہ سے سیاسی قیادت کے حوالے سے بات کرنے والے ہیں۔

وزیراعظم محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کے کردار کے حوالے سے جو بات کہی وہ سو فیصد درست ہے، افغانستان حکومت کا اپنا کردار واضح اور شفاف ہو گا تو وہاں امن کو موثر بنایا جا سکے گا اس حوالے سے افغان طالبان سے مذاکرات کے آپشن کو رد نہیں کیا گیا، لیکن پاکستان افغان حکومت کے بامقصد کردار کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم اور حکومت نے روس سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک تعلقات کا جو نیا سلسلہ اور دور شروع کیا، اس کا مقصد اقتصادی راہداری کے موثر استعمال کے علاوہ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل اور بلا روک ٹوک سپلائی جاری رکھنا بھی ہے، اور یہ امن ہی پر منحصر ہے، اور اس کے لئے بھارتی کردار کو بے نقاب کرنا ضروری تھا، جس کے لئے اب کام شروع کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ہماری گزارش مسلسل یہی رہی کہ مُلک کے اندر ایک پُرامن اور دوستانہ ماحول ضروری ہے۔ اس کا بھی تمام تر انحصار حکومت پر ہے جو کچھ دینے کی پوزیشن میں ہو اسی پر ذمہ داری بھی زیادہ آتی ہے۔ حکمرانوں کو غور کرنا اور یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اپنے تئیں جو بھی کوشش کر رہے ہیں اس کی کامیابی کا تمام تر انحصار خود پاکستان کے اندر امن اور افغانستان کے رویے اور اس مُلک کے استحکام سے ہی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لئے باتوں کی بجائے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا، افغانستان کے لئے امریکہ اور نیٹو کا کردار اہم ہے، اور یہ بہتر راستہ ہے کہ امریکہ سے کُھل کر بات کی جائے، جو ہو رہی ہے، لیکن مُلک کے اندر کے معاملات دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کو بہت زیادہ فعال بنانا ہو گا اور جمہوری آمریت کے الزام کو دھونا ہو گا، تمام امور پارلیمنٹ میں زیر بحث آ کر اتفاق رائے سے فیصلوں کی کوشش کریں، اس کے لئے حکومتی اراکین کو خود الزام تراشی اور باہر بات کرنے سے رُکناہو گا اور ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ پارلیمانی جماعتیں پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں اور عملی طور پر ایسا کریں، اس کے لئے تحریک انصاف سے تعلقات کار قائم کرنے کی ضرورت ہے اور پیپلزپارٹی کے تحفظات پر ان سے بات کر کے وضاحت بھی ہونا چاہئے، وقت بہت نازک ہے۔ منصوبے بڑے ہیں ان سب کا انحصار امن پر ہے اور امن خواہش سے نہیں عمل سے ہو گا اور اس عمل کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو بھی ایک صفحہ پر آنا ہو گا کہ مُلک کے خیر خواہ اور بدخواہوں کا بھی فیصلہ ہو جائے۔

مزید : تجزیہ